مهدویت

سوال:کون سی چیزیں مھدویت کے لئے خطرہ ہیں؟

ایک مختصرجواب

 مھدویت کو جن خطرات کا سامنا ہے،  اگر چہ وہ بہت زیادہ ہیں لیکن ہم یہاں پر صرف تین اہم خطروں کی جانب اشارہ کریں گے:

 ا۔ اگر سب سے بہترین قانون، نااھل نافذ کرنے والے کے ہاتھوں میں آئے ، اگر سب سے قیمتی چیزیں نا اھل افراد کے ہاتھ لگ جائیں تو نہ ہی قانون قانون رہے گا اور نہ قیمتی چیز قیمتی چیز رہ جائے گی ، مھدویت بھی اس قانون سے مستثنی نہیں ہے۔ جھوٹے مدعی وہی فاسد اور شاطر اور نااھل افراد ہیں جو مھدویت کے قیمتی گوھر کو اپنے جھوٹے اور پست ادعا کے ذریعے آفتوں کی نظر کرتے ہیں اور اسے نقصان پہنچادیتے ہیں۔

اس طرح وہ شیعیت کے دشمنوں اور وھابیوں کے لیے بہانہ فراھم کرتے ہیں-

۲۔ جہالت: ایک اور چیز جو ہمیشہ حقیقت کے لیے خطرہ بنی رہتی ہے وہ دوستوں کی جہالت اور نادانی ہے جو خطرے کا سبب بنتی ہے ، آج کل واضح طورپر جاھل اور نادان دوستوں کی طرف سے خطرہ محسوس کیا جاتا ہے ، جو انتظار کے نام سے مھدویت کی فکرکو نقصان پہنچادیتے ہیں۔ ایسے نادان لوگ جو انتظار کے نام سے ظلم و ستم کے مقابلے میں خاموش اور تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور دشمںوں کی حمایت کرتے ہیں ، یہ لوگ کبھی کبھی  کچھ علامتوں کو دیکھ کر ظاھری طورپر حقیقی منتظروں کےلیے ظہور کی تاریخ کو قریب الوقوع قرار دے کر ظہور کی خوشخبریاں دیتے رہتے ہیں۔ ہماری روایات میں ظہور کے لیے اس طرح وقت معین کرنے کی مذمت کی گئی ہے ، بلکہ ان کا یہ کام منتظروں کے دلوں میں نا امیدی اور یاس پیدا کرتا ہے۔

۳۔ دنیا پرستی : بے شک جو حقیقی عاشق ہے وہ نہ صرف اپنے معشوق سے بے گانہ ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو معشوق کی چاھت کے مطابق چلاتا ہے اس لئے یہ جملہ کہا گیا ہے کہ مصلح کے منتظر کو خود صالح ہونا چاھیئے۔

 " انتظار" عام طور پر اس کی حالت کو کہا جاتا ہے جو موجودہ حالت سے پریشان ہو اور اس حالت کی بہتری کے لیے کوشش اور اقدام کرے مثال کے طور پر وہ بیمار جو صحت یاب ہونے کا انتظار کرتا ہے یا وہ باپ جو سفر پر گئے اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظار کرتا ہے ، یہ بیماری اور فرزند کی دوری سے غمگین ہے اور بہتر حالت کی کوشش کرتا ہے۔

تفصیلی جوابات

ایک جامع جواب تک پہنچنے کےلیے پہلے ضروری ہے کہ مھدویت کی تعریف کی جائے پھر اس کے خطرات اور آفات جو اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں پر بحث کریں۔

مھدویت: حضرت مھدی کے وجود پر اس طرح اعتقاد رکھنا کہ وہ بارھویں امام ہیں جو خدائی امر و مصلحت سے ابھی پردہ غیب میں ہیں اور ایک دن وہ ظہورفرماکر دنیا کو جو ظلم و ستم سے بھر گئی ہوگی، عدل و انصآف سے بھر دیں گے اور اس اما م کے شیعہ اس دن کے انتظار میں ہیں۔

 راوی کہتا ہے کہ میں نے امام رضا )ع( سے انتظار فرج کے بارے میں پوچھا تو حضرت نے فرمایا: فرج ایک آسانی ہے ، کتنا اچھا صبر کرنا اور انتظار فرج کرنا" [1]

دنیا میں ہر چیز کی ایک آفت ہے جو اس کو ختم کرتی ہے[2] اسی لئے ہر چیز  کو آفت اور تباہ و بربادی سے بچانے کے لیے سب سے پہلے اس آفت کو پہچاننا ضروری ہے پھر اس آفت کو ختم کرنے کےلیے اقدام کرنا چاھیئے ، جو امور مھدویت کے لیے خطرہ جانے جاتے ہیں وہی آفات ہیں جو ھر چیز کو نقصان پہنچادیتی ہیں اگر چہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ہم صرف تین کی طرف اشارہ کریں گے:

 ۱۔ حضرت علی )ع( ایک روایت میں فرماتے ہیں : ھر چیز کے لیے آفت ہے اور خیر کی آفت برے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے[3]

 ۲۔ اگر سب سے اچھا قانون غیر شایستہ نافذ کرنے والے کے ہاتھ لگے اگر سب سے قیمتی چیز نا اھل کے ہاتھ آئے تو نہ قانون پر عمل در آمد ہوگااور نہ وہ قیمتی چیز باقی رہے گی، مھدویت بھی اس قانون سے الگ نہیں ہے جھوٹے مدعی وہی فاسد اور شاطر اور نا اھل افراد ہیں جو مھدویت کے قیمتی جوھر کا لبادہ اوڑھ کر ، اسے اپنے پست ادعا کی آفت سے نقصان پہنچادیتے ہیں اور یہ شیعہ  دشمن عناصر ہیں اور وھابیوں کے لیے بہانہ پیش کرتے ہیں، البتہ یہ ادعا ہی اس عقیدے کی حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ ہمیشہ جعل واقعیت کے پیچھے پیچھے ہوتا ہے مثال کے طور پر ۲۰۰۰ ھزار روہپہ کا نوٹ کبھی وضع نہیں ہوا ہے ، پس ادعای مھدویت نہیں ہونا چاھیئے تھا۔

۲۔ جھالت: جو امر ہمیشہ حقیقت کو نقصان پہنچادیتا ہے وہ دوستوں کی جہالت اور ان کی نا آگاھی ہے۔

 امام علی)ع( فرماتے ہیں: دو آدمیوں نے میری کمر توڑ دی ہے بے عمل عالم، اور عبادت گزار جاھل۔ پہلا اپنی بے عملی سے لوگوں کے عقیدے کو نقصان پہنچادیتا ہے اور دوسرا اپنی بیوقوف عبادتوں سے لوگوں کو دھوکا دیتا ہے -[4]

آج کل ہر کوئی واضح طورپر نا آگاہ اور جاھل دوستوں کے خطرے کو مشاھدہ کرتا ہے، جو انتظار کے نام سے مھدویت کی فکر پر کتنی کاری ضرب لگادیتے ہیں۔ جو انتظار کے نام سے ظلم و ستم کے مقابلے میں خاموش رہتے ہیں اور دشمن کی حمایت کرتے ہیں، یا ھر مرتبہ کچھ مدت کے بعد ظہور کے چند ظاہری نشانات اور علائم دیکھ کر منتظروں کو قریب الوقوع ظہور کی تاریخ کی خوشخبری دیتے ہیں جبکہ ظہور کے لیے اس طرح کے وقت معین کرنے کی روایات میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کام حضرت مھدی )عج( کے منتظروں کے لیے ناامیدی اور یاس کا سبب بنتا ہے۔

 فضل بن یسار کہتا ہے میں نےحضرت امام باقر )ع( کی خدمت میں عرض کی کہ کیا اس امر )ظہور امام زمانعج کے لیے کوئی خاص وقت معین ہے ، فرمایا: وقت مقرر کرنے والے جھوٹ کہتے ہیں ، ایک مرتبہ پھر کہا ، وقت معین کرنے والے جھوٹ بولتے ہیں، بے شک جب موسی اپنے پروردگار کی دعوت سے کوہ طور پر گئے اور ان سے تیس دن کا وعدہ کیا جب خدا نے تیس دن کے اوپر اور دس دن زیادہ کئے تو ان کی قوم نے کہا: جو وعدہ موسی نے ہم سے کیا انھوں نے اس کی خلاف ورزی کی اور انہوں نے جو  چاھا کیا۔[5]

ج: دنیا پرستی ، بے شک جو صحیح معنوں میں عاشق ہے وہ نہ صرف اپنے معشوق  سے بے گانہ نہیں ہے بلکہ اپنے آپ کو معشوق کی چاھت کے مطابق قرار دیتا ہے [6] اسی لئے کہا گیا ہے مصلح کے منتظروں کو خود صالح ہونا چاھیئے۔

انتظار: عام طور پر اس کی حالت کو کہا جاتا ہے جو موجودہ حالت سے غمگین ہو اور بہتر حالت کی کوشش کرتا ہے مثال کے طور پر جو بیماری سے صحت یاب ہونے کے لیے کوشش کرتا ہے اور جو باپ اپنے فرزند کے لوٹنے کا انتظار کرتا ہے جو سفر پر گیا ہے یہ دونوں بیماری اور فرزند کی دوری سے پریشان ہیں اور بہتر حالت کے لیے کوشش کرتے ہیں۔

 اسی طرح وہ تاجر جو بازار کے اتار چڑھاو سے پریشان ہے اور اقتصادی بحران کے ختم ہونے کا انتظار کرتا ہے  اس پر یہ دو حالتیں طاری ہوتی ہیں، موجودہ حالت سے پریشانی اور "بہترحالت کی کوشش" اس بناء پر انتظار کا مسئلہ  اور حضرت مھدی کی حکومت حق اور عدل  اور عالمی مصلح کے قیام، اصل میں دو عنصر سے مرکب ہیں۔ ایک عنصر "منفی" دوسرا عنصر "مثبت" ہے،  منفی عنصر وہی موجودہ حالت سے پریشانی ہے اور مثبت عنصر  بہتر حالت کےلئے کوشش ہے اگر یہ عنصر انسان کی روح کی گہرائیوں میں داخل ہوجائے تو یہ وسیع اعمال انجام دینے کا سبب بنے گا ، یہ دو طرح کے اعمال مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ ظلم و ستم کے کارندوں سے ھر طرح کے تعاون اور ھم آھنگی کو ترک کرنا بلکہ ان کے خلاف آواز اٹھانا۔

۲۔ خود سازی اور تھذیب نفس ، اور اپنی مدد کرنا اور جسمانی، روحانی، اور معنوی مادی طور پر اس واحد عالمی حکومت کی تشکیل کے لیلے مدد کرنا جب گہری نظر سے دیکھیں گے تو اس کے دونوں عناصر سازندہ اور بیدار اور آگاھی کی حرکت کے عامل بن جائیں گے۔[7]

اس سلسلے میں مزید مطالعہ کے لئے مندرجہ ذیل عناوین  ملاحظہ فرمائیں:

علامت ھای ظھور، 4800، )سایٹ نمبر ur5105 (

علائم ظھور امام زمان 3366 ) ur3653 (

تعیین زمان ظھور امام زمان ، سایٹ ۸۹۰۸(

 


[1]  بروجردی ،سید محمد ابراھیم ، تفسیر جامع ، ج ۳، ص ۲۹۳، و ۲۹۴، انتشارات صدر، تھران، طبع ششم ، ۱۳۶۶ ش۔

[2]  پابند، ابو القاسم ، نھج الفصاحۃ ، مجموعہ کلمات قصار حضرت رسول )ص( ناشر دنیای دانش، تھران، چاپ چھارم، ۱۳۸۲ش۔

[3]  تمیمی آمدی، عبد الواحد بن محمد ، غررالحکم و درر الکلم، ص ۴۳۱، ۹۸۴۳، انتشارات دفتر تبلیغات ، قم، ۱۳۶۶، ھ۔

[4]  کراجکی ، ابو الفتح ، معدن الجواھر، ص ۲۶، کتابخانہ مرتضویہ ، تھران، ۱۳۹۴ ھ۔

[5]  فھری زنجانی، سید  احمد ، غیبت نعمانی، ، فھری، ص ۳۴۷، ۳۴۶۔ ناشر دار الکتب الاسلامیۃ ، تھران، طبع چھارم ، ۱۳۶۲۔ش

[6]  حضرت امام صادق )ع( سے منسوب ایک شعر میں آیا ہے: لو کان حبک صادق،لان المحب لمن یحب مطیع۔

[7]  مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ ، ج ۷، ص ۳۸۱، ۳۸۲،ناشر دار الکتب الاسلامیۃ ، تھران، طبع اول ، ۱۳۷۴ھ۔

مهدویت

سوال .ائمہ اطہار{ع} میں سے کون سے امام دعائے فرج کو ذاتی طور پر پڑھتے تھے؟

جواب: لفظ "فرج" {"ف" اور "ر" پر زبر کے ساتھ} لغت میں، غم و اندوہ سے رہائی اور آرام و آسائش کے معنی میں ہے[1]، اور احادیث کی کتابوں میں فرج اور آرام و آسائش حاصل کرنے کے لیے جو دعائیں اور اعمال ذکر کیے گیے ہیں، ان ہی لغوی معنی کے پیش نظر ہیں۔

ہم یہاں پر "دعائے فرج" اور "نماز فرج" کے بارے میں صرف تین موارد کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

۱ پیغمبراکرم{ص} سے ایک دعا نقل کی گئی ہے اور اسے "دعائے فرج" بھی کہتے ہیں: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ يَا مَنْ عَلَا فَقَهَرَ..."[2]

۲۔ وہ دعا، جو "دعائے فرج امام زمانہ عج" کے نام سے مشہور ہے اور اس میں " فرجاً عاجلاً"[3] کی عبارت آئی ہے اور "أللٌهُمَ (إلهِی) عَظُمَ البَلاءُ وَبَرِحَ الخَفَاءُ..." سے شروع ہوتی ہے[4]۔

۳۔ امام علی{ع} سے نقل کی گئی ایک نماز کا نام "نماز فرج" ہے[5]۔

لیکن "اللھم کن لولیک الفرج"۔ ۔ ۔ نام کی دعا ، اس کے معنی کے پیش نظر، دعائے فرج نہیں ہے، بلکہ ان دعاوں میں سے ہے جسے شیعہ حضرت امام زمانہ{عج} کے لیے پڑھتے ہیں اور رمضان المبارک کی ۲۳ ویں شب کے اعمال میں شمار ہوتی ہے۔ البتہ جب بھی امام زمانہ{عج} کی یاد آئے اس دعا کو پڑھا جا سکتا ہے[6]۔

 


[1]. ابن منظور، محمد بن مكرم، لسان العرب، ج 2، ص 343، واژۀ «الفَرَج»، نشر دار صادر، بیروت، طبع سوم، 1414ھ؛ طریحی، فخر الدین، مجمع البحرین، محقق و مصحح: حسینی، سید احمد، ج 2، ص 322، نشر کتابفروشی مرتضوی، تهران، طبع سوم، 1416ھ.

[2].ابن طاووس، علی بن موسی،مهج الدعوات و منهج العبادات،ص 90، دار الذخائر، قم،طبع اول، 1411ھ.

[3]. البتہ، دوسری جگہ پر دعا ، تھوڑے سے فرق کے ساتھ آئی ہے کہ " نماز امام زمانہ{عج} کے بعد پڑھی جاتی ہے؛ (ملاحظہ ہو: شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعه،ج 8، ص 18، مؤسسه آل البیت (ع)، قم، طبع اول، 1409ھ.).

[4]. عاملى كفعمى، ابراهيم بن على، ‌المصباح - جنة الأمان الواقية و جنة الإيمان الباقية، ‌ص 176، نشر دار الرضی، قم، طبع دوم، 1405ھ.

[5].طبرسی، حسن بن فضل،مکارم الاخلاق ،ص329، شریف رضی، قم،طبع چهارم، 1412ھ.

[6].شیخ طوسی، محمد بن الحسن، تهذیب الاحکام، محقق و مصحح: خرسان، حسن الموسوی، ج3، ص103، دار الکتب الاسلامیة، تهران، طبع چهارم، 1407ھ؛ مفاتیح الجنان، اعمال ماه مبارک رمضان، دعای شب بیست و سوم.

مهدویت

سوال .کیا امام زمانہ (عج) کی طرف سے اس قسم کا کوئی حکم ہے کہ: اگر آپ میری انتظار میں ہوتو ہر نماز اور ہر دعا سے پہلے پڑھنا چاہئیے:" اللھم عجل لولیک الفرج"

جواب .روایتوں کے منابع میں تحقیق و جستجو کرنے کے بعد ہم نے اس قسم کی کوئی روایت نہیں پائی ہے۔ لیکن اس کے مشابہ ایک  روایت ہے جس کا مضمون یہی ہے۔ امام (عج) فرماتے ہیں: «أَکْثِرُوا الدُّعَاءَ بِتَعْجِیلِ الْفَرَجِ فَإِنَّ فِی ذَلِکَ فَرَجَکُمْ»؛[1] تعجیل فرج کے لئے کافی دعا کرنا کہ اسی میں آپ کے لئے فرج اور آرام و سکون ہے۔"
 
 

[1]. شیخ صدوق، محمد بن على‏، کمال الدین و تمام النعمة، ج ‏2، ص 485، تهران، دار الکتب الاسلامیة، طبع  دوم، 1395ق.

 

معاشیات

 
 

معاشیات و تجارت باب

معاشیات یا اقتصادیات (Economics) معاشرتی علوم (Social Sciences) کی اہم ایک شاخ ہے جس میں قلیل مادی وسائل و پیداوار کی تقسیم اور انکی طلب و رسد کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ عربی اور فارسی میں رائج اصطلاح اقتصادیات اردو میں معاشیات کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ معاشیات کی ایک جامع تعریف جو کہ روبنز (Lionel Robbins) نے دی تھی کچھ یوں ہے کہ 'معاشیات ایک ایسا علم ہے جس میں ہم انسانی رویہ کا مطالعہ کرتے ہیں جب اسے لامحدود خواہشات اور ان کے مقابلے میں محدود ذرائع کا سامنا کرنا پڑے۔ جبکہ ان محدود ذرائع کے متنوع استعمال ہوں'۔ معاشیات آج ایک جدید معاشرتی علم بن چکا ہے جس میں نہ صرف انسانی معاشی رویہ بلکہ مجموعی طور پر معاشرہ اور ممالک کے معاشی رویہ اور انسانی زندگی اور اس کی معاشی ترقی سے متعلق تمام امور کا احاطہکیا جاتا ہے اور اس میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور انسانی فلاح جیسے مضامین بھی شامل ہیں جن کا احاطہ پہلے نہیں کیا جاتا تھا۔ معاشیات سے بہت سے نئے مضامین جنم لے چکے ہیں جنہوں نے اب اپنی علیحدہ حیثیت اختیار کر لی ہے جیسے مالیات، تجارتاور نظامت ۔ معاشیات کی بہت سی شاخیں ہیں مگر مجموعی طور پر انہیں جزیاتی معاشیات (Microeconomics) اور کلیاتی معاشیات (Macroeconomics) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

فہرست

·     1 معاشیات کا ارتقاء اور تاریخ      

·     2 معاشیات کی بنیادی شاخیں

·      3 اہم مکاتب فکر

·       کلاسیکی معاشیات (Classical economics)

o      نو کلاسیک

                   (Neo-classical economics)                3.3 کینزی معاشیات (Keynesian economics)

o       3.4 مارکسی معاشیات (Marxian economics)

o         3.5 نقدی معاشیات (Monetarist economics)

o        3.6 آسٹروی معاشیات (Austrian economics)

 4 معروف ماہرین معاشیات

 معاشیات کا ارتقاء اور تاریخ

اگرچہ معاشیات کی تحریریں کافی قدیم زمانے سے ملتی ہیں مگر وہ کتاب جو باقاعدہ معاشیات کی

پہلی طبع شدہ کتاب سمجھی جاتی ہے، آدم سمتھ (Adam Smith) کی مشہور کتاب 'دولتِ اقوام'

 (Wealth of Nations) ہے جو 1876ء میں چھپی تھی۔ اس وقت معاشیات کو بطور علیحدہ

مضمون کے شناخت نہیں کیا جاتا تھا مگر 1876ء سے بھی پہلے مختلف جریدوں میں معاشیات

سے متعلق تحریریں موجود ہیں مثلاً تھامس من (Thomas Munn) کے بین الاقوامی تجارت سے

متعلق مضامین کا تعلق سولہویں صدی سے ہے۔ معاشی نظریات اسلامی دور میں بھی موجود تھے

 اور یونانی دور میں بھی مگر علیحدہ مضمون کی حیثیت سے ترقی اسے اٹھارویں صدی میں ہی

آ کر ہوئی۔ معاشیات کو اس کا علیحدہ نام (انگریزی میں Economics ۔ فرانسیسی میں Sciences

économiques) سن 1876ء کے کچھ بعد ملا۔ پہلی کتاب جو باقاعدہ اس نام کے ساتھ چھپی وہ الفرڈ 

 مارشل (Alfred Marshall) کی کتاب اصولِ معاشیات (Principles of Economics ) تھی جو

 1890ء میں طبع ہوئی۔ مگر معاشی نظریات کو ہم تین بنیادی ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلے  

دور میں عموماً یونانی، رومی اور عربی (اسلامی) نظریات شامل سمجھے جاتے ہیں۔ دوسرے دور

 میں چودھویں صدی کے بعد سے اٹھارویں صدی کے نظریات کو داخل کیا جاتا ہے جیسے تاجرانہ

نظریات (mercantilist views) اور تیسرے دور میں آدم سمتھ اور اس کے بعد کے نظریات کو شامل

کیا جاتا ہے۔ تیسرا دور ہی اصل میں معاشیات کی صحیح معنیٰ میں ترقی کا دور ہے جس میں جدید

معاشیات کی بنیاد پڑی اور معاشیات کو ایک الگ مضمون کی حیثیت دی گئی۔ اسی تیسرے دور میں

 مختلف مکاتبِ فکر ن جنم لیا مثلاً کلاسیکی، نو کلاسیکی وغیرo

 معاشیات کی بنیادی شاخیں

معاشیات کے علم کو بطور مجموعی دو بنیادی شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

  • جزیاتی معاشیات (Microeconomics): اس میں انفرادی درجہ پر معاشی تجزیہ کیا جاتا ہے
  •  
  •  جیسے کسی شخص، کارخانہ، شراکت، صارف یا گھر وغیرہ کا تجزیہ کیا جائے۔ اس کی بہت
  •  
  •  سی شاخیں ہیں مثلاً رویہ صارف، فلاحی معاشیات،تجارتی معاشیات، صنعتی تنظیم، معاشیاتِ

           خاندان وغیرہ۔

  • کلیاتی معاشیات (Macroeconomics): اس میں معاشرہ کا اجتماعی درجہ پر تجزیہ کیا جاتا ہے
  •  
  •  جیسے کسی ملک کی آمدنی اور شرحِ نمو یا بین الاقوامی تجزیات وغیرہ۔ اس کی بہت سی شاخیں
  •  
  •  ہیں مثلاً معاشی ترقی، بین الاقوامی معاشیات، معاشیاتِ آبادی وغیرہ۔

 اہم مکاتب فکر

معاشی نظریات کا تعلق نظریات کے ساتھ ہے وقت کے ساتھ نہیں مثلاً کلاسیکی معاشی نظریات

دو سو سال پہلے بھی تھے اور آج بھی کوئی ویسے نظریات رکھے گا تو اسے کلاسیکی ماہرِ

معاشیات ہی کہا جائے گا۔ نظریات کے لحاظ سے جدید دور کی معاشیات کو عموماً چند نظریاتی 

 جماعتوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جو درج ذیل ہیں۔ 

کلاسیکی معاشیات (Classical economics) 

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں معاشیات کے بارے میں مخصوص نظریات رائج تھے۔ اس وقت

 معاشیات کو معیشتِ سیاسی (Political economy) کہا جاتا تھا۔ اس کے ابتدائی دور میں یہ وہ وقت 

 تھا جب معاشیات کو ابھی علیحدہ مضمون کی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی اور معاشیات کے نئے  

نظریات دینے والوں میں نہ صرف معاشیات کے ماہر بلکہ فلسفی، ریاضی دان، علومِ سیاسیہ کے  

ماہر اور دیگر مفکرین شامل تھے۔ معاشی نظریات یہ تھے کہ معیشت کو منڈیاں چلاتی ہیں اور 

 معیشت میں خود بخود ایک توازن پیدا ہو جاتا ہے یا متوازن کیفیت کی طرف معاشی متغیراتکا

رحجان ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر چیز کی ایک قدر ہوتی ہے اور یہ قدر یا قیمت ہی ہے 

 جس کی وجہ سے معیشت چلتی ہے اور یہی میکانیاتِ قیمت ہی ہے جس کی وجہ سےصرف، 

 پیداوار، طلب و رسد جنم لیتی ہیں۔ معیشت میں خود بخود مکمل روزگار جنم لے سکتا ہے اور 

 رسد اپنی طلب خود پیدا کر لیتی ہے۔ بعض مفکرین یہ بھی سمجھتے تھے کہ اشیاء کی قیمتیں اس 

 بات سے متعین ہوتی ہیں کہ ان پر محنت کے کتنے گھنٹے یا وقت صرف ہوا ہے۔ وہ یہ بھی  

سمجھتے تھے کہ حکومت یا کسی بھی طاقت کی معیشت میں مداخلت نہیں ہونا چاہئے اور معیشت 

 کو مالیاتی تدابیر(Fiscal policy) کی نسبت قدری تدابیر (Monetary policy) سے اختیار میں 

 لایا جا سکتا ہے۔
کلاسیکی ماہرینِ معاشیات میں آدم سمتھ، جون سٹوارٹ مِل، تھامس مالتھس اور ڈیوڈ ریکارڈو جیسے

نام شامل ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے مشہور کتاب آدم سمتھ کی 'دولتِ اقوام' کو سمجھا جاتا ہے 

 جو 1876ء میں چھپی تھی۔ 

 نو کلاسیکی معاشیات (Neo-classical economics) 

کلاسیکی معاشیات میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ بنیادی طور پر معاشیات دولت کا علم ہے مگر نو کلاسیکی معاشیات میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاشیات دولت کا نہیں بلکہ انسانی رویہ سے تعلق رکھنے والا علم ہے۔ یہ انسان کے معاشی رویہ کا تجزیہ کرتا ہے جس میں انسان کی خواہشات بہت زیادہ ہوتی ہیں اور ان کو حاصل کرنے کے ذرائع کمیاب ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے انسان کو ان محدود ذرائع کے استعمال کو چننا ہوتا ہے۔ زیادہ اہم خواہشات یقیناً پہلے پوری ہوتی ہیں۔ یعنی دولت کو صرف اس لیےزیرِ بحث لایا جاتا ہے کہ وہ انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جدید معاشیات کی بنیادبھی انہی نوکلاسیکی معاشیاتی نظریات پر ہے جس میں وسائل و ذرائع کے مستعد ترین (efficient) استعمال پر بحث ہوتی ہے۔ یعنی انسانی فیصلے لاگت اور قیمت پر انحصار کریں گے۔ نوکلاسیکی نظریات کے مطابق بنیادی بات یہ ہے کہ قیمت، پیداوار اور آمدنی کی تقسیم جیسے فیصلے رسدو طلب کی مدد سے ہوں گے۔ صارف کی کوشش یہ ہوگی کہ افادہ کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائےاور شرکت (Firm) کا مطمعِ نظر اپنے سرمایہ پر منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہے۔مجموعی طور پر نوکلاسیکی معاشیات کی بنیاد تین مفروضات پر ہے۔

  • انسان عاقلانہ (Rationally) انداز میں اپنے فیصلے کرتا ہے۔ اور اس کے زہن میں ان فیصلوں
  •  
  •  کے ممکنہ نتائج کے بارے میں کچھ قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔
  •  
  • صارف کی کوشش یہ ہوگی کہ افادہ کو زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جائے اور شرکت (Firm)
  •  
  •  کا مطمعِ نظر اپنے سرمایہ پر منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ہے۔
  •  
  • انسان اپنے فیصلے آزادانہ طور پر متعلقہ مواد اور مکمل معلومات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

نوکلاسیکی معاشیات دانوں میں ابتدائی ناموں میں ولیم جیون (William Stanley Jevons)، کارل مینجر

 (Carl Menger)، لیوں والرس (Leon Walras)، جیریمی بینتھم (Jeremy Bentham) اور

الفریڈ مارشل (Alfred Marshall) جیسے نام شامل ہیں۔ 

فارش اے نورتاریخ دان اور ماہرِ سیاسیات ہیں۔ ان کا تعلق ملائشیا سے ہے اور وہ برلن کے زینٹرم

ماڈرنر اوریئنٹ میں رہتے ہیں۔ وہ ایک تحقیقی ویب سائٹ www.othermalaysia.org .کے بانیوں  

میں بھی شامل ہیں۔ 

14اسلام اوراس دور میں تجارت کی بات کرنا تو جیسے فیشن بن گیا ہے۔ تاہم اسلام اور اقتصادیات، 

 کاروبار، بینکنگ، مالیات اورانٹر نیٹ پر خصوصی طور پرمسلمانوں کیلئے بنائی گئی مصنوعات 

 کی فروخت پر ایک نظر ڈالنےسے پتہ چلتا ہے کہ مسلم کامرس تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ اہم بات

 یہ ہے کہ یہ سب کچھ پچھلے دو عشروں سے ہورہا ہے اور شائد ہی کسی نےاس پر توجہ دی ہو۔ 

60 ء کے عشرے میں مسلم دنیا کئی طرح کے احیأ کے تجربے سے گزری تھی۔ بلا مبالغہ اس

 کرہ ارض پر موجود مسلم اکثریت والے ہر ملک کو نو آبادیاتی نظام کے بعد حکمرانی کے بحران

 سے گزرنا پڑا جب مسلم معیشتوں کو یہ احساس ہوا کہ انہیں ہر شئے باہر سے درآمد کرنے والی

نو آبادیاتی دور کی روش کوچھوڑنا ہوگا۔ چنانچہ نو آبادیاتی دور کے ترقیاتی ماڈل کو فی الفور ترک  

کردیا گیا۔ 60 ء کی دہائی ہی میں بیشتر مسلمان ملکوں کی حکومتوں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ انہیں  بین الاقوامی کاروباری شعبے کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ

 انہیں اپنے درمیان موجود نئے شہری حلقوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھنا تھا۔ اس اقتصادی، ا

 اراتی اور ڈھانچہ جاتی تبدیلی کے ساتھ چلنے سے ایک نئی قوت ابھر کر سامنےآئی جسے سیاسی

  اسلام کہا جاتا ہے۔ مراکش سے انڈونیشیا تک مسلمان اسلام کے جھنڈے تلے ایک نئے حلقے کے

 طور پر اپنی سیاسی تنظیم کررہے تھے۔ کچھ ملک تو ان نئے سیاسی حقائق کےمطابق خود کو ڈھالنےکے قابل تھے لیکن شاہ کی زیرِ قیادت ایران جیسے بعض ممالک ایسے بھی تھےجنہوں نے کوشش کی کہ تبدیلی کےنئے راستے تو کھولے جائیں لیکن سیاسی نظام میں بنیادی اصلاحات کرنےکی ضرورت کو نظر انداز کیا جائے، جس میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

70ء کے عشرے کےاواخر اور 80ء کی دہائی میں سیاسی اسلام اپنے عروج پر تھا جب ایران میں

 اسلامی انقلاب آیا اور پاکستان، سوڈان اور نائجیریا میں اسلامائزیشن کی گئی۔ مصر، مراکش اور

 تیونس جیسے ممالک کے زیادہ ترقی یافتہ شہری حلقوں میں مقبولیت کی بنا پر سیاسی اسلام کے

 حامیوں کو عرب دنیا میں بھی نظرانداز کرنا بہت مشکل تھا۔ ایشیا کے مسلمان ملکوں میں بھی

 صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی جہاں پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا میں اسلامائزیشن کا

عمل پوری تندہی اور تیزی سے ہورہا تھا۔ مثال کے طور پر 1980 ء کے عشرے نے دیکھا کہ

 ملائشیا کی سیاسی معیشت کی تیزی سے تنظیم ِ نو کی گئی جب ریاست نے سیاسی اسلام کے حامیوں کو پزیرائی بخشی اور انہیں حکومتی مشینری کا حصہ بنایا۔ 

آجکل ملائشیااور انڈونیشیا جیسے ممالک اسلامی بینکاری اور فنانس سمیت بہت سے شعبوں میں 

 کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں خصوصی طور پر مسلمانوں کے لئےتیار کی جانے 

 والی مصنوعات کی کامیابی حیران کن ہے۔ اگر ہم مسلم ممالک میں تجارتی مراکز اور سپر مارکیٹس 

 کا چکر لگائیں تو بڑی تعدادمیں ایسی اشیا نظر آتی ہیں جن پر 'مسلم' کی چھاپ لگی ہے۔ ان میں  

مسلم کولا مثلاً زم زم یا مکّہ کولا سے لے کر مسلم جینز مثلاً القدس جینز تک بہت سی مصنوعات  

شامل ہیں جو مسلمانوں کے ذوق اور ترجیحات کو مدِ نظر رکھ کر بنائی گئی ہیں۔ 

ملائشیا میں ایک کار بھی تیار کی جارہی ہے جوشائد اپنی قسم کی پہلی 'مسلم کار' ہوگی۔ اس کار میںمکّہ کی طرف اشارہ کرنے والا سمت نما اور قرآن رکھنےکیلئے خصوصی خانہ تیار کیا گیا ہے۔  

عوامی تفریح اور پلاسٹک آرٹ جیسے شعبوں میںمقبول مسلم ثقافت اہم کاروبار بن گئی ہے اور

 ای ایم آئی جیسی بڑی کمپنیاں مسلمان پاپ گروپس کے ساتھ معاہدے کررہی ہیں۔ تاہم ہمیں یہ یاد

 رکھنےکی ضرورت ہے کہ جو کچھ بھی ہم آج کی مسلم دنیا میں دیکھ رہے ہیں اسے انقلابی یا

بنیاد پرستانہ نہیں کہا جا سکتا۔ اس ضمن میں بہت سےاہم نکات پرزوردینے کی ضرورت ہے

اوّل: ہمیں باربار دوسروں کو یہ باور کرانا چاہیئے کہ اسلام کوئی ایسا مذہب یا عقائد کا نظام نہیں ہے

 جو کاروبار کے خلاف ہے۔ اسلام کے اخلاقی اصول کسی کو تجارت کرنے سے نہیں روکتے۔ خود

 حضرت محمدﷺ کا تعلق ایک کاروباری گھرانےسے تھا۔ اسلام آزادانہ کاروبار، نجی ملکیت اوردولت

کے   حصول کا دفاع بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ دوم: مسلم دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے یہ کوئی انہونی چیز یا نئی اختراع نہیں ہے۔ مسلمان تو صرف کاروباری روایات اور طریقہ کار کو اپنی کمیونٹی کے لئے موزوں بنا رہے ہیں۔

 تیسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کےکاروباری شعبےکی ترقی سب کیلئےایک اچھی خبر ہے۔ یہ سماج

کو ترقی دینے، دولت کی پیداوار اور اس کی تقسیم کےذریعے کے طور پر کام کرتا ہے۔ بلکہ جب

مغرب اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات اتنے اچھے نہ رہیں جتناکہ وہ ہو سکتے تھے تو ایسے میں  

دونوں کے درمیان پُل کا کام بھی دیتا ہے۔ مسلم کولا، جینز یا کاروں کی تیاری اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلمان ان اشیأ سے لطف اندوز ہورہے ہیں جو ایک طویل عرصے سے مغرب کے صنعتی سماج میں تیار ہورہی تھیں۔

چنانچہ مسلم کامرس کے ابھرنے کو کسی طرح کی رکاوٹ نہیں سمجھناچاہیئے بلکہ اس سے دنیا بھرکے کاروباری طبقوں کوایک دوسرےکےقریب آنے اور ایک ایسی صارف منڈی دریافت کرنے، اسے 

 ترقی دینےاور اس میں کام کرنے کے کاروباری امکانات اور مواقع میسر آئیں گے جو اپنے اقتصادی

 مقام اورموقع سے پوری طرح آگاہ ہے۔ ایک ایسے دور میں جب ذرائع ابلاغ تواتر کے ساتھ مصیبت

زدہ معاشروں کی تصاویراور بین الثقافتی جھگڑوں اور تشدد کی داستانوں کی بوچھاڑ کئے ہوئے ہے،

 مغرب اور مسلم دنیا کے کاروباری منصوبے ثقافتوں کے درمیان خلیج کو پاٹنے اور ثقافتی کاروباری

منصوبے بنانے جیسا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جو معاشروں کو ایک دوسرے سے دورہٹانے کی بجائے 

 قریب لانے کا باعث بنے گا۔ 

مأخذ: خلیج ٹائمز، 7 دسمبر 2007 ( کامن گراؤنڈ نیوز )

  کینزی معاشیات (Keynesian economics) 

کینزی معاشیات جون مینارڈ کینز (John Maynard Keynes) کے نظریات پر مشتمل ہے۔ اس نظریہ 

 کے حامل ماہرین قلیل عرصہ (Short run) کی کلیاتی معاشیات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ان کے  

خیال میں معاشی متغیرات بالکل لچکدار نہیں ہوتے اور ان کے تغیر میں کچھ رکاوٹیں بھی آسکتی ہیں۔  

مثلاً جب قیمتیں بڑھ جائیں تو ان کو کم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ قیمت کی کمی کے حالات پیدا ہو جائیں، 

 وہ اس آسانی سے کم نہیں ہوتیں جتنی آسانی سے بڑھتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ بالکل آزاد معیشت (Free Economy) پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے خیال میں بعض صورتیں ایسی پیدا ہو جاتی ہیں جس میں معاشی متغیرات میں مکمل طور پر توازن پیدا نہیں ہوتا اور وہ توازنی کیفیت کے علاوہ کہیں اور اٹکی رہ سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں معیشت میں کسی طاقت مثلاً حکومت کی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے۔ یہ مداخلت مالیاتی حکمتِ عملی(Fiscal Policy) کے ذریعے سب سے بہتر نتائج دیتی ہے۔  

کینزی معاشیات ایک آزاد معیشت یا ایک مکمل طور پر پابند معیشت (Controled economy) دونوں کی  

جگہ ایک ملی جلی معیشت (Mixed Economy) کا پرچار کرتی ہے جس میں حکومتی ادارے اور نجی  

شعبہ دونوں ہی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کلاسیکی معاشی نظریات کے برعکس یہ لوگ اس بات پر یقین 

 نہیں رکھتے کہ معیشت میں خود بخود مکمل روزگار اور توازن پیدا ہوگا۔ ان نظریات کا منبع کینز کی  

مشہور کتاب 'نظریہ عمومی' (General theory) ہے۔ 

 مارکسی معاشیات (Marxian economics)

مارکسی معاشیات کی بنیاد کارل مارکس (Karl Marx) کے نظریات پر ہے جو بنیادی طور پر اس 

 کی مشہور کتاب 'سرمایہ' (جرمن میںDas Kapital۔انگریزی میں The Capital) سے اخذ کیے  

جاتے ہیں۔ مارکس اقتصادی مسائل کو ایک طبقاتی تفاوت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کے خیال میں 

 سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ (capital) اور محنت (labor) کے درمیان دولت اور پیداوار کی  

منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی اور سرمایہ دار مزدور کا استحصال کرتا ہے اور یہی طبقاتی تفاوت کی 

 بنیاد ہے۔ ان خیالات کی بنیاد اس کی نظریہ قدر از محنت (labor theory of value) پر ہے جس 

 کے مطابق اشیاء کی قدریں یا قیمتیں ان پر لگی ہوئی محنت (labor) سے متعین ہوتی ہیں۔ مزدور  

کی محنت اشیاء میں قدر پیدا کرتی ہے مگر اسے اس کا جائز حصہ نہیں ملتا اور پیداوار و منافع 

 کا بیشر حصہ سرمایہ دار اینٹھ لیتا ہے۔ اس کے مطابق اس کی وجہ سے طبقاتی تفاوت بڑھتا چلا  

جائے گا اور تصادم ناگزیر ہو جائے گا۔ 

 نقدی معاشیات (Monetarist economics)

اس قسم کی معاشیات کا پرچار کرنے والے لوگ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ قومی آمدنی بڑھانے  جیسے عوامل میں اصل حیثیت زر () کی طلب و رسد کی قوتوں پر ہے۔ یہ زر کی رسد () میں اتار چڑھاؤ سے معیشت کو اختیار میں لانے کے قائل ہیں۔ ان کے کچھ نظریات کلاسیکی معاشیات سے  ملتے ہیں مگر کچھ نظریات بالکل الگ ہیں۔ ان نظریات کے حامل افراد میں ملٹن فریڈمین (Milton  

Friedman) جیسے لوگ شامل ہیں۔ ان لوگوں میں سے کچھ تو امریکہ کی فیڈرل ریزرو سے بھی  

منسلک رہے ہیں۔ یورپی مرکزی بنک بھی اکثر ان کی تجاویز کردہ حکمت عملی پر عمل کرتا ہے 

 جس میں زر کی رسد کو ھدف بنایا جاتا ہے۔ 

آسٹروی معاشیات (Austrian economics) 

اس قسم کے نظریات سے متعلق لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بازار (Market) کی اصل قوت وہ لوگ ہیں 

 جو خطرہ مول لے کر نئے کاروبار شروع کرتے ہیں اور یہی لوگ معاشی ترقی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

 اس سے متعلق ماہرینِ معاشیات میں جوزف شمپیٹر (Joseph Schumpeter)، فریڈرک ہایک

 (Friedrich Hayek)، فریڈرک وون ویسر (Friedrich von Wieser)، آگن وون بوہم باورک

 (Eugen von Böhm-Bawerk) وغیرہ شامل ہیں۔

معروف ماہرین معاشیات

  • آدم سمتھ (Adam Smith)
  •  
  • ڈیوڈ ریکارڈو
  •  
  • کارل مارکس
  •  
  • الفریڈ مارشل
  •  
  • جان مینارڈ کینز
  •  
  • ائردنگ فشر
  •  
  • جان ہکس
  •  
  • فریڈرک ہائک
  •  
  • پاول سائمولسن
  •  
  • رابرٹ سولو
  •  
  • ہربرٹ سائمن
  •  
  • جان نیش
  •  
  • امرتیا سین
  •  
  • جوزف اسٹگلس

انفاق در قرآن و روایات

مقدمه:

قال الله تبارک و تعالی :یا ایها الذین آمنوا أنفقوا من طیبات ما کسبتم ومما أخرجنا لکم من الأرض ولا تیمموا الخبیث منه تنفقون ولستم بآخذیه الا أن تغمضوافیه واعلموا أن الله غنی حمید.[1]

ای کسانیکه ایمان آورده اید از اموالی پاکیزه ای که (ازطریق تجارت)به دست آورده اید و از آنچه از زمین برای شما خارج کرده ایم (ازمنابع و معادن و نیز از کشاورزی و زراعت وباغ)انفاق کنید وبهسراغ قسمتهای ناپاک نروید تا از آن انفاق کنید در حالیکه خود شما حاضر نیستید آنها را بپذیرید مگر از روی اغماض و کراهت و بدانید خداوند بی نیاز و شایسته ستایش است.

انفاق یکی از مهمترین اصول تربیتی در سیاست اجتماعی و مکتب اقتصادی اسلام است . ا صلی ریشه ای ومهم و فراگیرنده همه جوانب زندگ آدمی و ویران کننده تکاثر و اتراف و سازنده حیاتی آکنده از ارزشها و پربار از انسانیت و فضیلت ومایه رشد و قوام توده ها.

مقصود از انفاق بخشیدن مال و نگاه داشتن آن و آن در میان مردم ره گردش انداختن وپرداختن آن به کسانی است که به آن نیازمندند تا درمقاصد گوناگون شایسته خویش مصرف کنند، یا دادن به سازمانهای مفید اجتماعی تا برای رسیدن به هدف های عالی ومطلوب به کار برند.

از تدبر در آیات قرآنی و احادیث اسلامی اهمیت این اصل ریشه ای و ژرفای ژرف ونقش قاطع و خصوصیت حیاتبخش و تأثیر اقتصادی تکامل آفرین آن تبلور پیدا می کند و آشکار می شود که انفاق ازبزرگترین تکالیف اسلامی و اصول عملی است وازجهاتی دارای اثری ژرفتر و دامنه ای گسترده تر دارد.

دراین مقاله مختصر سعی خواهد شد که هر چه بیشتر اهمیت و تأثیر انفاق (در آیات و روایات )را در تعالی بخش فردی و تکامل آفرین اجتماعی در حیات اسلامی عمومی و درابعاد انسانی و حرکت پیشرفت و رسالتهای سازنده و تکاملهای گوناگون برخوردار است،بیان کنیم .                    

                                                                                        انشاءالله

بخش اول

                          کلیات وتعاریف

 

1 : تعریف انفاق

انفاق در لغت : انفاق از ماده نفق است وبمعنی نافذ و امضا کردن وبرغیب در معامله ،خروج روح از جسم ، ودر مال به کسی دادن چه واجب وچه مستحب آمده است.[2]

و انفاق به معنای نفقه دادن به کسی ،خرج کردن مال ،دادن یا بخشیدن مال به کسی،بی چیز شدن نیز آمده است.[3]

انفاق در اصطلاح: در اصطلاح مفسرین و علماء اخلاق نیز به همان معنی اخیر لغت آمده است و تمام علما بدون اختلاف و اتفاق نظر در خرج کردن مال و بخشیدن مال به کسی با قصد قربت چه انفاق واجب باشد یا مستحب ،انفاق اطلاق کرده اند.[4]

 

2: انفاق در نظام سرمایه داری و سوسیالیستی

این بحث به مبانی اعتقادی هر نظامی رجوع می کند و طبق آن تفسیر وتبیین می شود . در نظام سرمایه داری لیبرال آنچه که اصیل است فرد است وجامعه فقط یک وجود اعتباری است و آنچه در جامعه وجود حقیقی دارد افراد است که در هویت واثر مستقل از یکدیگرند . و هر فرد اهداف و راه های دستیابی به آن را مستقل از دیگران تعیین کرده ، شخصیت خود را می سازند و همین هویت های مستقل افراد هویت اعتباری جامعه را می سازند. نتیجه چنین دیدگاهی آن است که هویت حقیقی واصیل فرد همیشه بر هویت اعتباری وغیر اصیل جامعه مقدم است وهنگام تعارض بین منافع فرد وجامعه باید منافع فرد مقدم شود وطبق این ادعا کسی موفق است که سود مادی شخص خود را در جامعه افزایش دهد، لذا معنی ندارد که کسی کار و تلاش فراوان بکند و دیگری از منافع آن و سود آن استفاده کند بدین طریق انفاق در این نظام منتفی است.

اما در نظام سوسیالیستی ،آنچه که اصیل و وجود حقیقی دارد جامعه است و افراد غیر اصیل و اعتباری است. طبق این نظر باید هر فرد جامعه با توان خود کار کند وبه نیاز خود مصرف کند و ملکیت فرد معنی ندارد.

شهید مطهری در تبیین این نظریه می فرماید : جامعه مرکب حقیقی است، افراد انسان در مرحله قبل از وجود اجتماعی هیچ هویت انسانی ندارند ، ظرف خالی می باشند که فقط استعداد پذیرش روح جمعی را دارند ،انسان ها قطع نظر از وجود اجتماعی ، حیوان محض می باشند که تنها استعداد انسانیت انسان در پرتو روح جمعی پیدا می شود که این ظرف خالی را پر می کند و این شخص را به صورت شخصیت درمی آورد، روح جمعی همواره با انسان بوده وبا آثار و تجلیات خود از اخلاق ،مذهب ،علم ،فلسفه و هنر همیشه خواهد بود و....[5]

پس طبق این نظام چون اصلا افراد ملکیت حقیقی ندارند و اختیاری در مقابل اموال خود ندارند لذا انفاق هم معنی ندارد، علاوه بر این چون همه طبق نیاز خود باید مصف کند لذا همه یکسان خواهند بود و حتی کسی توان انفاق نخواهد داشت.[6]

ولی طبق نظام اقتصادی اسلام هم افراد وجود حقیقی دارند وهم جامعه معتبر است و هدف تولید و توزیع آن حد اکثر کردن سود مادی دنیوی و آخرتی است و همینطور حد اکثر کردن مطلوبیت دنیوی و اخروی است لذا یکی از اهداف در مصرف انفاق است و انفاق را جزو منافع شخصی می داند و عقلایی است .

پس بخش انفاق در اقتصاد اسلامی مورد بحث است و آنرا از رویکرد آیات و حدیث  بحث خواهیم کرد.

3:انفاق در قرآن :

مسأله انفاق یکی از مهمترین مسائلی است که اسلام روی آن تأکید دارد وشاید ذکر آیات آن پشت سر آیات مربوط به معاد از این نظر باشد که یکی از مهمترین اسبا ب نجات در قیامت انفاق و بخشش در راه خداست. و در موضوعات مختلف و همه جانبه از مسئله انفاق بحث و مورد تاکید قرار گرفته است و آن را یکی از مهمترین طرق حل مشکل فاصله طبقاتی می داند. با دقت در آیات قرآن مجید آشکار می شود که یکی از اهداف اسلام این است که اختلافات غیر عادلانه ای که در اثر بی عدالتی های اجتماعی درمیان طبقه غنی و ضعیف پیدا میشود از بین برود و سطح زندگی کسانی که نمی توانند نیازمندی های زندگیشان را بدون کمک دیگران رفع کنند بالا بیاید و حد اقل لوازم زندگی را داشته باشند اسلام برای رسیدن به این هدف برنامه وسیعی در نظرگرفته است از قبیل ،تحریم ربا خواری مطلق ، و وجوب پرداخت مالیات های اسلامی از قبیل زکات و خمس و صدقات ومانند آنها و تشویق به انفاق، وقف وقرض الحسنه و کمکهای مختلف مالی قسمتی از این برنامه را تشکیل می دهد، و از همه مهمتر زنده کردن روح ایمان وبرادری انسانی درمیان مسلمانان است. وموضوعات مطرح شده در آیات قرآنی در مورد انفاق را بطور مختصر متذکر می شویم.

1.3 انفاق سبب و موجب فزونی اموال است.

در آیه 261از سوره بقره می فرماید:( مَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِاْئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ )مثل کسانیکه اموال خود را در راه خدا انفاق می کنند همانند بذری است که هفت خوشه برویاند ودر هر خوشه ای یکصد دانه باشد (که مجموعا از یک دانه هفتصد دانه بر می خیزد تازه پاداش آنها منحصر به این نیست ،بلکه) خداوند آن را برای هر کس بخواهد (شایستگی در آنها و انفاق آنها از نظر نیت واخلاص و کیفیت و کمیت ببیند) دو یا چند برابر می کند چرا که از نظر رحت و قدرت وسیع واز همه چیز آگاه است.

 

 2.3 انفاق بدون ریاء و منت گذاری ارزش دارد.

در آیات 262و267 سوره بقره خداوند در این باره سخن گفته است : (الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ ثُمَّ لاَ يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنّاً وَلاَ أَذىً لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِم وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ ).[7]

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِنَ الْأَرْضِ وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ) . [8] خلاصه مطلب چنین است. کسانیکه در راه خدا بذل مال می کنند ولی به دنبال آن منت می گذارند یا ریا کاری که موجب آزار و رنجش است می کنند در حقیقت با این عمل ناپسند اجر وپاداش خود را ازبین می برند بلکه می توان گفت چنین افراد در در بسیاری از موارد بدهکارند نه طلبکار. زیرا آبروی انسان و سرمایه های روانی و اجتماعی او به مراتب برتر و بالاتر از ثروت ومال است . و برای این عمل مثالهای جالبی می آورد که بسیار لطیف و آموزنده است.

3.3 ازچه اموالی باید انفاق کرد؟

خداوند در آیه 267 سوره بقره این امر را متذکر شده است : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِنَ الْأَرْضِ وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ)[9] خداوند تأکید می کند که انفاق باید از اموال پاکیزه و حلال باشد نه اموال پست وحقیر وهمچنین ناپاک و حرام ، چون طبیعت انسان دوست ندارد از اموال ناپاک استفاده کند ولو تنگدست باشد و نیازمند باشد.

4.3 مبارزه باموانع فقر

قرآن یکی از مهمترین موانع انفاق را وسوسه شیطانی در زمینه آن می داند و در این می فرماید:( الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ وَاللّهُ يَعِدُكُم مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلاً وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ)[10] شیطان به هنگام انفاق به شما وعده فقر و تهیدستی  می دهد و می گوید : تأمین آینده خود وفرزندانتان را فراموش نکنید و از امروز فردا را ببینید و آنچه بر خوشتن رواست بر دیگری روا نیست و امثال این وسوسه های گمراه کننده به علاوه او شما را وادار به معصیت و گناه می کند ولی خداوند به شما وعده آمرزش و فزونی می دهد. وخداوند قدرتش وسیع و به همه چیز داناست.

 

 

 

 

5.3 چگونگی انفاقها

در آیات 270و 271از سوره بقره سخن از چگونگی انفاقها و علم خداوند نسبت به آن است که می فرماید:( وَمَا أَنْفَقْتُم مِن نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِن نَذْرٍ فَإِنَّ اللّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ)

(إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُم مِن سَيِّآتِكُم وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ) .[11] آنچه را که انفاق می کنید یا نذر هایی که در این زمینه کرده اید خداوند همه آنها را می داند کم باشد یا زیاد ، خوب باشد یا بد، ازطریق حلال تهیه شده باشد یا حرام، همراه منت و آزار باشد یا بدون آن ،خدا از تمام جزئیات آن آگاه است . اگر انفاقها را آشکار کنید چیز خوبی است و اگر آنها را مخفی ساخته و به نیازمندان بدهید برای شما بهتر است. و بازهم خداوند به آنچه انجام می دهید آگاه است.

6.3 انفاق بر غیر مسلمان

در جامعه اسلامی حقوق همه محترم است و باید ادا شود چه مسلمان وچه غیر مسلمان ، قرآن برهمین نکته تاکید دارد و می فرماید:( لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلكِنَّ اللّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلأَنْفُسُِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ)[12] (هدایت آنها به طور اجباربر تو نیست) اما ترک انفاق بر آنها برای اجبار آنها به اسلام صحیح نمی باشد، آنچه را انفاق می کنید از خوبیها برای خودتان است ولی جز برای خدا انفاق نکنید و آنچه را از خوبیها انفاق می کنید به شما تحویل داده میشود و هرگز ستمی نخواهد شد .

7.3 بهترین مورد انفاق

در آیه 273 از سوره بقره مواردی که انفاق در آنجا باید صورت گیرد بیان شده است که می فرماید:( لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيَماهُمْ لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافاً وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ)و آن کسانی هستند که دارای صفات سه گانه ای که در این آیه آمده است باشند.

1.7.3 کسانی که به خاطر اشتغال به مسئله جهاد در راه خدا و نبرد با دشمن و یادگیری فنون جنگی از تلاش برای معاش و تأمین هزینه زندگی بازمانده اند.

2.7.3 کسانی که افراد نادان و بی اطلاع آنها را از شدت عفاف ،غنی می پندارند ولی آنها را از چهره هایشان می شناسی ، یعنی در چهره هایشان نشانه هایی از رنجهای درونی وجود داردکه برای افراد فهمیده آشکار است. مسئله دیگری د رارتباط با انفاق در راه خداست و آن کیفیات مختلف و متنوع انفاق است که چنین می فرماید:( الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيلِ وَالنَّهَارِ سِرّاً وَعَلاَنِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ) آنها که اموال خود را شب و روز ،پنهان و آشکار ،انفاق می کنند پاداششان نزد پروردگار است . ناگفته پیداست که انتخاب این روش های مختلف ، رعایت شرایط بهتر برای انفاق است ، یعنی انفاق کنندگان باید در انفاق خود به هنگام شب وروز ،پنهان و آشکار جهت اخلاقی و اجتماعی را در نظر بگیرند. بهر حال انفاق درهمه حال و به هر شکل نباید فراموش شود.[13]

3.7.3 کسانی که اینقدر بزرگوارند که هرگز چیزی با اصرار از مردم نمی خواهند ،معمول نیازمندان عادی اصرار در سوال است ولی آنها یک نیازمند عادی نیستند.

8.3 انفاق به هر شکل وصورت

در آیه 274 از سوره بقره سخن از . مسئله دیگری د رارتباط با انفاق در راه خداست و آن کیفیات مختلف و متنوع انفاق است که چنین می فرماید:( الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيلِ وَالنَّهَارِ سِرّاً وَعَلاَنِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ) آنها که اموال خود را شب و روز ،پنهان و آشکار ،انفاق می کنند پاداششان نزد پروردگار است . ناگفته پیداست که انتخاب این روش های مختلف ، رعایت شرایط بهتر برای انفاق است ، یعنی انفاق کنندگان باید در انفاق خود به هنگام شب وروز ،پنهان و آشکار جهت اخلاقی و اجتماعی را در نظر بگیرند. بهر حال انفاق درهمه حال و به هر شکل نباید فراموش شود.[14]

 

بخش دوم

                           انفاق و آثار آن

1- عظمت و اهمیت انفاق

بطور کلی این بحث از آیات قرآنی و در بخش انفاق در آیات آمده و روشن و واضح است ولی در این بخش می خواهیم از روایات ،عظمت و اهمیت انفاق چقدر ذکر و به آن تأکید شده است بیان کنیم .لذا بطور خلاصه و فهرست وار ذیلا می آوریم.

1.1 انفاق اصلی مبنایی است

(ا) پیامبر اکرم (ص) می فرماید: لم نبعث لجمع المال و لکن بعثنا لانفاقه.[15] ما برای جمع آوری مال مبعوث نشده ایم بلکه برای انفاق آن مبعوث شده ایم.

(ب) پیامبر اکرم : ما اوحی الی أن اجمع المال....[16] یعنی بر من وحی نشده است که فقط مال جمع آوری کنم.

(ج) پیامبر اکرم : خوشا به حال آن کس که زیادی های مالش (خانه ،وسایل و امکاناتش) را انفاق کند.[17]

(د) امام علی علیه السلام می فرماید: مال را به اندازه لازم برای خود نگاه دار و فزونی را روز نیازت از پیش بفرست.[18]

(ه) امام محمد باقر (ع) در تفسیر آیه (والذین یکنزون الذهب و الفضة ....) فرمود: خدا گنج ساختن و اندختن زر و سیم را حرام کرده و به انفاق آن در راه خدا فرمان داده است.[19]

(و) امام صادق علیه السلام می فرماید: مؤمن کسی است که ... زیادی مالش را انفاق کند.[20]

2.1 انفاق از ارکان ایمان است

در این مورد هم آیات فراوان داریم که بعضا در بحث قبلی ذکر شده است و روایات مورد بحث است.

(أ‌)  امام زین العابدین علیه السلام می فرماید: از اخلاق مؤمن است انفاق کردن ،بر میزان تنگدستی ،یعنی هر چند تنگدست باشد باز انفاق را از دست نمی دهد و به تناسب با همان امکانات کم و بنگدستانه خویش انفاق می کند.[21]

(ب)امام صادق می فرماید:مؤمن آن کس است که .... زیادی مالش را انفاق کند.[22]

3.1 انفاق از پشتوانه های زندگی اجتماعی

امام سجاد (ع) د راین مورد می فرماید :... گناهانی که باران آسمانرا حبس می کند ظلم دستگاه قضایی است ... و زکات و قرض و عاریه ندادن و سنگدلی کردن نسبت به اهل فقر و فاقه و ظلم کردن به یتیمان و بیوگان و رد کردن ساءل در شب است.[23]

4.1 انفاق زیور یقین است

پیامبر اکرم(ص) می فرماید: بخشیدن موجودی (آنچه داری) زیور یقین است. [24]

5.1 انفاق همتای ایمان به غیب است

در قران آمده است پرهیز گاران که قرآن آنان را هدایت می کند کسانی هستند که به غیب ایمان می آورند و نماز را بر پا می دارند و از آنچه روزی ایشان کرده ایم انفاق می کنند .[25]

علاوه بر اینها آیات و روایات انفاق را به این عناوین یاد کرده است.

(أ‌)    انفاق همتای اقامه نماز است.[26]

(ب) انفاق همتای جهاد و شهادت است.[27]

(ج) انفاق همتای تهجد و شب زنده داری است.[28]

(د) ---- همتای صبر در راه خدا،خشوع و عبادت و استغفار در سحرهاست.[29]

(ه) --- همتای اخلاص و خیر اندیشی برای رضای خدا و رسول است.[30]

(و) --- همتای پاسخگویی به ندای پروردگار متعال است.[31]

(ز) --- از ملاکهای ایمان راستین است.[32]

(ح --- از نشانه های صداقت و تعهد است.[33]

(ط)--- از نشانه های متقین است .[34]

(ی) --- برای رسیدن به مغفرت و درجات و روزیهای بهشتی است .[35]

(ع) --- مایه رهایی انسان از ترس و اندوه در احال آینده آدمی است.[36]

2. آثار جاودانی انفاق

بعقیده ما چون انفاق علاوه بر اینکه در جامعه آثار مادی فراوانی دارد آثار اخروی و معنوی هم دارد که هر دو جنبه را آیات و روایات بطور مفصل متعرض شده است . ما در اینجا بعضی از اثرات انفاق را می شماریم.

1.2 انفاق در حساب خدا محفوظ است

شیخ طبرسی در ذیل آیه 121 از سوره توبه می فرماید: مقصود آیه این است که در جهاد و در راههای خیر و نیکوکاری هر خرجی بکنند اندک یا بسار به قصد عزت یافتن دین خدا و سود رسانی به مسلمانان و تقرب پیدا کردن به خدا (به نیکوترین شکل پاداش خواهند رسید) و آنچه بر ثروتمندان متکاثر امروز واجب است این است که فزونی اموال خویش را برای عزت یافتن دین خدا ، و به سود مسلمانان برای هدفهای فردی و اجتماعی مصرف و انفاق کنند چون خداوند به نیکوترین صورت برای کارهایی که انجام داده اند به ایشان پاداش خواهند داد.[37]

2.2 پر شدن جای انفاق به لطف خدا

پیامبر خدا(ص) می فرماید: هر کار خیری صدقه است . و مالی که شخص به وسیله آن عِرض خود را حفظ کند صدقه است. و آنچه مؤمن خرج کند خدا ضامن است که جای آن را پر کند مگر آنکه در ساختمانی یا معصیتی مصرف شده باشد.[38]

3.2 پاداشهایی چند برابر

امام صادق(ع) از امام علی (ع) نقل می کند که ... هر کس به هنگام دسترس داشتن ، دست بهکار خیر زند و هزینه ای بپردازد خدا عوض آن را در دنیا به او می دهد و دوچندان در آخرت.[39]

4.2 شکر نعمت

امام علی (ع) در این مورد می فرمایند: شکر گزار نعمت خدا نخواهد بود مگر آن کس که دستِ دهنده داشته باشد. [40]

5.2 زاد معاد

امام علی (ع) می فرماید: .... از مال به اندازه ای که لازم داری نگاه دار، و زیادی را برای روز نیازمندی خویش (آخرتـ) بفرست.[41]

6.2 انفاق تجارتی بی سوخت و سوز

خداوند می فرماید: کسانی که کتاب خدا را می خوانند و نماز را بر پا می دارند و از آنچه به ایشان روزی داده ایم، (پنهان و آشکار ) انفاق می کنند به تجارتی که هرگز سوخت و سوز ندارد امید دارند.[42]

7.2 کرامت دنیا و فضیلت آخرت

امام علی(ع) :... هر کس خدا به او مالی داده است باید با آن صله رخم کند و به خویشان خود کمک رساند و خوان مهمانی نیکو بگستراند و اسیر و گرفتار را رها سازد.... که دست یافتن به این خصلتها رسیدن به مکرمتهای والای دنیایی است و فضیلتهای جاودان به خواست خداست.[43]

8.2 انفاق نه زیان و نه کاهش

امام صادق(ع) : سه چیز است که به خدای او سوگند می خورم که واقعیت دارد.(1) هیچ مالی از صدقه و زکات دادن کاهش پیدا نمی کند. (2) هیچ کس نیست که ستمی بیند و بتواند بلافی کند و نکند مگر اینکه خدا در مقابل ،عزتی به وی عنایت فرماید. (3) هیچ بنده ای نیست که درِ سوال و گدایی رابه روی خود بگشاید مگر اینکه درِ فقر به روی او گشوده شود.[44]

9.2 انفاق ارزش مال

امام علی(ع) : مالداری که انفاق نکند مال نداشته است و هر چه بوده وزر و وبال بوده است.[45]

10.2 ممال بی انفاق بدترین مال است

امام علی (ع) : بدترین مال آن است که در راه خدا انفاقی از آن صورت نگرفته باشد ، و زکات آن خارج نشده باشد.[46]

 

بخش سوم

                             انفاق های مذموم و پیامدهای ترک انفاق

1.    انفاق های مذموم :

بعضی از انفاقها در جامعه صورت می گیرد ولی آن انفاقها از لحاظ ارزشی نفعی به انفاق کننده نمی رساند و آیات و روایات آنها را مذمت کرده و حتی گاهی موجب سقوط آن جامعه بیان کرده است . بعضی از این موارد را ذیلا می آوریم.

1.    1انفاق باطل ، موجب برباد رفتن و نابودی اموال است

قرآن در این باره می فرماید: مثل آنچه (کافران ) در این زندگی دنیا انفاق می کنند مثل بادی است بسیار سرد که به کِشته قومی برسد که برخود ستم کرده اند پس آن را از میان ببرد خداوند بر این مردم و در این حادثه ستمی روا نداشته است بلکه آنان خود بر خویشتن ستم می کنند.[47]

2.1 انفاق باطل موجب حسرت و شکست است

در این باره می فرماید: کسانیکه کافرند اموال خود را برای آن انفاق می کنند تا از (رفتن مردمان به) راه خدا جلو گیرند چنین انفاق هایی می کنند و سپس مایه حسرت ایشان می شود و سر انجام مغلوب خواهند گشت.[48]

3.1انفاق ریایی

کسانکه اموال خود را برای نمایش دادن به مردم (ریا و خودنمایی) انفاق می کنند وبه خدا و روز قیامت ایمان ندارند و هر کس شیطان همدم او گردد  برای او همدمی خواهد بود.[49]

4.1 انفاقی که بعدش منت گذاری باشد

ای مومنان ! بخشش های خویش را با منت و آزار باطل مکنید مانند کسی که مال خود را برای ریا انفاق می کند.[50]

2. آثار و پیامد های ترک انفاق و صهل انگاری در آن

با دقت در آیات و روایات می فهمیم ترک انفاق و سهل انگاری در آن آثار و پیامد های بدی در جامعه خواهد داشت چه آن پیامد های فردی باشد و چه اجتماعی و چه دنیوی باشد و اخروی. و ما مختصرا هر یک از آنها را مورد بررسی قرار می دهیم.

1.2           پیامد های فردی

1.1.2 دنیوی: آن کس که بخل ورزید و به توانگری نازید و عاقبت نیک (بهشت ) را دروغ شمرده جلو او را برای ( ارتکاب اعمال بد ورسیدن به) دشواری (کیفر) باز خواهیم گذاشت و چون به هلاکت در افتد مالش برای او کاری نتواند کرد.[51]

امام علی (ع) : بخشیدن مال دنیا اندوخته است و نگاه داشتن آن فتنه.[52]

امام باقر (ع) : ابوذر رحمةالله علیه نزد کعبه ایستاد.... پس مردمان برگرد او جمع شدند آنگاه گفت: ... مال دنیا را دو درهم قرار ده ؛ درهمی را برای عیال خود خرج کن . دیگری را برای آخرت خود از پیش بفرست و درهم سومی زیانبار است و سودی یدارد پس آن را مخواه.[53]

1.2.2 اخروی : کسانی که زر وسیم را انباشته می سازند و ان را در راه خدا انفاق نمی کنند به عذابی دردناک مژده ده روزی که آنها را در آتش دوزخ سرخ می کنند و با آنها بر پیشانی و پهلو و پشت ایشان داغ می نهند به آنها می گویند: این است آنچه برای خود انباشته بودید؛ پس س اکنون مزه انباشته های خود را بچشید.[54]

پیامبر اکرم (ص) : هر که از خود گنجی برجای گذارد روز قیامت به صورت ماری خطرناک بر او ظاهر می شود – با دو خال بر بالای چشم- و او را دنبال می کند آن شخص می گوید: وای بر تو ؛ تو کیستی؟ مار می گوید: من آن گنجم که پس از خود برجای گذاشتی ! و همچنان به دنبال او می رود با اینکه دستش را در دهان می گیرد و خرد می کند و فرو می برد و پس از آن دیگر قسمتهای بدن او را.[55]

پیامبر اکرم (ص) هیچ بنده مالدابی که زکات نداده باشد نیست مگر اینکه روز قیامت با آهنهای گداخته در آتش جهنم پیشانی و دو پهلو و پشت او را پیوسته داغ می کنند تا پنجاه هزار سال (که خدا در آن روز میان بندگانش داوری می کند ) به پایان برسد.آنگاه راه خود را خواهد دید که باید به بهشت برود یا به دوزخ.[56]

امام صادق فرمود: ... ای اسماعیل! کسی که برادرش برای رفع نیازی نزد او بیاید که او می تواند آن را بر آورد و بر نیاورد خداوند مماری را بر او مسلط می کند که در گور تا روز قیامت انگشت شست او را گاز بگیرد خواه آمرزیده باشد خواه معذب.[57]

3.پیامدهای اجتماعی

1.3 دنیوی : امام علی(ع) : خدای را بندگانی است که به انان به خاطر منافع دیگر بندگان نعمت ارزانی داشته است و تا زمانی که از آن نعمت به دیگران بدهند یا در راه مصالح عام اجتماعی خرج کنند در دست شان باقی می گذارد و چون امساک ورزند آن نعمت را از ایشان می گیرد و به دیگران می سپارد.[58]

2.3 اخروی : امام صادق(ع) : هر کس از یاران ما که از برادرانش در رفع نیازی از او یاری جوید و او همه تلاش خود را برای بر آوردن حاجت او به کار نبرد به خدا و رسول و مومنان خیانت کرده است ... .[59]

امام صادق(ع): هر مومنی که بتواند نیاز مومن دیگر را رفع کند خواه از خودش و خواه از دیگری ....

 

نتیجه

از بررسی در آیات و روایات فهمیده می شود که انفاق در اسلام امری بزرگ و تربیتی انسانی و عظیم و جهتگیری الهی و ریشه دار است به همین جهت است که اسلام مردم را به بخشنده دستی و بخشندگی بر می انگیزد و قرآن و حدیث مردم را بر انفاق برانگیخته و چنان خواسته اند که آدمی بخشندگی و انفاق را از اخلاق نیکو و عملی  نشاط انگیز خود قرار دهد. وبا تأکید هایی گوناگون و تعلیمهایی مختلف و تعبیر هایی  متفاوت همگان را ره آن فراخوانده اند. و انها همه اگر بر چیزی دلالت داشته باشد بر اهمیت و عظمت انفاق دلالت دارد می رساند که دین اسلام مردم را بر آن وا می دارد که اموال و امکانات را از مالکیت های انحصاری در آورند و محبوس نسازند و در راه مصالح جامعه و مردم به مصرف برسانند این امری است که اسلام سخت به آن اهمیت بخشیده و مردم را به آن فراخوانده است. که این خصلت را روش دایمی خویک قرار دهند . و بدان عادت کنند و در نتیجه بخل و امساک و فزون خواهی و فقر از جامعه مسلمانان زدوده گردد و سیل گذشت و انفاق جایگزین آنها شود و همه جامعه را زیر پوشش درآورد . خدایا ! مارا به انجام دادن آن چه پسندیده خود تواست توفیق عنایت فرما و به رحمت واسعه خویش از آتش دوزخ دور دار. آمین

 

 


 

[1][1] -سوره بقره/267

[2] -راغب اصفهانی ،مفردات الفاظ القرآن ،/819 ،لویس معلوف ، المنجد فی اللغه /828

[3] -حسن عمید ،فرهنگ فارسی ،/209

[4] -محمد حسین طباطبائی ، تفسیر المیزان ج1/       ، مکارم  شیرازی ،تفسیر نمونه ، ج1/

[5] -شهید مطهری ، مجموععه آثار ، ج 2/337-338

[6] - احمد یوسفی ،نظام اقتصاد علوی ،/124

[7] -سوره بقره/262

[8] -سوره بقره/267

[9] -همان

[10] - همان/268

[11] -همان/270-271

[12] همان/272

[13] -مکارم شیرازی ، تفسیر نمونه ج 1/        ،  برگزیده تفسیر نمونه ج1/

[14] -مکارم شیرازی ، تفسیر نمونه ج 1/        ،  برگزیده تفسیر نمونه ج1/

[15] -مشکاة الانوار/ 183

[16] - علامه مجلسی ،بحار الانوار،ج 72/47

[17] - همان/ ج 71/287

[18] -فیض الاسلام،شرح نهج البلاغه /871

[19] -علی بن ابراهیم ، تفسیر قمی ، ج 1/289

[20] - حر عاملی ، وسایل الشیعه، ج11/141

[21] -بحار الانوارج78/140

[22] -وسایل الشیعه ،ج11/147

[23] -بحار ج 73/376

[24] -همان ج77/131

[25] -سوره بقره /3

[26] - سوره رعد/22 و سوره ابراهیم /31

[27] - طبرسی ، مجمع البیان ج5/33 و نهج البلاغه /978

[28] - سوره سجده / 16-17

[29] - شیخ صدوق ، خصال /8

[30] - سوره توبه /91

[31] - سوره شوری /36

[32] - سوره انفال /3-4

[33] - سوره حجرات / 15

[34] - سوره بقره /3 و آل عمران /133-134

[35] - سوره انفال /3-4

[36] - سوره بقره /274

[37] - طبرسی ، مجمع البیان ج5/8

[38] - همان ج8/394

[39] - محمد بن یعقوب کلینی ، اصول کافی ج2/154

[40] - غرر الحکم /349 تنظیم و ترجمه مصطفی درایتی

[41] -بحار ج 73/88  ، شیخ صدوق /الامالی

[42] - سوره فاطر /29

[43] -فیض الاسلام ،شرح نهج البلاغه /432

[44] - بحار ج72/209

[45] - غرر الحکم /259

[46] - همان /196

[47] - سوره آل عمران /17

[48] - سوره انفال /36

[49] - سوره نساء /38

[50] -

[51] - سوره لیل /8-11

[52] - غرر الحکم / 101

[53] - خصال /40

[54] - سوره توبه /34-35

[55] - طبرسی ،مجمع البیان ج 5/26

[56] - همان

[57] - علامه مجلسی ، بحار الانوار ج 75/174

[58] - فیض الاسلام ، شرح نهج البلاغه 1285

[59] -کلینی ، اصول کافی ج2/366

مقدمه:

قال الله تعالی: یا ایها الناس انّا خلقناکم من ذکر و انثی و جعلناکم شعوباً و قبائل لتعارفوا انّ اکرمکم عندالله اتقاکم ان الله علیم خبیر.[1]

ترجمه: ای مردم، ما شما را از یک مرد و زن آفریدیم و شما را تیره ها و قبیله ها قرار دادیم تا یکدیگر را بشناسید، (اینها ملاک امتیاز نیست)، گرامی ترین شما نزد خداوند با تقواترین شماست، خداوند دانا و آگاه است.[2]

این آیه بر تمام امتیازات ظاهری و مادی خط بطلان می کشد و اصالت را به پرهیزگاری و خداترسی می دهد و می گوید: برای نزدیک شدن به خدا هیچ امتیازی جز تقوی مؤثر نیست. در روایتی از پیامبر (ص) می خوانیم: خداوند به وضع خانوادگی و نسب شما نگاه می کند و نه به بدن های شما و نه به اموالتان، ولی به دل های شما نگاه می کند. پس کسی که قلب صالحی دارد، خدا به او لطف و محبت می کند و شما همگی فرزندان آدم اید و محبوب ترین شما نزد خدا با تقواترین شماست.[3]

مسئله جنسیت هم از این قبیل است، اسلام، زن را مانند مرد برخوردار از روح کامل انسانی و اراده و اختیار می داند و او را در مسیر تکامل که هدف خلقت است می بیند و هر دو را در یک ردیف قرار داده و با خطابات (یا ایها الناس) و (یا ایها الذین آمنوا) مخاطب ساخته است.

قرآن با این خطابش زن را که در قعر ذلّت و پستی بود و از هر گونه حقوق فردی و اجتماعی خویش محروم بود، و به عنوان یک موجود ناقص که فاقد روح و اراده و اختیار باشد معرفی شده بود، به اوج عزّت و سرافرازی صعود داد و تاج افتخار (کرّمنا بنی آدم) را بر فرق او نهاد و او را هم ردیف با مرد انسان و خلیفة الله فی الارض نامید.

قرآن با این بیان بر تمام عقاید و باورهای جاهلی و ادیان تحریف شده که زن را موجود وابسته و غیرمستقل و دو مرتبه پایین تر از مرد و طفیلی آن می دانستند بی اعتبار نموده و بر همۀ آن ها خط بطلان کشید. در این مقاله سعی شده است که دورنمایی از شخصیت حقوقی اقتصادی زن از دیدگاه اسلام را به طور فشرده و اجمال بیان بشود.

از معاونت پژوهش مجتمع آموزش عالی فقه کمال تشکر و قدردانی می کنیم که این فرصت را در اختیار پژوهشگران و طلاب قرار داد تا مطالعه ای ولی کم در این راستا انجام دهند.

                                                                                                        و بالله التوفیق.

بخش اول:

 تعاریف و کلیات

1ـ تعریف حقوق:

انسان موجودی است اجتماعی، افراد بشر به یاری و کمک هم نوعان خود نیازمند می باشند. از این رو وضع اجتماعات بشری باید طوری باشد که زندگی همۀ افراد در آن ممکن باشد.

زندگی به صورت اجتماعی وقتی امکان دارد که قواعدی بر جامعه حکم فرما باشد و آن قواعد طرز رفتار هر فرد را نسبت به همه و همه را نسبت به آن فرد معین نماید. والاّ هر کس به دلخواه خود رفتار می کند و نتیجه اش هرج و مرج است که با وجود آن بقای جامعه و زندگی اجتماعی صورت پذیر نیست.

همه باید از قواعدی که بر جامعه حکومت دارد اطاعت نمایند. عدم تبعیت از آنها موجب بروز اختلال در جامعه می گردد. به این جهت با کسی که شانه از زیربار قبول قواعد و قانون های جامعه خالی نماید، به یکی از دو صورت باید رفتار شود: یا به اطاعت از قواعد جامعه اجبار گردد یا از جامعه طرد شود. به این قواعد در اصطلاح علمی، (حقوق) گفته می شود و هدف آن تعیین حدود است برای آزادی مطلق افراد، که رعایت آن حدود، موجب عدم مزاحمت افراد به یکدیگر و زندگی راحت اجتماعی گردد.

آن جا که انسان اختیار دارد کاری را که مایل است انجام دهد و کاری که میّال نیست از انجام آن خودداری کند (حق و آزادی) او شناخته می شود و آن جا که مکلف است به حقوق و آزادی های دیگران احترام بگذارد و از تجاوز به آنها خودداری کند (تکلیف) او محسوب می گردد. بنابراین، به طور خلاصه، حقوق عبارت است از: مجموعه قواعدی که افراد جامعه باید در روابط خود آنها را رعایت کنند و برحسب آن قواعد، اختیارات و آزادی های هر کس و تکالیفی که در برابر دیگران دارد تعیین می گردد.[4]

2ـ تعریف اشتغال و کار:

اشتغال: در فرهنگ نامه های اقتصادی، اشتغال به معنای مشغول بودن به کار تعریف شده است.[5]

بنابراین تعریف، هر گونه فعالیتی که انسان، اعم از زنان و مردان، در خانه یا بیرون از خانه انجام دهد اشتغال است. اما برخی از اقتصاددانان قید مزد و پاداش را نیز بر تعریف اشتغال افزوده و بیان داشته اند: اشتغال مشغول بودن به کاری است که پاداش و مزد در برابر آن وجود دارد. براساس این تعریف، مفهوم (اشتغال) محدودتر شده و فقط شامل کارها و فعالیت هایی می شود که در قبال آن دستمزدی پرداخت شود. اما تلاش هایی که مجانی صورت می گیرند مثل برخی از کارهای زنان در خانه، مشمول اشتغال نخواهند بود. مقصود از اشتغال زنان در اصطلاح رایج همین معنا است.

کار: در لغت به معنای تلاش و کوشش و فعالیت، و در اصطلاح اقتصادی یکی از عوامل تولید است. دانشمندان علم اقتصاد در تعریف کار گفته اند: نیروی کار یکی از عوامل عمده تولید و متشکل است از اعمال قوّه فکری یا دستی که در برابر آن مزد، حقوق، یا حق الزحمه کار و کسب گرفته می شود.[6]

براساس این تعریف، فعالیتی که در برابر آن مزد پرداخت نشود کار محسوب نمی شود به همین سبب، کاری که زنان در خانه انجام می دهند فعالیت اقتصادی به شمار نمی آیند و زنان خانه دار در جمعیت غیر فعال و بیکار قرار می گیرند.[7]

3ـ ارزش کار در اسلام:

اسلام دین کار و تحرک است و ضد بیکاری و تنبلی، منطق قرآن، منطق کار و تحرک است و موفقیت انسان را در گرو کار و عمل می داند، چه موفقیت معنوی و اخروی و چه موفقیت دنیوی، چنان که فرمود: «br&ur }•øŠ©9 Ç`»|¡SM~Ï9 žwÎ) $tB 4Ótëy™ *¨br&ur ¼çmuŠ÷èy™ t$ôqy™ 3“tãƒ * •NèO çm1t“øgä† uä!#t“yfø9$# 4’nû÷rF{$#»[8]

برای انسان جز حاصل تلاش او نیست و نتیجه کوشش او به زودی دیده خواهد شد، سپس هر چه تام تر وی را پاداش دهند.

با توجه به این که اسلام دین کار است به طور اختصار به ارزش کار در اسلام می پردازیم.

کار، در نظام ارزشی اسلام به عنوان راز آفرینش و حکمت وجود مطرح است. آدمی جوهرۀ وجودی خویش را با سعی و تلاش می نمایاند و ارزش حقیقی خود را با کار تعیین می کند.

خدای سبحان انسان را آفرید و روح منسوب به خویش را در او به ودیعت نهاد: (#sŒÎ*sù ¼çmçF÷ƒ•qy™ àM÷‚xÿtRur ÏmŠÏù `ÏB ÓÇrr•‘)[9] و هر آن چه را که در جهت کسب کمالات و تعالی روحی و مادی، ضروری بود مسخّر وی ساخت: (óOs9r& (#÷rts? ¨br& ©!$# t¤‚y™ Nä3s9 $¨B ’Îû ÏNºuq»yJ¡¡9$# $tBur ’Îû ÇÚö‘F{$#)[10] و او را وصف کرامت و فضیلت بر بسیاری از پدیده ها ستود: (ô‰s)s9ur $oYøB•x. ûÓÍ_t/ tPyŠ#uä öNßg»oYù=uHxqur ’Îû ÎhŽy9ø9$# ̍óst7ø9$#ur Nßg»oYø%y—u‘ur šÆÏiB ÏM»t7ÍhŠ©Ü9$# óOßg»uZù=žÒsùur 4’n?tã 9ŽÏVŸ2 ô`£JÏiB $oYø)n=yz WxŠÅÒøÿs?)[11]

و به راستی، ما فرزندان آدم را گرامی داشتیم و آنان را در خشکی و دریا بر مرکب ها نشاندیم و از چیزهای پاکیزه به ایشان روزی دادیم و آنان را بر بسیاری از آفریده های خود، برتری آشکار دادیم ـ دین الهی انسان را به کرامت ستود تا با کار و تلاش، هم به عمران و آبادانی زمین بپردازد:

(4’n<Î)ur yŠqßJrO öNèd%s{r& $[sÎ=»|¹ 4 tA$s% ÉQöqs)»tƒ (#r߉ç6ôã$# ©!$# $tB /ä3s9 ô`ÏiB >m»s9Î) ¼çnçŽöxî ( uqèd Nä.r't±Rr& z`ÏiB ÇÚö‘F{$# óOä.tyJ÷ètGó™$#ur $pkŽÏù)[12] و هم با کارهای شایسته، به حکمت وجودی خود پی ببرد و کرامت نفسانی خویش را تحصیل کند.

عزت و کرامت و استقلال هر ملتی در گرو همت و تلاش آن ملت است چنان که فرومایگی و زبونی و افسردگی هر امتی، پیامد تنبلی و راحت طلبی و بیکاری اوست.

فعالیت تولیدی و کسب و کار، با چیرگی بر طبیعت و استخدام آن وظیفه مستمر روزانه است و حوزۀ کار بشر، محدود به نقطه خاصی نیست، بلکه از اعماق دریاها تا اوج آسمان ها و فراخنای خشکی و صحرا میدان کار و تلاش است.

کار منحصر به فعالیت بدنی نیست بلکه دانشمندی که با دانش و تحقیق خود در رفع مشکل علمی جامعه می کوشد یا پزشکی که بیماران را مداوا می کند یا مهندسی که طرح فنّی می ریزد یا دانش پژوهی که در راه تحصیل دانش رنج می برد... هر کدام از این کوشش های علمی و پژوهش های تحقیقی، مصداق بارزی از مصادیق کارند، با این تفاوت که ارزش آن ها یکسان نیست.

اسلام، برخی شغل ها را واجب، بعضی را حرام، بخشی را مستحب و پاره ای از شغل ها را مکروه می داند و یکی از حقوق فرزندان بر پدر را انتخاب شغل مناسب برای فرزند می شمارد.[13]

وجود استعدادهای متفاوت و همت های گوناگون و سلیقه های مختلف که موجب پدید آمدن شغل های متنوع می شود، براساس حکمت الهی و لازمۀ خلقت و ضرورت ادامه حیات جوامع بشری است. بنابراین، دست آفرینش برای چرخش این نظام در وجود هر فردی توانی مخصوص و استعدادی ویژه به ودیعت نهاده، به گونه ای که فرد به تنهایی نمی تواند همه نیازهای خود را برطرف سازد و ناچار باید افراد گوناگون و استعدادهای مختلف را در جهت رفع نیازهای خود به خدمت گیرد. از این رو اصل استخدام و اشتغال امری طبیعی است ولی چگونگی آن باید در چارچوب ضوابط شرعی و اخلاقی قرار گیرد.[14]

اسلام برای رعایت حقوق کارگر و حفظ کرامت وی و کارفرما، نکات حقوقی ظریف و دستورهای اخلاقی دارد که به خاطر اختصار و عدم گنجایش و مجال بحث از آوردن آنها خودداری می شود.

4ـ عدم تأثیر ذکورت و انوثت در فعلیت انسان:

در کتب عقلی آمده است که ذکورت و انوثت مربوط به ماده است، نه صورت و چون شیئیت هر چیزی را صورت آن تشکیل می دهند مذکر و مؤنث بودن أشیا در فعلیت و شیئیت آنها دخیل نیست.

بزرگان اهل حکمت، مذکر و مؤنث بودن را از شئون ماده شیئی می دانند، نه از شئون صورت آن، یعنی ذکورت و انوثت در بخش صورت و فعلیت، بی اثر است و تنها در بخش مادّه نقش دارد، از این رو در مقام بیان فرق صورت و ماده می گویند که ماده اصنافی دارد که بعضی از آن اصناف، مذکر و بعضی دیگر مونث است. نشانۀ این که مرد و زن بودن، مربوط به ماده است و نه صورت، این است که این دو صنف، اختصاص به انسان ندارد و در حیوان و گیاهان هم هست و براساس قیاسی استثنایی، هر چیزی که متعلق به مراتب پایین تر از انسان است، مربوط به صورت انسانی نیست، چون اگر به صورت انسان برمی گشت، هرگز پایین تر از انسان، واجد آن نمی شد.[15]

بخش دوم:

زن و حقوق اقتصادی

ـ ضرورت تفاوت جنسیت:

اگر فرض شود که همه جامعه انسانی مرد باشند، از تصور چنین فرضی، عدم آن لازم می آید، زیرا که دیگر همه ای در کار نخواهد بود، چون با نبود زن، مردی متولد نمی شود و اگر مرد نباشد، زن به تنهایی نمی تواند مبدأ پیدایش نسل باشد، بنابراین از یک سو جامعه نیاز به زن و مرد دارد و هر دو رکن این نظام انسانی هستند و از طرف دیگر، اگر مردها زن می شدند یا برعکس، باز این مشکل و سوال مطرح بود که چرا یکی زن آفریده شده است و آن دیگری مرد؟

بر پایۀ منطق قرآن کریم خدای سبحان به هیچ کس ستم نکرده و نمی کند: (Ÿwur ÞOÎ=ôàtƒ y7•/u‘ #Y‰tnr&)[16]، (3$tBur y7•/u‘ 5O»¯=sàÎ/ ω‹Î7yèù=Ïj9)[17]  نه تنها ستم نمی کند بلکه قائم به قسط است و به همین جهت، مردم را به قسط و عدل دعوت می کند و معیار قسط و عدل را هم به آنان ارائه می دهد. قرآن در تبیین قائم به قسط بودن خداوند می فرماید: (y‰Îgx© ª!$# ¼çm¯Rr& Iw tm»s9Î) žwÎ) uqèd èps3Í´¯»n=yJø9$#ur (#qä9'ré&ur ÉOù=Ïèø9$# $JJͬ!$s% ÅÝó¡É)ø9$$Î/)[18].

یعنی خداوند چون قائم به قسط است، کارش شهادت می دهد که شریک ندارد و وجود قسط و عدل و هماهنگی در جهان، نشانۀ وجود مبدأ واحد برای عالم است؛ زیرا در صورت تعدّد مبدأ برای عالم، قسط و عدلی در جهان به عنوان هماهنگی خلقت یافت نمی شد.

در زمینۀ دعوت مردم به قسط و عدل نیز می فرماید: (ö@è% zsDr& ’În1u‘ ÅÝó¡É)ø9$$Î/)[19] و پیرامون فرستادن معیار تشخیص قسط و عدل به همراه انبیا می فرماید: (ô‰s)s9 $uZù=y™ö‘r& $oYn=ߙ①ÏM»uZÉit7ø9$$Î/ $uZø9t“Rr&ur ÞOßgyètB |=»tGÅ3ø9$# šc#u”ÏJø9$#ur tPqà)u‹Ï9 â¨$¨Y9$# ÅÝó¡É)ø9$$Î/).[20]

پس از عقل و نقل بر می آید که دو نظام آفرینش، ستم نیست، بنابراین هیچ زن یا مردی نمی تواند بگوید که به او ظلم شده یا بپندارد که در نظام هستی به او برتری داده شده است.

2ـ سرّ تفاوت زن و مرد:

مردم با استعدادهای مختلف و شرایط گوناگون آفریده شده اند و اگر هم در یک سطح از استعداد و قدرت بودند، نظام هستی متلاشی می شد، چون کارها گوناگون است و آنها را باید استعدادهای گوناگون به عهده گیرند، از این رو باید تفاوت باشد و اگر بالاترها به جای پایین ترها قرار گیرند یا برعکس، باز این سوال محفوظ است که چرا تفاوت هست؟ قهراً نمی شود اصل تفاوت را انکار کرد و اگر مهره ها هم تبدیل شود، سوال عوض نخواهد شد، چون تا شئون متفاوت وجود دارد، قهراً استعدادهای گوناگون لازم است و لازمۀ آن وجود افراد متفاوت است.

رهنمود قرآن کریم دربارۀ تفاوت موجودات چنین است:

1ـ باید زندگی به بهترین وجه اداره شود.

2ـ تسخیر متقابل موجودات و هماهنگی میان آحاد و طبقات متفاوت، موجب ادارۀ نظام به بهترین وجه است.

همان طور که اختلاف طبقات، استعدادها، گرایشها، جذبها و دفعها هیچ یک معیار فضیلت نیست و ابزار لازم برای تحقق تسخیر متقابل و دو جانبه است، اختلاف زن و مردم هم چنین است، یعنی استعداد برتر انسان ها نشانۀ فضیلت معنوی و تقرّب به خدا نیست. هر کس بتواند  از این استعداد برتر فایده ای بهتر ببرد و خالصانه تر کار کند، به مرتبۀ بالاتری از تقوا می رسد و از این جهت به کمال محض نزدیک تر خواهد شد، وگرنه چه بسا این استعداد زاید برای او وبال باشد، پس استعدادها فضیلتی ظاهری است. بنابراین، تفاوت ها برای تسخیر متقابل و دو جانبه و بهره مندی از یک دیگر است و هیچ کس حق ندارد به سبب داشتن قدرت و امکانات استعدادی یا غیر استعدادی از دیگران تسخیر یک جانبه طلب کند. بلکه باید تسخیر متقابل و خدمت متقابل باشد تا نظام به بهترین وجه اداره شود و عدم تسخیر، استهزا و منافع دیگران را رایگان به سود خود بردن است که قرآن آن را نهی کرده و ستم نامیده است.

پس محور اصلی تعلیم کتاب و حکمت و تزکیه و تهذیب و حقوق و ... که برنامۀ رسمی پیام آوران الهی است، گوهر ذات انسان است که موجودی مجرد است و از این جهت، نه مذکر است و نه مؤنث.

فرق میان زن و مرد، گذشته از ساختار بدن که ابزار روح مجرد انسانی است، در برخی از شئون نفس مجرد است. بر این اساس، روح مجرد مرد، بعضی اوصاف و بینش ها و گرایش های خاص دارد که با تجرد نفس او سازگار است و روح مجرد زن نیز برخی اوصاف مخصوص دارد که آن هم با تجرّد نفس انسانی منافات ندارد.

بررسی وظایف مشترک زن و مرد نشان خواهد داد که خطوط جامع تعلیم و تزکیه که مهم ترین رسالت انبیاء است، در آن ها حضور دارد و نیز بررسی وظایف خاص هر یک از دو صنف مزبور نشان خواهد داد که وظایف اختصاصی هر یک، به منزلۀ شرح همان متن جامع و مشترک است و هرگز مباین با آن نیست.[21]

البته ناگفته نماند که زن و مرد از نظر بدن و دستگاه های مغز و از لحاظ اندیشه، جذبه، گرایش، کشش، انجذاب و عاطفه و ... یکسان نیستند که این هم در جای خود لازم و ضروری است.

3ـ جایگاه حقوقی ـ اجتماعی زن:

قرآن دربارۀ عظمت حقوقی و اجتماعی زن می فرماید: ($yg•ƒr'¯»tƒ z`ƒÏ%©!$# (#qãYtB#uä Ÿw ‘@Ïts† öNä3s9 br& (#qèO̍s? uä!$|¡ÏiY9$# $\döx. ( Ÿwur £`èdqè=àÒ÷ès? (#qç7ydõ‹tGÏ9 ÇÙ÷èt7Î/ !$tB £`èdqßJçF÷s?#uä HwÎ) br& tûüÏ?ù'tƒ 7pt±Ås»xÿÎ/ 7poYÉit6•B 4 £`èdrçŽÅ°$tãur Å$rã÷èyJø9$$Î/ 4 bÎ*sù £`èdqßJçF÷d̍x. #Ó|¤yèsù br& (#qèdtõ3s? $\«ø‹x© Ÿ@yèøgs†ur ª!$# ÏmŠÏù #ZŽöyz #ZŽÏWŸ2).[22]

ای اهل ایمان! برای شما حلال نیست که زنان را به اکراه و جبر به میراث گیرید و بر زنان سختگیری و بهانه جویی مکنید که قسمتی از آن چه مهر آنها کرده اید، به جور بگیرید، مگر عمل زشت و ناشایستی از آنها آشکار شود و با آن ها در زندگی با انصاف و خوش رفتار باشید و چنان چه دلپسند شما نباشند، اظهار کراهت مکنید، بسا چیزها ناپسند شماست و حال آن که خدا در آن خیر بسیاری قرار داده است.

قرآن در بخش مسائل اجتماعی در آیۀ مذکور می فرماید: با زنها معاشرت نیک و معروف داشته باشید و زن را چون مرد در مجامع خود راه دهید و اگر خوشایندتان نیست که آن ها در مجامع شما شرکت کنند، این کار ناخوشایند را تحمل کنید زیرا ممکن است خیر فراوانی در این کار باشد و شما ندانید.

معاشرت در (£`èdrçŽÅ°$tãur Å$rã÷èyJø9$$Î/ 4) گرچه در زمینۀ امور خانوادگی است، اما اختصاص به آن ندارد، زیرا ملاک آن در مسائل اجتماعی نیز وجود دارد. گاهی بر اثر تعصب جاهلی یا رواج فرهنگ نادرست یا تعصب خام و مانند آن، مردها خوش نمی دارند که زنان مانند آنها در جامعه و صحنه های سیاست و اقتصاد و اداره جامعه، درمان و پزشکی، فرهنگ و تدریس و ... سمت و حضور داشته باشند، لیکن باید این امر را تحمّل کنند شاید خیر فراوانی در این کار باشد که نمی دانند.

معروف هر چیزی است که نزد عقل و پیش وحی و صاحب شریعت به رسمیت شاخته شده است و غیر آن منکر و ناشناخته است. قرآن می فرماید: با صنف زن به گونه ای رفتار کنید که عقل و شرع آن را به رسمیت می شناسد و این قشر عظیم را منزوی و با آنها بدرفتاری نکنید.[23]

4ـ زن و حق مالکیت:

یکی از مسائل مهم و مورد توجه در مسئله حقوقی زن این مسئله است که آیا زن در امور مالی و اقتصادی از دیدگاه اسلام از چه حق و حقوقی برخوردار است؟

اسلام به زن استقلال اقتصادی بخشیده است تا وی، مانند مردان از حق، مالکیت و تصرف در اموال خویشتن، بدون نظارت و قیمومیّت کسی، بهره ببرد و با اختیار خویش ثروت اش را در راهی که نیاز می داند صرف کند و یا طبق میل خود شغل انتخاب کند و یا کار فرهنگی بکند یا در عرصه سیاست پا بگذارد ... .

این مطلب از آن جا دارای اهمیت می باشد که زن در طول تاریخ از این حق یا به کلّی محروم بوده و یا از حق مناسب و شایسته خودش به طور کامل برخوردار نبوده است. قبل از ظهور اسلام و در دوران جاهلیت به همان دلیل که برای زن کمترین جایگاه انسانی و ارزش قایل نبودند حق مالکیت و ... هم نداشته و مالک هیچ چیز به حساب نمی آمد، حتی در مواردی چون ارث نه تنها زن مالک سهم خود نمی شد بلکه خودش جزء مایملک متوفّی به حساب می آمد و بسان اشیاء به سایر ورثه انتقال پیدا می کرد.[24]

اما در جوامع بشری دو قرن اخیر که مردم شاهد متمدّن شدن دارایی قانون کشوری و بین المللی بودند گرچه وضعیت زن نسبت به دوران جاهلیت یک درجه بهتر شده بود و مالک مالی به حساب می آمد، ولی به حقوق کامل خود از این جهت نرسیدند که به عنوان شخصیت غیر مستقل شناخته می شد، مانند صغیر و مجنون محجور و ... از تصرف در اموال خود ممنوع بوده است. این طرز تفکر حتی در قانون مدنی به اصطلاح مترّقی فرانسه هم دیده می شود که به عنوان نمونه به چند ماده از موادی که دربارۀ روابط مالی زوجین سخن می گوید اشاره می شود. از ماده 215 و 217 استفاده می گردد که زن شوهر دار نمی تواند بدون اجازه و امضاء شوهر خود هیچ عمل حقوقی را انجام دهد، و هر گونه معامله برای او محتاج به اذن شوهر است.

البته در صورتی که شوهر نخواهد از قدرتش سوءاستفاده کرده و بدون علت موّجه از اجازه دادن امتناع ورزد. طبق ماده 1242 شوهر حق دارد به تنهایی در دارایی مشترک بین زن و مرد هر گونه تصرف که بخواهد بکند و اجازۀ زن لازم نیست. البته با این قید که هر معامله ای که از حدود اداره کردن خارج باشد و موافقت و امضاء زن لازم است.

و از این بالاتر در ماده 1428 حق ادارۀ کلیه اموال اختصاصی زن را هم به مرد محوّل کرده است. البته با این قید که در هر گونه معامله ای که از حدود اداره کردن خارج باشد موافقت و امضاء زن لازم است.[25]

این وضعیت تا قبل از صد سال تقریباً در تمام کشورهای اروپایی حاکم بود، در انگلستان که سابقاً شخصیت زن کاملاً در شخصیت شوهر محو بوده دو قانون، یکی در سال 1870، دیگری در سال 1900 میلادی به اسم قانون مالکیت زن شوهر دار از زن رفع حجر نموده، در قانون ایتالیا سال 1919 میلادی زن را از شمار محجورین خارج کرد و در قانون مدنی آلمان سال 1900 میلادی و در قانون مدنی سوئیس سال 1907 میلادی آمده زن مثل شوهر خود اهلیت دارد، در قانون فرانسه در سال 1938 میلادی در حدود حجر زن شوهردار را تعدیل کرده است.[26]

امّا اسلام قبل از 1400 سال یعنی هزار و سیصد سال قبل از اروپا این قانون را گذراند.

انواع و اقسام ارتباطات مالی و اقتصادی را برای زن بلامانع دانسته و برای او استقلال و آزادی کامل داده تا بتواند در اموال شخصی خود هر گونه دخل و تصرف نماید و بدون این که کسب و موافقت شوهر لازم باشد، اعم از این که آن اموال قبل از ازدواج به دست آمده باشد و یا بعد از آن، از راه کسب و کار باشد و یا از راه ارث و امثال آن به دست آمده باشد.

زن در اسلام، افزون بر ادارۀ خانه و تربیت فرزندان که از مهم ترین وظایف اوست در بسیاری از مسئولیت های اجتماعی با مردان شریک است و انجام این وظیفه (خواه و ناخواه) او را از حصار خانه به صحنه های اجتماع و در عرصه های سیاست و اقتصاد و ... می کشاند. این نه تنها با حفظ حجاب و عفاف که وظیفۀ دیگر اوست منافات ندارد، بلکه او را در انجام بهتر مسئولیت های اجتماعی یاری می کند. آن چه با انجام به وظایف او منافات دارد، وجوب خانه نشین است، امری که اسلام هرگز طرفدار آن نیست. جای جای تعالیم و سیرۀ متشرعین در صدر اسلام نیز گواه این مدعاست، به گونه ای که محقق را در انتخاب شواهد و نمونه ها متحیر می سازد.[27]

5ـ زن و حق اشتغال:

فعالیت اقتصادی و کار و تلاش، همواره قرین زندگی زنان بوده است. زنان درطول تاریخ، علاوه بر انجام کارهای خانه، همیشه همگام با مردان به فعالیت هایی مثل کشاورزی و دام داری اشتغال داشته است و از این طریق، بخشی از هزینه خانواده را بر دوش کشیده و به اقتصاد و خانواده کمک می کرده اند. اما در زمان های گذشته، فعالیت های یاد شده نظیر سایر کارهایی که زنان در خانه انجام می دادند، کارخانه به شمار می رفته و در مقابل آن مزدی به زن پرداخت نمی شده است.

با حرکت جوامع به سوی دستاوردهای جدید و تبدیل کارگاه های خانگی و کوچک به کارخانه و جایگزینی ماشین به جای نیروهای انسانی، اشتغال زنان به فعالیت های اقتصادی بیرون از خانه، طی چند دهه اخیر، اهمیت ویژه ای یافته است، به گونه ای که در حال حاضر مشارکت اقتصادی و اشتغال زنان به فعالیت های اقتصادی در بیرون خانه، یکی از مسائل مهم و مطرح زنان در جامعه امروز ماست.

چنان که در تعریف کار و اشتغال نیز ذکر شد که کارهایی که زنان در خانه انجام می دهند و در مقابل آن ها مزدی دریافت نمی کنند از اصطلاح رایج خارج است لذا بحث ما در این مقاله در ارتباط با کارها و فعالیت های اقتصادیی است که در مقابل آن مزد می گیرند، زیرا آن چه امروز به عنوان یک مسئله مهم مطرح است و موافق و مخالف در ارتباط با آن در کتاب ها و مقالات به بحث و بررسی می پردازند، اشتغال زنان به کار و فعالیت اقتصادی در مراکز تولیدی و خدماتی و اداری در بیرون از خانه است.

پس سوال اصلی این است که آیا زنان می توانند همانند مردان در عرصه اجتماعی، فعالیت اقتصادی داشته باشند، یا تلاش در عرصه اجتماعی، و کار و تولید و تجارت و بازرگانی و ارائه خدمات عمومی ویژه مردان است؟ در این نوشته به بررسی این مسئله از نگاه قرآن و اسلام می پردازیم.

5ـ 1: شواهد قرآنی جواز بر فعالیت های اقتصادی زنان:

واژه های (فعل)، (عمل)، (کسب) در قرآن به معنای کار و تلاش هستند، اما معمولاً به معنای اقتصادی آن که خصوص فعالیتی است که برای تحصیل درآمد انجام می گیرد و در برابر آن مزدی پرداخت می شود به کار نمی رود، برای مثال واژه (فعل) و مشتقات آن قریب 108 بار در قرآن به کار رفته اند که در هیچ یک از آنها مراد از (فعل) کار اقتصادی و تلاش مادی نیست. واژۀ (عمل) و مشتقات آن قریب 360 مورد در آیات آمده اند که بیشتر آن ها به معنای تلاش اخروی است. تنها در برخی از آیات به معنای تلاش مادی به کار رفته اند، مثل: ($¨Br& èpoY‹Ïÿ¡¡9$# ôMtR%s3sù tûüÅ3»|¡yJÏ9 tbqè=yJ÷ètƒ ’Îû ̍óst7ø9$#)[28] (šÆÏBur ÈûüÏÜ»u‹¤±9$# `tB šcqß¹qäótƒ ¼çms9 šcqè=yJ÷ètƒur WxyJtã tbrߊ šÏ9ºsŒ)[29] ((z`ÏBur Çd`Éfø9$# `tB ã@yJ÷ètƒ tû÷üt/ Ïm÷ƒy‰tƒ)[30] واژه (کسب) نیز 67 بار در قرآن به کار رفته، ولی معمولاً به معنای کار اقتصادی نیست. تنها در یک مورد در آیه (4ÉA%y`Ìh=Ïj9 Ò=ŠÅÁtR $£JÏiB (#qç6|¡oKò2$# ( Ïä!$|¡ÏiY=Ï9ur Ò=ŠÅÁtR $®ÿÊeE tû÷ù|¡tGø.$#)[31] به معنای تلاش مادی و کسب درآمد استعمال شده است که می توان برای اثبات مشروعیت فعالیت اقتصادی زنان به آنان استناد کرد. پس هر چند معنای لغوی این واژه ها (کار) است، به ویژه لفظ (عمل) که در کتاب های عربی امروز به معنای تلاش اقتصادی به کار می رود، اما در بحث قرآنی نمی توانیم برای اثبات یا رد اشتغال زنان به این آیات استناد کنیم. آیات دیگری که در این موضوع می توانند ما را یاری دهند آیاتی هستند که واژه های به کار رفته در آن ها به صراحت، به معنای کار نیست، اما به دلالت التزامی، معنای کار و تلاش مادی از آن ها استفاده می شود. این آیات را می توان در چهار گروه بررسی کرد؛

گروه اول: آیات وفای به عهد

($yg•ƒr'¯»tƒ šúïÏ%©!$# (#þqãYtB#uä (#qèù÷rr& ϊqà)ãèø9$$Î/)[32]، ((#qèù÷rr& ϊqà)ãèø9$$Î/) امر است و انسان ها را به وفا کردن به هر چیزی که به آن (عقد) گفته شود امر کرده است. این آیه از دو جهت فراگیر است: نخست از جهت مصداق عقد، زیرا در آن عقد خاصی ذکر نشده است.

دوم از جهت مخاطب که زن و مرد را شامل می شود نه در این آیه و نه در هیچ آیه دیگری حکم وفای به عقد به گروه یا صنف خاصی منحصر نشده است. بنابراین، بر زن و مرد واجب است که به پیمان ها و قراردادهای خود از هر نوعی که باشند وفا کنند. استفاده مشترک زن و مرد در وجوب به وفای به عقود شرعی، به اندازه ای روشن بوده است که فقیهان در سراسر فقه، برای لزوم وفای به عقد به این آیه استدلال کرده و در هیچ موردی از دخالت جنسیت در الزام آیه شریفه بحثی نکرده اند. بنابراین لزوم وفای به عقد و اشتراک زن و مرد در این خطابات دلیل بر جواز مشارکت زنان در فعالیت های اقتصادی و تحصیل درآمد از طریق اجاره یا تجارت و بازرگانی و عقود شرعی دیگر است.

گروه دوم: آیات تحلیل و تحریم برخی از معاملات

آیه (3¨@ymr&ur ª!$# yìø‹t7ø9$# tP•ymur (#4qt/Ìh9$#)[33] و یا (Ÿwur (#þqè=ä.ù's? Nä3s9ºuqøBr& Nä3oY÷t/ È@ÏÜ»t6ø9$$Î/)[34] و یا ($yg•ƒr'¯»tƒ šúïÏ%©!$# (#qãYtB#uä Ÿw (#þqè=à2ù's? Nä3s9ºuqøBr& Mà6oY÷t/ È@ÏÜ»t6ø9$$Î/ HwÎ) br& šcqä3s? ¸ot»pgÏB `tã <Ú#ts? öNä3ZÏiB)[35] و آیات زیاد دیگر جنس بیع را به طور مطلق حلال و جنس ربا را حرام کرده اند آیه یا روایتی که بر دخالت جنسیت در این حکم دلالت داشته باشند نداریم. لذا حکمی که برای بیع و ربا بیان شده، از احکام مشترک میان زن و مرد است. هم چنین در برخی از آیات مذکوره ملاک ممنوعیت یا مشروعیت فعالیت های اقتصادی، صادق بودن عنوان (اکل مال به باطل) یا (¸ot»pgÏB `tã <Ú#ts?) قرار داده شده است ولی در هیچ یک از آنها، فعالیت های اقتصادی زن در بیرون از خانه مصداق (اکل مال به باطل) دانسته نشده است. بنابراین مشروع و مجاز خواهد بود.

گروه سوم: آیات امر به کار و تلاش مادی:

دسته ای دیگر از آیات به رغم این که مشتمل بر واژگانی رایج در اقتصاد و فقه نیستند، اما می توان از آنها جواز فعالیت اقتصادی و اشتراک میان زن و مرد را نتیجه گرفت مانند آیات ذیل:

(ãNä3š/•‘ “Ï%©!$# ÓÅe÷“ムãNà6s9 šù=àÿø9$# ’Îû ̍óst7ø9$# (#qäótGö;tGÏ9 `ÏB ÿ¾Ï&Î#ôÒsù 4 ¼çm¯RÎ) šc%x. öNä3Î/ $VJŠÏmu‘)[36] و یا (#sŒÎ*sù ÏMuŠÅÒè% äo4qn=¢Á9$# (#rãÏ±tFR$$sù ’Îû ÇÚö‘F{$# (#qäótGö/$#ur `ÏB È@ôÒsù «!$# (#rãä.øŒ$#ur ©!$# #ZŽÏWx. ö/ä3¯=yè©9 tbqßsÎ=øÿè?)[37] و آیات بسیاری دیگر که در آنها کلمات ترکیبی (و ابتغوا من فضل الله و فضل ربکم) و ... استفاده شده است.

مفسران (ابتغاء فضل) را در این آیات به تجارت و کسب و تلاش اقتصادی تفسیر کرده اند.[38]

از سوی دیگر، آیات یاد شده از جهت مخاطب اطلاق دارند بر این معنا که مخاطب دو فعل (تبتغوا) و (ابتغوا) خصوص مردان نیست بلکه نظیر خطابات دیگر قرآن شریف است که میان زن و مرد مشترک است مگر در جایی که دلیلی بر اختصاصی آن به مرد داشته باشیم. هم چنین از حیث نوع اشتغال نیز آیه در مقام بیان شغل خاصی نبوده است. بدین روی براساس این آیات، اصل اولی جواز انواع تصرفات زن در طبیعت و معاملات و تجارت است، مگر آن چه به دلیل قطعی خارج شده است.

گروه چهارم: اشتغالات خاص

گروه دیگر آیاتی است که می توان از آنها جواز اشتغال زنان به برخی از حرفه های خاص را اصطیاد کرد. تاکید بر این نکته ضروری است که آیاتی که از آنها یاد می شود، در مقام بیان حرفه و شغلی برای انسان ها نیست، بلکه در این دسته از آیات، انجام برخی از کارها مجاز اعلام شده است. کارهایی که اشتغال به آنها در میان مردم عصر نزول رایج بوده و هم اکنون هم انسان هایی به آن کارها اشتغال دارند. با توجه به مجوزی که قرآن برای انجام آن کارها به انسان داده و این اجازه را به گروه یا صنف ویژه ای اختصاص نداده است، می توان جواز اشتغال زنان به آن کار را از دیدگاه قرآن استفاده کرد. این کارها عبارتند از:

(الف) صیادی: ($pkš‰r'¯»tƒ tûïÏ%©!$# (#qãZtB#uä Ÿw (#q=ÏtéB uŽÈµ¯»yèx© «!$# Ÿwur tök¤¶9$# tP#tptø:$# Ÿwur y“ô‰olù;$# Ÿwur y‰Í´¯»n=s)ø9$# Iwur tûüÏiB!#uä |MøŠt7ø9$# tP#tptø:$# tbqäótGö6tƒ WxôÒsù `ÏiB öNÍkÍh5•‘ $ZRºuqôÊ͑ur 4 #sŒÎ)ur ÷Läêù=n=ym (#rߊ$sÜô¹$$sù 4 Ÿwur öNä3¨ZtB̍øgs† ãb$t«oYx© BQöqs% br& öNà2r‘‰|¹ Ç`tã ωÉfó¡yJø9$# ÏQ#tptø:$# br& (#r߉tG÷ès? ¢ (#qçRur$yès?ur ’n?tã ÎhŽÉ9ø9$# 3“uqø)­G9$#ur ( Ÿwur (#qçRur$yès? ’n?tã ÉOøOM}$# Èbºurô‰ãèø9$#ur 4 (#qà)¨?$#ur ©!$# ( ¨bÎ) ©!$# ߉ƒÏ‰x© É(>$s)Ïèø9$#[39]

(ب) ماهیگیری و غواصی: (uqèdur ”Ï%©!$# t¤‚y™ tóst7ø9$# (#qè=à2ù'tGÏ9 çm÷ZÏB $VJóss9 $wƒÌsÛ (#qã_̍÷‚tGó¡n@ur çm÷YÏB ZpuŠù=Ïm $ygtRqÝ¡t6ù=s?).[40]

(ج): دایگی: (4 ÷bÎ*sù z`÷è|Êö‘r& ö/ä3s9 £`èdqè?$t«sù £`èdu‘qã_é& ()[41]

(د): دامداری، ($£Js9ur yŠu‘ur uä!$tB šútïô‰tB y‰y`ur Ïmø‹n=tã Zp¨Bé& šÆÏiB Ĩ$¨Y9$# šcqà)ó¡o„ y‰y_urur `ÏB ãNÎgÏRrߊ Èû÷üs?r&tøB$# Èb#yŠrä‹s?...).[42]

5ـ 2: شواهد روایی بر جواز فعالیت های اقتصادی زنان

زنان فراوانی در صدر اسلام در زمان پیامبر گرامی (ص) و ائمه اطهار علیهم السلام به فعالیت های اقتصادی اشتغال داشتند.[43] و ائمه اطهار علیهم السلام نه تنها آنان را از کار و تلاش نهی نمی کردند، بلکه در برخی موارد لحن سخن یا طرز برخورد پیامبر (ص) یا امام با زنان مشاغل به گونه ای بود که تشویق به ادامه کار نیز از آن استفاده می شود. برخی از این کارها عبارتند از:

(1) بافندگی[44] (2) نوحه خوانی [45] (3) آرایشگری[46] (4) عطر فروشی[47]

به خاطر اختصار فقط به یک روایت بسنده می کنیم. ابن ابی عمیر با واسطه، از امام صادق (ع) روایت کرده است که: یکی از زنانی که به آرایشگری بانوان اشتغال داشت، بر پیامبر (ص) وارد شد، پیامبر اکرم (ص) به وی فرمود: آیا شغلت را رها کرده ای یا بر آن باقی هستی؟ زن گفت: ای رسول خدا. بر شغلم باقی هستم و ادامه می دهم، مگر آن که مرا از آن نهی کنی تا کنار بگذارم، حضرت نه تنها او را از آن کار منع نکرد، بلکه اجازه فرمود به کارش ادامه دهد و او را به برخی از آداب این کار نیز راهنمایی فرمود.[48]

پس از آیات و شواهد روایی یاد شده می توان استفاده کرد که اسلام نسبت به اشتغال زنان دید منفی ندارد و کار و تلاش اقتصادی را در خانه یا بیرون از خانه برای زنان ممنوع نکرده است.

البته تذکر این نکته ضروری است که آن چه به عنوان دیدگاه اسلام در ارتباط با اشتغال زنان بیان شد مربوط به نفس کار و تلاش اقتصادی و بیان جواز این عمل برای زنان است. اما این که زنان برای حضور در محل کار چه شرایطی را باید رعایت کنند؟ چه شغلی برای زنان شایسته تر است؟ کدام کار با حالت روحی و جسمی زن متناسب است؟ حق تقدم با کار خانه است یا بیرون، در صورت تزاحم میان رسیدگی به فرزندان و همسر و اشتغال به کار بیرونی، ترجیح با کدام است؟ این پرسش ها و ده ها پرسش دیگر باید در جای خود بحث شود که این مقاله مختصر گنجایش همه مطالب را ندارد.

نتیجه:

امروزه حقوق اقتصادی زنان از قبیل حق مالکیت و حق اشتغال یکی از مسائلی است که در اجتماع مطرح است و زنان به علل گوناگون به کار روی می آورند و حتی مجبور گشته اند علاوه بر مسئولیت های خود در خانه و تربیت فرزندان، مسئولیت های اجتماعی را نیز پذیرا گردند در این باره حضرت آیه الله جوادی آملی می فرماید: ما نمی توانیم بگوئیم که نیمی از جمعیت وارد اشتغال نشوند، چرا که اموری در جامعه وجود دارد که باید توسط زنان انجام شود و برای برطرف کردن این نیازها و تحصیل دختران، باید به فکر گسترش فضاهای دانشگاهی بود.[49]

این امر این قدر مهم است که امروزه یکی از شاخص های پیشرفت هر جامعه ای وضعیت اقتصادی، اجتماعی، فرهنگی و نوعی نگرش آن جامعه به زنان دانسته می شود.[50]

با نظر به اهمیت این موضوع سعی شد (ولو ناقص) که نظر اسلام را در این باره بررسی کنیم، اسلام در هزار و چهار صد سال پیش قانون استقلال اقتصادی زنان را گذراند و گفت: (Ÿwur (#öq¨YyJtGs? $tB Ÿ@žÒsù ª!$# ¾ÏmÎ/ öNä3ŸÒ÷èt/ 4’n?tã <Ù÷èt/ 4 ÉA%y`Ìh=Ïj9 Ò=ŠÅÁtR $£JÏiB (#qç6|¡oKò2$# ( Ïä!$|¡ÏiY=Ï9ur Ò=ŠÅÁtR $®ÿÊeE tû÷ù|¡tGø.$#)[51]یعنی مردان را از آن چه کسب می کنند و دست می آورند بهره ای است و زنان را از آن چه کسب می کنند و به دست می آورند بهره ای است. قرآن مجید در این آیه و دهها آیات دیگر همان طوری که مردان را اجازه فعالیت اقتصادی داده و در نتایج آن ها ذی حق دانسته است، زنان را نیز در نتیجه کار و فعالیت شان ذی حق شمرده است.[52]

پس علاوه بر این که زن حق مالکیت دارد بسیاری از کارهای اجرایی نیز جایز است و کارهای اجرایی و اشتغال و فعالیت اقتصادی (البته در چارچوب ضوابط شرعی) نه تنها برای زنان ممنوع نیست بلکه اولی است. زیرا که استعدادهای مختلف است و جامعه نیاز به استعدادهای متفاوت است.

                                                                                                   و بالله التوفیق

[1]. سوره حجرات / 13.           

[2]. مکارم شیرازی، قرآن حکیم و شرح آیات منتخب، ص 517.

[3]. همان، ص 517.

[4]. باقر عاملی، حقوق خانواده، ص 1ـ 2، مرضیه سادات مرتضوی و زهرا سادات مدنی، شخصیت و حقوق زن در اسلام، ج 3، ص 74.

[5]. دکتر سیاوس مریدی و علی رضا نوروزی، فرهنگ اقتصادی، عمید، فرهنگ فارسی. ادریس معلوف، المنجد فی اللغه، ص 684، راغب اصفهانی، مفردات الفاظ قرآن / 709.

[6]. منوچهر فرهنگ، فرهنگ بزرگ اقتصادی.

[7]. مرتضی قره باغیان، فرهنگ اقتصادی و بازرگانی، ج 2، احمد طاهری نیا، مجله معرفت، شماره 83.

[8]. سوره نجم / آیات 41 ـ 39.

[9]. سوره حجر، آیه 29.

[10]. سوره لقمان، آیه 20.

[11]. سوره اسراء، آیه 70.

[12]. سوره هود، آیه 61.

[13]. شیخ حر عاملی، وسایل الشیعه، ج 21، ص 390.

[14]. آیه الله جوادی آملی، انتظار بشر از دین، ص 152 ـ 165.

[15]. آیه الله جوادی آملی، زن در آیینه جلال و جمال، ص 202.

[16]. سوره کهف، آیه 49.

[17]. سوره فصلت، آیه 46.

[18]. سوره آل عمران، آیه 18.

[19]. سوره اعراف، آیه 29.

[20]. سوره حدید، آیه 25.

[21]. آیه الله جوادی آملی، زن در آیینۀ جلال و جمال، ص 207 ـ 209.

[22]. سوره نساء، آیه 19.

[23]. آیه الله جوادی آملی، زن در آیینه جلال و جمال، ص 285 ـ 287، ر.ک تفسیر المیزان، ج 4 / 402 ذیل آیه 19 نساء.

[24]. فصل نامه پژوهش های قرآنی، شماره 28 ـ 27، ص 198.

[25]. آیه الله مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج 2/112.

[26]. شهید مرتضی مطهری، نظام حقوق زن در اسلام، ص 200.

[27]. طاهره روحانی، زنان دین گستر در اسلام، ص 42 ـ 43.

[28]. سوره کهف، آیه 79.

[29]. سوره انبیاء، آیه 82.

[30]. سوره سبأ، آیه 12.

[31]. سوره نساء، آیه 32.

[32]. سوره مائده، آیه 1.

[33]. سوره بقره، آیه 275.

[34]. سوره بقره، آیه 188.

[35]. سوره نساء، آیه 29.

[36]. سوره اسراء، آیه 66.

[37]. سوره جمعه، آیه 10.

[38]. ابن کثیر القراشی، تفسیر القرآن العظیم، ج 3/54، سید محمدحسین طباطبایی، المیزان، ج 13/152، مولی محسن فیض کاشانی، تفسیر صافی، تحقیق حسین اعلمی، ج 3/181.

[39]. سوره مائده، آیه 2.

[40]. سوره نحل، آیه 14.

[41]. سوره طلاق، آیه 6.

[42]. سوره قصص، آیه 23.

[43]. محمد بن یعقوب کلینی: اصول کافی، ج 5/ 86 و 119.

[44]. همان، ج 5/ 151.

[45]. همان، ج 5/ 86.

[46]. همان / 119.

[47]. همان / 151.

[48]. همان / 151. احمد طاهری نیا، مجله معرفت، ش 83.

[49]. www. Esra.org.

[50]. بهار فرزانه، نقش تعاون در بهبود موقعیت زنان در جامعه ما، مجموعه مقالات و عملکرد تعاون زن اشتغال وزارت تعاون. بهار 1375. به نقل از پایگاه حوزه.

[51]. سوره نساء، آیه 32.

[52]. ر.ک: شهید مطهری، مجموعه آثار، ج 19.

اقبال اور فلسفه خودی

 

 

مقدمه

قال الله تعالي: سَنُريهِمْ آياتِنا فِي الْآفاقِ وَ في‏ أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَق‏ .[1]

هم عنقريب اپني نشانيوں كو تام اطراف عالم ميں اور خود ان كي نفس كي اندر دكھلائيں گے تا كه ان پر يه بات واضح هوجائي كه وه بر حق هے.

و قال علي 7من عرف نفسه فقد عرف ربه .[2]

حضرت علي7 نے فرمايا: جس نے اپنے آپ كو پهچان ليا اس نے اپنے رب كو پهچان ليا.

علامه اقبال كے متعلق ان كي تقليد ميں يا ان كے افكار ے متأثر هو كر بهت كچھ لكھا جاچكا ہے اور بهت كچھ لكھا جائے گا. اقبال زندگي كا ترجمان ہے اور جب تك هم زندگي كے طوفانوں سے كھيلتے رهيں گے وه همارے لئے روشني كے ايك مينار كا  كام ديتا رہے گا. يه علم و عرفان كا وه سرچشمه  ہے جس سے تشنه لب اپني پياس بجھاتے رهيں گے يه وه مشعل ہے جس سے نت نئے چراغ روشن هو نگے يا بقول آغا صادق، پاكستان كا سب سےبڑا سرمايه (اقبال هے. اقبال كا فلسفه خودي مقام عبوديت كا عرفان ہے خودي، خدا كے نور سے مستنير رهتي هے اور اپني جداگانه هستي بھي برقار ركھتي ہے. اقبال كي تعليم كا مركزي خيال يهي ہے.

خودي كي روح روان لا اله الا الله

 خودي ہے تير كمان لا اله الا الله

 خودي كا حسن بيان لا اله الا الله

  خودي كا سرّ نهان لا اله الا الله

خودي سے تيغ فساں لا اله الا الله[3]

1- تعريف خودي بزبان اقبال

لفظ خودي بمعني غرور استعمال نهيں كيا گيا جيسا كه عام طور پر اردو ميں مستعمل ہے. اس كا مفهوم محض احساس نفس يا تعيّن ذات ہے حتي كه مركب لفظ بيخودي ميں بھي اس كا يهي مفهوم ہے.[4]

علامه اقبال نے خودي كا لفظ اسي معني  ميں استعمال كيا ہے اس كي تشريح علامه خود اسرار خودي كے ديباچه ميں اس طرح فرماتے هيں شاعرانه تخيل محض ايك ذريعه ہے اس حقيقت كي طرف توجه دلانے كا كه لذت حيات (انا) كي انفرادي حيثيت اس كے اثبات، استحكام اور توسيع سے وابسته هے.[5]

آخرميں فرماتے هيں: ميں اس دقيق مسئله كو فلسفيانه دلائل كي پيچيدگيوں سے آزاد كركے تخيل كے رنگ ميں رنگين كرنے كي كوش كي ہے تا كه اس كي حقيقت كو سمجھنے اور غور كرنے ميں آساني پيدا هو

2- فلسفه خودي پر اقبال كي تصنيف

فلسفه خودي پر فارسي ميں اقبال كي تصنيف ہے اس كتاب كو سرسيد علي امام مرحوم كے نام نامي سے معنون كيا ہے- ديباچه علامه نے خود لكھا ہے. فرماتے هيں يه وحدت وجداني يا شعور كا روشن نقطه جس سے تمام انساني تخيلات و جذبات و تمنيات مستنير هوتے هيں يه پر اسرار شيء جو فطرت انساني كي منتشر اور غير محدود كيفيتوں كي شيرازه بند ہے. يه (خودي) يا (انا) يا (ميں) جو اپنے عمل كي رو سے ظاهر اور اپني حقيقت كي رو سے مضمر ہے. جو تمام مشاھدات كي خالق ہے. مگر جس كي لطافت مشاھده كي گرم نگاهوں كي تاب نهيں لاسكتي كيا چيز ہے؟ كيا يه لا زوال حقيقت ہے يا زندگي نے محض عارضي طور پر اپني فوري عمل اغراض كي حصول كي خاطر اپنے آپ كو اس قريب تخيل يا دروغ مصلحت آميز كي صورت ميں نماياں كيا ہے؟ اخلاقي اعتبار سے افراد و اقوام كا طرز عمل اس نهايت ضروري سوال كے جواب پر منحصر ہے اور يهي وجه ہے كه دنيا كي كوئي قوم ايسي نه هوگي جس كے حكماء اور علما نے كسي نه كسي صورت ميں اس سوال كا جواب پيدا كرنےكيلئے دماغ سوزي نه كي هو.

آگے چل كر لكھتے هيں مغربي ايشيا ميں اسلامي تحريك بھي ايك نهايت زبردست پيغام عمل تھي گو اس تحريك كے نزديك (انا) ايك مخلوق هستي ہے جو عمل سے لازوال هو سكتي ہے مگر مسئله انا كي تحقيق و تدقيق ميں مسلمانوں اور هندوؤں كي ذھني تاريخ ميں ايك عجيب مماثلت ہے اور وه يه كه جس نكته خيال سے سرشنكر نے گيتا كي تفسير كي اسي نكته سے شيخ محي الدين ابن عربي اندلسي نے قرآن شريف كي تفسير كي. جس نے مسلمانوں كے دل و دماغ پر نهايت گهرا اثر ڈالا ہے شيخ اكبر كي علم و فضل اور ان كي زبردست شخصيت نے مسئله وحدت الوجود كو جس كي وه ان تھك مفسر تھے. اسلامي تخيل كا ايك لاينفك عنصر بناديا. اوحد الدين كرماني اور فخر الدين عراقي ان كي تعليم سے نهايت متأثر هوئے او رفته رفته چودھويں صدي كے تمام عجمي شعرا اس رنگ ميں رنگين هوگئے.

اس تصنيف ميں علامه نے مختلف طريقوں سے ثابت كيا ہے كه تمام كائنات خودي كي تابع فرمان ہے. جب خودي كے ساتھ عشق كا امتزاج هوتا ہے تو خودي تمام عالم او رماورائے پر چھا جاتي ہے خودشكني اقبال كے نزديك گناه عظيم ہے اور خودگري  و خودشناسي مقصد حيات. آخر ميں علامه نے عرفان خودي كي راه بتائي ہے اور ان مدارج سے آگاه كيا ہے جن سے گذر كر خودي تكميل كي معراج پاسكتي ہے. اور عارف خودي كو خليفه الله في الارض كا اھل بناتي ہے.[6]

خودي ميں ڈوب جا غافل يه سر زندگاني ہے * نكل كر حلقه شام و سحر سےجاودان هوجا

3- خودي كي اقسام

خودي دو قسم كي هوتي ہے ايك شيطاني اور دوسري يزداني

1- شيطاني خودي:

شيطاني خودي وه ہے جس كا نمونه روز ازل شيطان نے پيش كيا تھا. كه با همه دعوائے عبادت و عبوديت اس معبود حقيقي اور آمر مطلق كے حكم سے سرتابي كي. نخوت و غرور كے باعث اس نے اپني اور آدم 7 كي تخليق ميں امتيازات قائم كئے اور اس كي انانيت و خودي نے اسے سجده كرنے كي توفيق نہ هونے دي. يهي خودي جب انسان ميں پيدا هوتي ہے تو اس كو شداد و هامان بنا كر (خسر الدنيا و الاخره) كا مصداق بناديتي ہے. شيطاني خودي ركھنے والا انسان تكبر و رعونت اور غرور و نخوت كا پتلا بن جاتا ہے وه اپنے هي بني نوع كو تحقير و تذليل كي نظر سے ديكھتا ہے تشدد و تجبر اس كي خو بن جاتا ہے اور وه اپنے قائم كرده امتيازات كي بدولت ايسي گمراهي و ضلال ميں مبتلا هوتا هے جو اسے فرائض حيات سے منزلوں دور هٹا ديتے هيں. صوفيائے اسلام كي تعليمات ميں جهاں كهيں (ترك خودي) كا لفظ استعمال هوا ہے وهاں اسي شيطاني خودي سے محترز رهنے كي هدايت كي گئي ہے.

2- يزداني خودي

دوسري خودي وه هي جو (من عرف نفسه فقد عرف ربّه) كي مصداق ہے اس خودي كي معرفت خصائص رذيله سے محفوظ ركھتي اور سيئات اعمال سے پناه ديتي هے. عارف خودي كو فرائض زندگي سے آگاه كركے اس كو بنده خدا اور مرد با خدا بناتي ہے. اور اگر اسكو ايك طرف (خليفه الله في الارض) كا اهل بناتي ہے تو دوسري جانب اس كو قرب الهي كا مستحق ٹھهرا كر محسود جن و ملك ثابت كرتي ہے. اس خودي كو حاصل كرنا انسان كي زندگي كا مقصود اصلي ہے اور يهي تعليم اسلام كي اصلي هدايت ہے. علامه اقبال نے خودي كا لفظ اسي معني ميں استعمال كيا ہے.

غريق قلزم وحدت دم از خودي ترند

بود محال كشيدن ميان آب نفس

رموزو بيخودي كے ديباچه ميں خود لكھتے هيں. جس طرح حيات افراد ميں جلب منفعت، دفع مضرت، تعين، عمل و ذوق حيات عاليه، احساس نفس كے تدريجي نشو و نما اس كي تسلسل ، توسيع اور استحكام سے وابسته ہے اسي طرح ملل و اقوام كے حيات كا راز بھي اسي احساس يا با الفاظ ديگر (قومي انا) كي حفاظت ، تربيت اور استحكام ميں مضمر ہے اور حيات مليه كا انتهائي كمال يه ہے كه افراد قوم كسي آئين مسلم كي پابندي سے اپنے فراتي جذبات كےحدود مقرر كريں تا كه انفرادي اعمال كا تباين و تناقض مٹ كر تمام قوم كيلئے ايك قلب مشترك پيدا هوجائے.

اقبال كے نزديك كائنات عالم كا ذره ذره نشه خودشناسي ميں سرشار ہے

 

سنگ چون بر خود گمان شيشه كرد

شيشه گرديد و شكستن پيشه كرد.[7]

4- مرد مومن كي صفات اقبال كي نظر ميں (خودي اور توحيد)

حضور كے فرمان كے مطابق جس نے اپنے آپ كو پهچان ليا اس نے اپنے رب كو پهچان ليا. اقبال اس خودشناسي كو خودي سے تعبير كيا ہے انسان الله تعالي كا بنده ہے اور بهت بڑي هستي كا بنده هونا بھي معمولي بات نهيں. جو شخص اس بات كو سمجھ ليتا ہے اس كے سامنے زندگي كي حقيقتيں بے نقاب هوجاتي هيں. وه الله تعالي كا بنده هونے كي حيثيت سے اپنے آپ كو عناصر حكمران سمجھتا ہے ان كا محكوم خيال نهيں كرتا . وه يه سمجھتا ہے كه يہ جهان اس كيلئے وه اس جهان كيلئے نهيں. اس كا كام دنيا كي طاقتوں كو مسخر كرنا ہے ان كے آگے جھكنا نهيں ہے وه خدا كا تابع فرمان ہے اور دنيا كي تمام طاقتيں اس كي تابع فرمان هيں. اسي كا نام توحيد ہے. اگر  كوئي شخص اپنے كسي هم جس ياكائنا ت كي دوسري چيز كي آگي جھكتا هے كسي چيز كو معبود خيال كرتا هے يا كسي كو خدائي صفا ت كا حامل گردانتا ہے تو وه اپنے آپ كو اصل مقام سے گرا ليتا ہے. يهي توحيد تھي جس كو نه  توسمجھا نه ميں سمجھا.

اس نے نه توحيد كي رمز كو سمجھا اور نه خودي كو

خودي سے اس طلسم رنگ و بو كو توڑ سكتے هيں

خودي كا اصل جوهر توحيد ہے تمام دنيا سے كٹ كر صرف ايك خدا كا هوكر ره جانا، اسي كو اپنا مالك، فرمانروا اور حاكم و معبود سمجھنا اور اس كي سوا كسي كے آگے نه جھكنے كا نام خودي ہے جتنا كوئي شخص عقيده توحيد ميں راسخ هوگا اتنا هي وه مضبوط اور با همّت هوگا اس كا تو كل صرف خدا كي ذات پر هوگا- خودي كي حقيقتيں خدا پر كامل ايمان اور يقين سے ظاهر هوتي هيں

خودي كا سرّ نهاں لا اله الا الله

خودي سے تيغ فسان لا اله الا الله [8]

5- خودي او ردنيا سے دوري

جو شخص خودي كي حقيقت كو پاليتا ہے دنيا كي تمام قوتيں اس كے سامنے مسخر هوتي چلي جاتي هيں وه دنيا كو اپنا مقصد نهيں سمجھتا بلكه مقصد تك پهنچنے كا ذريعه خيال كرتا هے وه جس طرف جاتا هے تلوار كي طرح باطل كو كاٹتا چلا جاتا ہے جو شخص دنيا كا غلام بن جاتا هے اسے اس مرد خدا سے كوئي نسبت نهيں هوتي جو خود دار هوتا ہے اور دنيا كي تمام چيزوں كو اپنے ماتحت سمجھتا ہے

جس بنده حق كي خودي هوگئي بيدار

شمشير كي مانند ہے برنده و براق

اس مرد خدا سے كوئي نسبت نهيں تجھ كو

تو بنده آفاق ہے وه صاحب آفاق

6- خودي اور دنيا كي طاقتوں سے نترس هونا

جو شخص اپنے مقام اور مرتبے كو نهيں پهچانتا وه بادشاه هوكر فقير هوتا ہے اور جو شخص اپني مقام اور مرتبے كو پهچان ليتا ہے وه فقيرهو كر بھي شهنشاهي كرتا ہے. تاريخ ميں انهيں عظيم الشان مسلمان بادشاهوں كي حيثيت سے ياد كيا جاتا ہے. اگر كوئي شخص خودي كا اعلي مقام حاصل كرليتا ہے تو اس كيلئے ناممكنات بھي ممكنات ميں تبديل هوجاتي هيں دريا اس كے سامنےپاياب اور پهاڑ ريشم بن جاتے هيں وه فقير هوتےهوئے بھي بادشاهوں كي سي شوكت كامالك هوتا ہے.

خودي هو زنده تو ہے فقر بھي شهنشاهي

نهيں ہے سنجر و طغرل سے كم شكوه فقير

خودي هو زنده تو دريائے بيكران پاياب

خودي هو زنده تو كهسار پرنيان و حرير

7- خودي اور جوان

جس قوم كے جوانوں ميں خودي كا جوهر پيدا هوجاتا ہے وه اسباب و وسائل كي كمي كا شكوه نهيں كرتے انهيں جو كچھ ميسر هوتا ہے اسي سے كام ليتے ہيں ان كي اخلاقي قوت ان كے اسباب كي كمي كو پورا كرديتي ہے. وه هر وقت حركت ميں رهتے هيں وه واقعي بڑا آدمي ہے اور چاند، ستاريےاس كے سامنے كوئي حيثيت نهيں ركھتے. جس قوم كے جوانوں ميں خودي كي يه صفات پيدا هوجائيں وه قوم مادي وسائل كے بغير بھي كامياب زندگي بسر كرتي ہے.

اس قوم كو شمشير كي حاجت نهيں رهتي

هو جس كے جوانوں كي خودي صورت فولاد

ناچيز جهاں مه و پرويں ترے آگے

وه عالم مجبور ہے تو عالم آزاد

شاھين كبھي پرواز سے تھك كر نهيں گرتا

پردم ہے اگر تو تو نهيں خطره افتاد

8- خودي كا تقاضا

خودي كا تقاضا يه هے كه مسلمان دنيا كي رنگينيوں ميں الجھنے كي بجائے اس كائنات كو مسخر كرے وه دنيا ميں الله تعالي كا نائب ہے اسے دنيا ميں الله تعالي كے احكام كي بجا آوردي كے لئے پيدا كيا گيا ہے جس طرح سمندر ساحل سے ملحق رهتا ہے ليكن اپنے وجود كو هميشه برقرار ركھتا ہے. كبھي مكمل طور پر خشكي ميں تبديل نهيں هوجاتا اسي طرح مرد مومن دنيا ميں رهتے هوئے اپنے وجود كو دنيا ميں گم نهيں ديتا بلكه اپنے تشخص كو هر صورت ميں قائم ركھتا ہے ه خود سمندر ہے اور دنيا كا تمام مال  ومتاع اس كي جھاگ ہے.

خودي كے زور سے دنيا په چھاجا

برنگ بحر ساحل آشنا جا

مقام رنگ و بو كا راز پاجا

كف ساحل سے دامن كھينچتا جا

يه پيام دے گئي ہے مجھے باد صبح گاهي

كه خودي كے عارفوں كا ہے مقام پادشاهي

9- خودي اور راز زندگي

اقبال كي نظر ميں خودي زندگي كا راز ہے اس كي حفاظت زندگي كي حفاظت ہے جن چيزوں سے خودي ميں زوال پيدا هو مرد مومن ان سے هميشه  كناره كش رهتا هے اور هر آن خودي كي حفاظت كرتا ہے خودي كے نگهبان كيلئے ايسا رزق يا ذريعه معاش جس سے اس كي عزت بر حر ف آئے خالص زهر ہے اس كيلئے وهي معاش قدر و قيمت والي ہے جس سے وه دنيا ميں با عزت ره سكے.

خودي كے نگهبان كو ہے زهر ناب

وه نان جس سے جاتي رهے اس كي آب

وهي نان سے اس كيلئے ارجمند

رهے جس سے دنيا ميں گردن بلند.

فرو فال محمود سے درگذر

خودي كو نگہ ركھ ايازي نه كر[9]

10- اوج خودي

مقام خودي كا كيا كهنا! مشيت ايزدي تك بندے سے اس كي طالب ہے اس مقام عبوديت كا طربناك بيان علامه اقبال كي اس غزل ميں بدرجه اتم موجد ہے

اسير ناز بزم بے نيازي ميں اگر پهنچے

مقام ما رميت اذ رميت تجھ كو مل جائے

تعلق عبد اور معبود ميں اتنا تو هونے دے

خودي كو كر بلند اتنا كه هر تقدير سے پهلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تيري رضا كيا ہے[10]

نتيجه

اقبال كي نظر ميں اسلام كي بڑي تعليم عرفان خودي ہے عارف خودي كے سامنے ساري دنيا جھك جاتي ہے وه بے پناه قوتوں كا مالك هوتا ہے اور هر شے اس كي اشاره پر عمل پيرا نظر آتي ہے

رمز دين مصطفے داني كه چيست؟

فاش ديدن خويش را شاهنشهي است

چيست دين؟ دريافتن اسرار خويش

زندگي مرگ است بے بيدار خويش

آن مسلمانے كي بيندخويش را

از جهانے برگزيند خويش را

جب علامه نے فرد كي بے پناه اهميت اور اس كے جو هر ذات كي محدود استعداد پر اظهار فكر كيا تو اس سے انساني انا يا خودي كي حقيقت تو ايك نئے خيال انگيز اور انقلابي رنگ ميں سامنے آئي.[11]

خودي كي شمع جلا دي ہے بزم آدم ميں

كه جس كي لوسے هوئي روشني سب عالم ميں

رموز بے خودي اقبال نے سكھائے مجھے

مرے وجود سے جاويد سوزسر گم ميں[12]

آخر ميں دعا كرتا هوں كي هميں بھي حقيقتاً عرفان خودي حاصل كرنے اور اس كے نتيجے ميں خدا كي صحيح معرفت حاصل كرنے كي توفيق عنايت فرمائيں

اور ميں مجمع اسلامي كشمير كے اراكين كا تشكر اور قدرداني كرتا هوں كه ايك دفعه پھر اقبال كي نظريات پر غور و فكر كرنے اور اقبال كے متعلق تصانيف كامطالعه كرنے كا موقع فراهم كيا. خدا هم سب سے اس ناچيز خدمت كو قبول فرمائيں آمين.


 

 

 

 

منابع و ماخذ

1.  قرآن كريم

2.  بحار الانوار

3.  اقبال شناسي اور آغا صادق، ڈاكٹر نويد حسن، سنگ ميل پبلي كيشنز ، لاهور، 1995.

4.  اقبال كا تصور دين، پروفيسر شفيق الرحمن هاشمي، اسلامك بك فاونڈيشن،‌نئي دهلي، 1990.

5.  تجديد فكريات اسلام، ترجمه ڈاكٹر وحيد عشرت، اقبال لائبريري، قم.

6.  سيرت اقبال، پروفيسر محمد طاهر فاروقي، گوهر پبلي كيشنز ، لاهور، بي تا.

7.  شرح اسرار و رموز ، ڈاكٹر خواجه حميد يزداني، سنگ ميل پبلي كيشنز، لاهور،

8.  كليات اقبال فارسي، پروين قائمي،‌تهران، نشر پيمان 1382ش.

9.  كليات اقبال،‌اردو فرخ پبلشرز، لاهور

۱۰        مجله پيغام آشنا،‌نمبر 4 دسمبر 2000.



[1] - الصف، 53.

[2] - بحار الانوار، ج 2، ص 32.

[3] - كليات اقبال، ضرب كليم، 8

[4] - سيرت اقبال

[5] - همان.

[6] - سيرت اقبال، محمد طاهر فاروقي.

[7] - سيرت اقبال، ص 268.

[8] - ضرب كليم.

[9] - كليات اقبال، اقبال كا تصور دين، شفيق الرحمن هاشمي.

[10] - اقبال شناسي، اور آغا صادق ،ڈاكٹر نويد حسن.

[11] - شرح اسرار و رموز، خواجه حميد يزداني.

[12] - پيغام آشنا،شماره 4.

ماسبتی

روز ولادت با سعادت مولای متقیان امیر مؤمنان علی علیه السلام مبارک باد

 

اسباب سعادت و شقاوت از نظر احادیث

سعیداز ماده سعادت به معنى فراهم بودن اسباب نعمت، و شقى از ماده شقاوت به معنى فراهم بودن اسباب گرفتارى و مجازات و بلاست، بنابراین سعیدها در آن جهان همان نیکوکارانى هستند که در لابلاى انواع نعمتها جاى آنهاست و شقاوتمندان همان بدکارانى هستند که در دل دوزخ در انواع مجازات ها گرفتارند. و بهر حال این شقاوت و آن سعادت چیزى جز نتیجه اعمال و کردار و گفتار و نیات انسان در دنیا نیست.
سعادت که گم شده همه انسانها است و هر کس آن را در چیزى مى جوید و در جائى مى طلبد به طور خلاصه عبارتست ''از فراهم بودن اسباب تکامل براى یک فرد یا یک جامعه، و نقطه مقابل آن شقاوت و بدبختى است که همه از آن متنفرند و آن عبارت از: نامساعد بودن شرائط پیروزى و پیشرفت و تکامل است ''. بنابراین هر کس از نظر شرائط روحى، جسمى، خانوادگى، محیط و فرهنگ، اسباب بیشترى براى رسیدن به هدفهاى والا در اختیار داشته باشد به سعادت نزدیکتر یا به تعبیر دیگر سعادتمندتر است. و هر کس گرفتار کمبودها، نارسائیها، از جهات بالا بوده باشد شقاوتمند و بى بهره از سعادت خواهد بود. ولى باید توجه داشت که پایه اصلى سعادت و شقاوت، اراده و خواست خود انسان است. او است که مى تواند وسائل لازم را براى ساختن خویش و حتى جامعه اش فراهم سازد، و او است که مى تواند با عوامل بدبختى و شقاوت به مبارزه برخیزد و یا تسلیم آن شود.
خداوند در سوره بروج می فرماید: «سیذکر من یخشی؛ و به زودى آنها که از خدا مى ترسند متذکر مى شوند.» (بروج/ 10) این به خاطر آن است که ریشه اصلى سعادت و خوشبختى انسان، همان احساس مسؤولیت و خشیت است. شقوة و شقاوة ضد سعادت است، و به معنى فراهم بودن اسباب گرفتارى و مجازات و بلا است، و به تعبیر دیگر شر و آفتى است که دامان انسان را مى گیرد در حالى که سعادت به معنى فراهم بودن اسباب نعمت و نیکى است، و در هر حال هر دو (شقاوت و سعادت) چیزى جز نتیجه اعمال و گفتار و نیات ما نمى باشد.
در منطق انبیاء سعادت و شقاوت چیزى نیست که در درون ذات انسان باشد، و حتى نارسائیهاى محیط و خانوادگى و وراثت در برابر تصمیم و اراده خود انسان، قابل تغییر و دگرگونى است، مگر اینکه ما اصل اراده و آزادى انسان را انکار کنیم و او را محکوم شرائط جبرى بدانیم و سعادت و شقاوتش را ذاتى و یا مولود جبرى محیط و مانند آن بدانیم که این نظر بطور قطع در مکتب انبیاء و همچنین مکتب عقل محکوم است.
جالب اینکه در روایاتى که از پیامبر اکرم (ص) و ائمه معصومین علیهم السلام نقل شده، انگشت روى مسائل مختلفى به عنوان اسباب سعادت یا اسباب شقاوت گذارده شده که مطالعه آنها انسان را به طرز تفکر اسلامى در این مساله مهم، آشنا مى سازد و بجاى اینکه براى رسیدن به سعادت و فرار از شقاوت به دنبال مسائل خرافى و پندارها و سنتهاى غلطى که در بسیارى از اجتماعات وجود دارد، و مسائل بى اساسى را اسباب سعادت و شقاوت مى پندارند، به دنبال واقعیات عینى و اسباب حقیقى سعادت خواهد رفت. به عنوان نمونه:
1- امام صادق (ع) از جدش امیر مؤمنان على (ع) چنین نقل مى کند: «حقیقة السعادة ان یختم للرجل عمله بالسعادة و حقیقة الشقاوة ان یختم للمرء عمله بالشقاوة؛ حقیقت سعادت این است که آخرین مرحله زندگى انسان با عمل سعادتمندانه اى پایان پذیرد و حقیقت شقاوت این است که آخرین مرحله عمر با عمل شقاوتمندانه اى خاتمه یابد». این روایت با صراحت مى گوید مرحله نهائى عمر انسان و اعمال او در این مرحله بیانگر سعادت و شقاوت او است و به این ترتیب سعادت و شقاوت ذاتى را به کلى نفى مى کند و انسان را در گرو اعمالش مى گذارد و راه بازگشت را در تمام مراحل تا پایان عمر براى او باز مى داند.
2- در حدیث دیگرى از على (ع) مى خوانیم: «السعید من وعظ بغیره و الشقى من انخدع لهواه و غروره؛ سعادتمند کسى است که از سرنوشت دیگران پند گیرد و شقاوتمند کسى است که فریب هواى نفس و غرورش را بخورد». این سخن على (ع) نیز تأکید مجددى است بر اختیارى بودن سعادت و شقاوت و بعضى از اسباب مهم این دو را بیان مى کند.
3- پیامبر اسلام (ص) مى فرماید: «اربع من اسباب السعادة و اربع من الشقاوة فالاربع التى من السعادة المرئة الصالحة و المسکن الواسع، و الجار الصالح، و المرکب البهىء و الاربع التى من الشقاوة الجار السوء و المرئة السوء و المسکن الضیق و المرکب السوء؛ چهار چیز است که از اسباب سعادت و چهار چیز است از اسباب شقاوت است: اما آن چهار چیز که از اسباب سعادت است: همسر صالح، خانه وسیع، همسایه شایسته و مرکب خوب است و چهار چیز که از اسباب شقاوت است: همسایه بد و همسر بد و خانه تنگ و مرکب بد است.» با توجه به اینکه این چهار موضوع در زندگى مادى و معنوى هر کس نقش مؤثرى دارد و از عوامل پیروزى یا شکست مى تواند باشد، وسعت مفهوم سعادت و شقاوت در منطق اسلامروشن مى شود. یک همسر خوب انسان را به انواع نیکیها تشویق مى کند، یک خانه وسیع روح و فکر انسان را آرامش مى بخشد، و آماده فعالیت بیشتر مى نماید، همسایه بد بلا آفرین و همسایه خوب کمک مؤثرى به آسایش و حتى پیشرفت هدفهاى انسان مى کند، یک مرکب بدردخور براى رسیدن به کارها و وظائف اجتماعى عامل مؤثرى است، در حالى که مرکب قراضه و زوار در رفته یک عامل عقب ماندگى است، چرا که کمتر مى تواند صاحبش را به مقصد برساند.
4- و نیز از پیامبر (ص) این حدیث نقل شده است: «من علامات الشقاء جمود العینین، و قسوة القلب، و شدة الحرص فى طلب الرزق، و الاصرار على الذنب؛ از نشانه هاى شقاوت آنست که هرگز قطره اشکى از چشم انسان نریزد، و نیز ازعلامات آن سنگ دلى، و حرص شدید در تحصیل روزى، و اصرار بر گناه است». این امور چهارگانه که در حدیث فوق آمده امورى است اختیارى که از اعمال و اخلاق اکتسابى خود انسان سرچشمه مى گیرد و به این ترتیب دور کردن این اسباب شقاوت در اختیار خود انسانها است. اگر اسبابى را که براى سعادت و شقاوت در احادیث بالا ذکر شده با توجه بر عینیت همه آنها و نقش مؤثرشان در زندگى بشر با اسباب و نشانه هاى خرافى که حتى در عصر ما، عصر اتم و فضا گروه زیادى به آن پایبندند، مقایسه کنیم به این واقعیت مى رسیم که تعلیمات اسلام تا چه حد منطقى و حساب شده است.