حجة الاسلام و المسلمین الحاج سید حسن ناصر الدین رضوی مرحوم اعلی الله مقامه


باسمه تعالی

تعارف

ثقۃ الاسلام، مروج الاحکام، جناب آقا سید حسن ناصر الدین الرضوی (اعلی الله مقامه) کا شمار ان بزرگ شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی علمی، دینی اور تبلیغی خدمات کے ذریعے دینِ اسلام کی اشاعت اور شعورِ دینی کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کی ولادت علاقہ بلتستان کے تاریخی اور روحانی گاؤں، قریہ قمراہ، میں ہوئی۔ آپ ایک معروف علمی اور مذہبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، جو نسل در نسل دین اور خدمتِ خلق کا پرچم بلند کرتا آیا ہے۔

خاندانی پس منظر

آپ کا تعلق رضوی سادات کے اُس خاندان سے ہے جس نے علم، دین اور روحانیت کی روشنی پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کے اجداد، سیدمیر محمد، سید میر حبیب، سید میر موسیٰ اور سید میر عظیم (قدس الله نفسهم الزکیه)، کے مزارات علاقه قمراہ میں واقع ہیں، جو زیارت گاہِ مومنین ہیں۔ آپ کے نسب کا سلسلہ کشمیر کے بزرگ سید حسین قمی (رح) سے جڑتا ہے، جن کا مزار آج بھی زیارت کے لیے مرجع خلائق ہے۔ سید حسین قمی کا شجرہ نسب امام زادہ حضرت موسیٰ مبرقع (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے، جو امام محمد تقی علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ ان کا مزار مقدس شہر قم، ایران میں زیارت گاہِ مومنین ہے۔

آپ کے مورث اعلیٰ یہی امام زادہ ہیں، جن کی روحانی اور علمی میراث کو آپ نے اپنی زندگی میں زندہ رکھا اور فروغ دیا۔

اخلاق و صفات

آ‍پ بهت هی سخاوتمند ، مهما ن نواز، خوش مزاج اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے . آپ همیشه چاهنے والوں کی خبر گیری کے لئے جایا کرتے تھے یا اپنے گھر بلا کر ان کے ساتھ گھنٹوں وقت گزارتے تھے.

ائمه علیهم السلام کے عاشق تھے اپنے گھر مجالس برپا کرتے تھے جب خطیب مصائب پڑھتے تھے تو رونے کی وجه سے پورا بدن لرزتا تھا.

تعلیم و تربیت

جناب حجه الاسلام سید حسن ناصر الدین الرضوی نے اپنی ابتدائی زندگی میں اپنے والدین کے ساتھ عراق کے مقدس شہر نجف اشرف کی طرف ہجرت کی۔ نجف اشرف، جو حوزہ علمیہ کا مرکز اور علمی دنیا کی عظیم درسگاہ ہے، میں آپ نے دینی تعلیم حاصل کی۔ یہاں آپ کو بزرگ علماء اور اساتذہ کی سرپرستی نصیب ہوئی، جنہوں نے آپ کی علمی اور روحانی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

آپ نے قلیل عرصے میں عربی زبان میں مہارت حاصل کی اور جلد ہی آپ کے خطبات علمی مجالس اور تبلیغی سرگرمیوں کا حصہ بننے لگے۔ نجف اشرف کے قیام کے دوران، آپ نے بعقوبہ، بصرہ اور کویت جیسے علاقوں کا سفر کیا اور وہاں تبلیغی سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ عراق میں امام خمینی ره کے دروس اور محافل میں شرکت کرتے تھے اسی لئےمختلف جگهوں پر امام راحل کے ساتھ تصاویر میں دیکھا جا سکتا هے.

ایران کی جانب ہجرت

عراق میں سیاسی حالات کی خرابی کے باعث آپ ایران ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور قم المقدسہ کے حوزہ علمیہ میں داخل ہوئے۔ یہاں بھی آپ نے علمی اور تبلیغی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ قم میں قیام کے دوران آپ نے کرمان شاہ اور دیگر قریبی علاقوں کے مومنین کو دینی رہنمائی فراہم کی اور اپنی تبلیغی خدمات سے عوام کے دلوں میں دین کی محبت پیدا کی۔ ایران میں مختلف شخصیات سے آپ کا رابطه تھا اور وه لوگ آپ کی شخصیت کے معترف تھے اور مختلف درسی محفلوں میں آپ کو مثال کے طور پر پیش کرتے تھے. ان میں مدرس افغانی، آیت الله نیکو نام، شریعتمداری، آیت الله منتظری، آیت الله لنگرودی اور آیت الله یثربی شامل هیں.

تبلیغی خدمات

آپ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو تبلیغ دین ہے۔ حضرت آیت اللہ سید محمد مہدی مرتضوی نجف آبادی (ره) کے ہمراہ آپ نے پاکستان اور ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا۔ ان تبلیغی اسفار میں آپ نے عوام کو دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا اور بلتی زبان میں مجالس سے خطاب کیا۔ آپ کے خطبات نے مقامی عوام کو بہت متاثر کیا اور انہیں دین سے قریب تر کیا۔ ایران کے مختلف شهروں میں تبیلغی سفر کیا خصوصا بندر عباس شهر میں تبلیغ کے علاوه مساجد کی تعمیر بھی کیے. قم مقدسه میں بھی برصغیر کے طلاب کی مشکلات کو مد نظر رکھتے هوئے ایک مدرسه علمیه قائم کیا.

علمی مصروفیات

آپ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد پاکستان کے علماء کے ایک وفد کے ساتھ قم تشریف لے گئے، جہاں آپ نے حوزہ علمیہ قم میں اپنی علمی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اپنی عمر کی آخرین لحظه تک آپ دینی علوم کی تدریس اور تحقیق میں مشغول رہیں اور دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے رہیں آپ نے کچھ تالیفات بھی مترتب کیے ان میں فضیلت نجف اشرف نامی کتاب قابل ذکر هے۔

حیات و خدمات

جناب سید حسن ناصر الدین الرضوی کی حیات دینِ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے، علمی معیار کو بلند کرنے، اور مومنین کو دینی مسائل کی رہنمائی فراہم کرنے کے لیے وقف ہے۔ آپ کے خطبات، تحریرات اور تبلیغی دورے دینی شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ نے نہ صرف علمی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا بلکہ تبلیغ کے ذریعے عوام کے دلوں میں دین کی محبت اور اخلاص کو فروغ دیا۔

آپ کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور آپ کی علمی اور روحانی کاوشیں دینِ اسلام کی تقویت اور ترویج کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔[1]

جناب ثقۃ الاسلام آقا سید حسن ناصر الدین الرضوی (دامت برکاتہ) حال ہی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی وفات علمی، دینی اور تبلیغی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ آپ کی زندگی دین اسلام کی خدمت، علم کے فروغ، اور مومنین کی رہنمائی میں گزری۔ آپ کا علمی ورثہ اور تبلیغی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

آپ کی وفات نہ صرف بلتستان بلکہ دنیا بھر میں موجود مومنین کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ آپ نے اپنی حیات کے آخری لمحات تک دین کی خدمت اور مومنین کی رہنمائی کو اپنا مقصدِ حیات بنایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جوارِ معصومینؑ میں بلند مقام عطا فرمائے اور آپ کے خانوادے اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔

مولف کی کتاب

بنده حقیر کے لئے هدیه دیا

آ‍‍پ کی کتاب پر حجه الاسلام محمد رضا غلام رضایی کی تاثرات



آ‍‍پ کا شجره نسب

و بالله التوفیق



[1] مجلہ جامعہ محمدیہ 1978

سید حبیب رضوی( بزرگ خاندان رضوی قمراه) شخصیت، خدمات  اور آثار


باسمه تعالی

تحریر : سید احمد رضوی

مقدمه

قرآن کریم میں حسب و نسب (خاندانی شرافت اور نسل)

قرآن کریم میں حسب و نسب (خاندانی شرافت اور نسل) کو ایک اہم پہلو کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس پر زور دیا گیا ہے کہ اصل معیار تقویٰ (پرہیزگاری) ہے نہ کہ صرف نسب یا خاندانی پس منظر۔ ذیل میں چند آیات کے ذریعے وضاحت کی گئی ہے:

1. انسان کی تخلیق اور نسب کا ذکر

اللہ نے انسان کو مختلف قبائل اور خاندانوں میں پیدا کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، نہ کہ فخر کریں:

> یاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنكُم مِّن ذَكَرٍ وَّاُنثى وَجَعَلْنكُم شُعُوبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا‌ ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُم عِندَ اللّهِ اَتقىكُم‌ ؕ اِنَّ اللّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ. (سوره الحجرات: 13)

"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ نسب کا مقصد صرف تعارف ہے، عزت و بزرگی تقویٰ پر منحصر ہے۔

2. نسب کا ذکر اور شکر گزاری کی ترغیب

نسب کو انسان کی پہچان اور نعمت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے:

> وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ مِنَ ٱلْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُۥ نَسَبًا وَصِهْرًاۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا. (سورہ الفرقان: 54)

"اور وہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب اور سسرال کا رشتہ عطا کیا، اور تمہارا رب ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔"

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ نسب اور خاندانی تعلقات اللہ کی قدرت اور حکمت کا مظہر ہیں۔

3. پچھلے انبیاء کے حسب و نسب کا ذکر

قرآن میں انبیاء کے نسب کا ذکر ان کے انتخاب کی وضاحت کے لیے کیا گیا ہے، مثلاً:

> إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحًا وَءَالَ إِبْرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمْرَٰنَ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ۔ ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنۢ بَعْضٍۢ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ. (سورہ آل عمران: 33-34)

"بے شک اللہ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو دنیا والوں پر فضیلت دی۔ یہ ایک نسل تھی جو ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی تھی، اور اللہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔"

یہ آیات انبیاء کے نسب کی پاکیزگی اور ان کے مشن کی عظمت کو ظاہر کرتی ہیں۔

4. حسب و نسب پر فخر کی مذمت

قرآن اس بات کی سختی سے نفی کرتا ہے کہ نسب پر فخر کیا جائے یا اسے نجات کا ذریعہ سمجھا جائے:

> إِذْ قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًاۚ قَالُوٓا۟ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِٱلْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةًۭ مِّنَ ٱلْمَالِۚ (سورہ البقرہ: 247)

"جب ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تم پر بادشاہ مقرر کیا ہے، تو انہوں نے کہا: وہ ہم پر بادشاہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ہم بادشاہت کے زیادہ حق دار ہیں اور اسے مال کی وسعت بھی نہیں دی گئی؟"

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک نسب اور مال معیار نہیں بلکہ اس کی مرضی اور تقویٰ اہم ہے۔

5. نجات اور حسب و نسب

اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ حسب و نسب انسان کو اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا:

> فَإِذَا نُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَلَآ أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍۢ وَلَا يَتَسَآءَلُونَ. (سورہ المؤمنون: 101)

"پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن نہ تو نسب کام آئیں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کے بارے میں سوال کریں گے۔

قرآن نسب کو اللہ کی ایک نشانی اور انسانوں کے تعارف کا ذریعہ قرار دیتا ہے لیکن اصل معیار تقویٰ اور اعمال صالحہ کو قرار دیتا ہے۔ نسل پر فخر کرنا یا اسے نجات کا ذریعہ سمجھنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

اسلامی روایات میں حسب و نسب

اسلامی روایات میں حسب و نسب کو اہمیت دی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ تقویٰ اور اعمال صالحہ کو حقیقی معیار قرار دیا گیا ہے۔ درج ذیل میں حسب و نسب کے بارے میں کچھ روایات پیش کی جا تی ہیں:

1. حسب و نسب اور تقویٰ

قال رسول الله صلى الله عليه وآله: "يا أيها الناس، إن الله قد أذهب عنكم عُبِيَّةَ الجاهلية وفخرها بالآباء، الناسُ من آدم وآدمُ من تراب، أكرمُكم عند الله أتقاكم." (مسند أحمد بن حنبل، ج 5، ص 411؛ صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحریم الفخر، حدیث 4656)

اے لوگو! اللہ نے تم سے جاہلیت کا غرور اور حسب و نسب پر فخر کو ختم کر دیا ہے۔ سب لوگ آدم سے ہیں اور آدم مٹی سے تھے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔

2. نسب پر فخر کی مذمت

قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: "من بطّأ به عملُه، لم يسرع به نسبُه." (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الذکر، حدیث 2699)

جس کے اعمال اسے پیچھے چھوڑ دیں، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔

3. عرب و عجم کی برابری

قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "لا فضلَ لعربيٍّ على عجميٍّ ولا لعجميٍّ على عربيٍّ، ولا لأحمرَ على أسودَ، ولا لأسودَ على أحمرَ إلا بالتقوى."

(مسند أحمد بن حنبل، ج 38، ص 474؛ سنن کبری للبیہقی، ج 10، ص 193)

کسی عربی کو عجمی پر، یا کسی عجمی کو عربی پر، اور کسی گورے کو کالے پر یا کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کے ذریعے۔

4. حسب و نسب اور قیامت کے دن کا حال

عن أبي هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "إذا كان يومُ القيامة، نادى منادٍ: ألا إنِّي جعلتُ الحسبَ نَسَبًا، وأكرمُكم عند اللهِ أتقاكم."

(المعجم الكبير للطبراني، ج 18، ص 39؛ مجمع الزوائد، ج 8، ص 94)

قیامت کے دن ایک منادی اعلان کرے گا: سن لو! میں نے حقیقی شرافت کو نسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقویٰ کی بنیاد پر رکھا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔

5. اہل بیت اور ان کے نسب کی فضیلت

قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "إني تاركٌ فيكم الثقلين: كتاب الله وأهل بيتي، ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي أبداً."

(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب علی، حدیث 2408)

میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتاب اللہ اور میرے اہل بیت۔ جب تک تم ان دونوں کو تھامے رہو گے، کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔

6. حسب و نسب کو شرافت کا ذریعہ نہ بنانا

قال أمير المؤمنين علي عليه السلام: "إنّما يجمع الناسَ الرضا والسخط، وإنما عَقر ناقةَ صالحٍ واحدٌ فعمَّهم الله بالعذاب لما عمُّوه بالرضا."

(نهج البلاغة، خطبة 201)

لوگوں کو راضی اور ناراض کرنے والا عمل ان کے درمیان اتحاد یا اختلاف پیدا کرتا ہے۔ صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو ایک آدمی نے قتل کیا، لیکن اللہ نے پوری قوم کو عذاب دیا، کیونکہ وہ اس پر راضی تھے۔

روایات میں حسب و نسب کو شرافت کا ذریعہ نہیں بلکہ پہچان کا وسیلہ کہا گیا ہے۔ حقیقی معیار تقویٰ اور اعمال صالحہ ہیں۔ انبیاء اور اہل بیت کے نسب کی فضیلت ان کی ذمہ داریوں اور کردار کی بنیاد پر ہے، نہ کہ محض نسل کی بنیاد پر۔

شیعہ منابع میں حسب و نسب اور اس کی حیثیت

شیعہ منابع میں حسب و نسب اور اس کی حیثیت کے بارے میں روایات موجود ہیں۔ ان روایات میں نسب کو اہمیت دی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تقویٰ اور عمل کو اصل معیار قرار دیا گیا ہے۔ یہاں بعض اہم روایات شیعہ کتب کے حوالہ جات کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں:

1. اصل معیار تقویٰ ہے نہ کہ نسب

عن الإمام علي علیه السلام:"إنّ الله سبحانه وضعَ الثّوابَ على طاعته، والعِقابَ على معصيته، لا على حسبٍ ولا على نَسَبٍ."

(نهج البلاغة، حکمت 227)

بے شک اللہ نے ثواب کو اپنی اطاعت پر رکھا ہے اور عذاب کو اپنی نافرمانی پر، نہ کہ کسی کے حسب و نسب پر۔

2. نسب پر فخر کی مذمت

عن الإمام الصادق عليه السلام:"من افتخرَ بآباء الصالحين ولم يعمل عملهم، كان كَمَثَلِ الحُبّةِ الخبيثةِ، لا طعمَ لها ولا ريح."

(الكافي، ج 2، ص 329)

جو شخص نیک اجداد پر فخر کرے لیکن ان کے اعمال نہ کرے، وہ خراب بیج کی مانند ہے، جس میں نہ کوئی ذائقہ ہے اور نہ خوشبو۔

3. اہل بیت کی شرافت اور نسب کا مقام

قال الإمام الباقر عليه السلام: "نحنُ أهلَ بيتٍ لا يُقاسُ بنا أحدٌ من الناسِ."

(بحار الأنوار، ج 26، ص 84)

ہم اہل بیت ہیں، کسی کو بھی ہم سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

4. نسب اور عمل کی اہمیت

قال الإمام علي عليه السلام:"اعملوا فكلُّ ميسَّرٌ لما خُلق له، ولا تكونوا كَمَن يُعجِبه لَحاقُهُ بالمتقدّمينَ وهو مقصّرٌ في العمل."

(نهج البلاغة، خطبة 230)

عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے وہی آسان ہوتا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو صرف اپنے پیشروؤں سے نسبت پر خوش ہوتے ہیں، حالانکہ خود عمل میں کوتاہی کرتے ہیں۔

5. اہل بیت کے ماننے والوں کے لئے معیار

قال الإمام الصادق عليه السلام: "إنّما شيعتُنا من أطاع اللهَ عزّ وجلّ."

(الكافي، ج 2، ص 74)

ہمارے شیعہ وہی ہیں جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔

6. اہل بیت کے نسب اور فضیلت کی بنیاد

قال الإمام الحسين عليه السلام: "إنّما خرجتُ لطلبِ الإصلاحِ في أمةِ جدّي، أريدُ أن آمرَ بالمعروفِ وأنهى عن المنكر."

(تاريخ الطبري، ج 4، ص 304؛ بحار الأنوار، ج 44، ص 329)

میں نے اپنی جد امجد (رسول اللہ) کی امت کی اصلاح کے لیے قیام کیا ہے۔ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں۔

7. قیامت کے دن حسب و نسب کی حیثیت

عن الإمام الصادق عليه السلام: "إذا كان يومُ القيامةِ، نُوديَ: أينَ أهلُ الفضلِ؟ فيقومُ أناسٌ من الناس، فيُقالُ لهم: ما كان فضلُكم؟ فيقولون: كنا نَصِلُ مَن قَطَعَنا، ونُعطي مَن حَرَمَنا، ونعفو عمن ظلمَنا. فيُقالُ لهم: صدقتم، ادخُلوا الجنةَ."

(الكافي، ج 2، ص 107)

قیامت کے دن پکارا جائے گا: فضیلت والے کہاں ہیں؟ کچھ لوگ کھڑے ہوں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا: تمہاری فضیلت کیا تھی؟ وہ کہیں گے: ہم ان سے رشتہ جوڑتے تھے جو ہم سے تعلق توڑتے تھے، ہم انہیں دیتے تھے جو ہمیں محروم کرتے تھے، اور ہم ان کو معاف کرتے تھے جو ہم پر ظلم کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا: تم نے سچ کہا، جنت میں داخل ہو جاؤ۔

شیعہ روایات میں حسب و نسب کو ایک نعمت اور پہچان کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، لیکن اس پر فخر کی مذمت کی گئی ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت ان کے اعمال، قربانی، اور اللہ کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کی بنیاد پر ہے۔ حقیقی معیار ہمیشہ تقویٰ اور اعمال صالحہ کو قرار دیا گیا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں سادات (نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت اور ان کی اولاد) کا احترام

اسلامی تعلیمات میں سادات (نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت اور ان کی اولاد) کا احترام ایک اہم موضوع ہے، جسے قرآن و سنت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ شیعہ روایات میں سادات کا احترام اور ان کے حقوق پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ درج ذیل میں سادات کے احترام کے بارے میں کچھ روایات پیش کیے جا رہے ہیں:

1. اہل بیت کی محبت اور احترام واجب ہے

قال رسول الله صلى الله عليه وآله:"إني تاركٌ فيكم الثقلين: كتاب الله وعترتي أهل بيتي، ما إن تمسّكتم بهما لن تضلّوا بعدي أبداً، وإنّهما لن يفترقا حتّى يردا علَيَّ الحوض."

(الكافي، ج 1، ص 294؛ صحيح مسلم، كتاب الفضائل، حديث 2408)

میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت، یعنی میرے اہل بیت۔ جب تک تم ان دونوں کو تھامے رہو گے، کبھی گمراہ نہیں ہو گے، اور یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس اکٹھے ہوں گے۔

2. اہل بیت سے محبت ایمان کی نشانی ہے

قال النبي صلى الله عليه وآله: "لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحبَّ إليه من نفسه، وأهلُ بيتي أحبَّ إليه من أهلِه."

(المعجم الأوسط للطبراني، ج 6، ص 70؛ بحار الأنوار، ج 27، ص 102)

تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے زیادہ محبوب نہ ہوں، اور میرے اہل بیت اس کے اپنے اہل و عیال سے زیادہ عزیز نہ ہوں۔

3. سادات کے احترام میں اللہ کی رضا

قال الإمام الصادق عليه السلام: "إنّ اللهَ فرضَ محبّتَنا أهلَ البيت، وجعلَ ذلك من تمامِ الإيمان."

(الكافي، ج 2، ص 74)

بے شک اللہ نے ہماری، یعنی اہل بیت کی محبت کو واجب قرار دیا ہے، اور اسے ایمان کی تکمیل کا ذریعہ بنایا ہے۔

4. سادات کی عزت کے بارے میں تاکید

عن الإمام الرضا عليه السلام: "إنّ لكلّ شيءٍ أساساً، وأساسُ الإسلام حُبّنا أهلَ البيت."

(عيون أخبار الرضا، ج 1، ص 124)

ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے، اور اسلام کی بنیاد ہماری، یعنی اہل بیت کی محبت ہے۔

5. سادات کے حقوق اور احترام

قال رسول الله صلى الله عليه وآله: "أكرموا أولادي الصالحين لِصلاحِهم، والطالحين لِأجلي."

(بحار الأنوار، ج 44، ص 283)

میرے نیک اولاد کی ان کی نیکی کی وجہ سے عزت کرو، اور جو نیک نہ ہوں ان کی بھی میری خاطر عزت کرو۔

6. سادات کی مدد اور ان کی مشکلات دور کرنا

قال الإمام الصادق عليه السلام: "من واسى فقيرًا من فقرائنا، ووفّى له حاجتَه، كان كمن صامَ شهرًا وقامَ ليلَه."

(الكافي، ج 4، ص 8)

جو ہمارے فقیر خاندان والوں (سادات) کی مدد کرے اور ان کی حاجت پوری کرے، وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے ایک مہینہ روزے رکھے اور رات کو عبادت کی۔

7. اہل بیت کی محبت اور اجر

قال تعالى في القرآن الكريم: "قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا ٱلْمَوَدَّةَ فِي ٱلْقُرْبَىٰ"

(سورة الشورى: 23)

(اے نبی) کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو۔

8. سادات کے ساتھ دشمنی کی مذمت

عن النبي صلى الله عليه وآله: "من أبغضنا أهلَ البيت، بعثه الله يهودياً."

(بحار الأنوار، ج 27، ص 101)

جو ہم اہل بیت سے بغض رکھے، اللہ اسے یہودی بنا کر اٹھائے گا۔

شیعہ روایات کے مطابق، سادات اور اہل بیت کا احترام ہر مسلمان پر واجب ہے۔ ان کی محبت ایمان کا حصہ اور ان کے ساتھ دشمنی کفر کی علامت ہے۔ اہل بیت کے حقوق کی ادائیگی، ان کے احترام اور ان کی مدد کرنے پر دنیا و آخرت میں عظیم اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ذریہ پیامبر (اولاد، نسل یا خاندان) کے بارے میں احادیث

ذریہ (اولاد، نسل یا خاندان) کے بارے میں احادیث میں زیادہ تر نبی اکرم ﷺ اور اہل بیت علیہم السلام کے خاندان کی عظمت اور اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ احادیث ذریہ کے احترام، ان کی محبت، اور ان کے مقام کو واضح کرتی ہیں۔ ذیل میں ذریہ پیامبر سے متعلق احادیث پیش کی جا رہی ہیں:

1. ذریہ اور نبی اکرم ﷺ کی نسل

قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "كلُّ نسبٍ وسببٍ منقطعٌ يومَ القيامةِ إلا نسبي وسببي."

(بحار الأنوار، ج 37، ص 113؛ عيون أخبار الرضا، ج 2، ص 238)

قیامت کے دن تمام نسب اور تعلقات ختم ہو جائیں گے سوائے میرے نسب اور میرے تعلق کے۔

2. ذریہ اور محبت

قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "إنّ اللهَ جعلَ ذرّيّةَ كلِّ نبيٍّ في صُلبِه، وجعلَ ذرّيّتي في صُلبِ عليّ بن أبي طالب."

(الكافي، ج 1، ص 446؛ بحار الأنوار، ج 37، ص 112)

اللہ نے ہر نبی کی ذریہ (نسل) کو اس کے صلب میں رکھا، لیکن میری ذریہ علی بن ابی طالب کے صلب میں رکھی۔

3. ذریہ اور قرآن کی آیت کا حوالہ

"وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ ٱلْبَاقِينَ"

(سورة الصافات: 77)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "نحنُ ذُريّةُ النبيّ الباقونَ في الأرضِ."

(تفسير القمي، ج 2، ص 236)

ہم نبی کی وہ ذریہ ہیں جو زمین پر باقی رہنے والی ہیں۔

4. ذریہ اور اہل بیت کی محبت واجب ہے

قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "أحبّوا اللهَ لما يغذوكم من نعمه، وأحبّوني لحبِّ اللهِ، وأحبّوا أهلَ بيتي لحبّي."

(الكافي، ج 2، ص 75؛ بحار الأنوار، ج 27، ص 94)

اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے، مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کی وجہ سے، اور میرے اہل بیت سے محبت کرو میری محبت کی وجہ سے۔

5. ذریہ اور قیامت کے دن مقام

قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "أثبتُكم قدماً على الصراطِ أشدُّكم حبّاً لذريّتي."

(بحار الأنوار، ج 8، ص 67)

صراط پر تم میں سب سے زیادہ ثابت قدم وہ ہوگا جو میری ذریہ سے سب سے زیادہ محبت کرے گا۔

6. ذریہ کی فضیلت

قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:"النظرُ إلى ذُريّتي عبادةٌ."

(بحار الأنوار، ج 43، ص 27)

میری ذریہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔

7. ذریہ کو اذیت دینے کی مذمت

قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:"مَن آذى ذُريّتي فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى اللهَ."

(بحار الأنوار، ج 27، ص 120)

جس نے میری ذریہ کو اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی، اور جس نے مجھے اذیت دی، اس نے اللہ کو اذیت دی۔

8. ذریہ اور ان کے حقوق

قال الإمام الصادق عليه السلام: "إنّ اللهَ جعلَ لذريّةِ النبيّ حقّاً على الناسِ، أن يبرّوهم ويعظّموهم."

(الكافي، ج 4، ص 67)

اللہ نے نبی کی ذریہ کے لیے لوگوں پر ایک حق مقرر کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ نیکی کریں اور ان کا احترام کریں۔

احادیث میں ذریہ کو نبی اکرم ﷺ کی اولاد اور اہل بیت کی حیثیت سے عظیم مقام دیا گیا ہے۔ ان کی محبت کو ایمان کا حصہ، ان کا احترام واجب، اور ان کے ساتھ دشمنی کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ احادیث مسلمانوں کو اس بات کی ترغیب دیتی ہیں کہ وہ ذریہ رسول ﷺ سے محبت کریں اور ان کے حقوق ادا کریں۔

سادات ابن الرضا علیہ السلام کی برصغیر (ہندوستان، پاکستان، اور بنگلہ دیش) کی طرف ہجرت

سادات ابن الرضا علیہ السلام کی برصغیر (ہندوستان، پاکستان، اور بنگلہ دیش) کی طرف ہجرت ایک تاریخی حقیقت ہے جس نے اس خطے میں مذہبی، سماجی، اور علمی تحریکات کو تقویت دی۔ یہ ہجرتیں مختلف ادوار میں ہوئیں اور ان کا تعلق سیاسی، سماجی اور مذہبی عوامل سے تھا۔ ذیل میں تفصیل سے اس تاریخی پس منظر کو بیان کیا گیا ہے:

1. سادات ابن الرضا (علوی سادات) کی ہجرت کا آغاز

پس منظر

سادات ابن الرضا (یعنی امام علی رضا علیہ السلام کی اولاد اور ان کی نسل) کو عباسی خلفاء کے ظلم و ستم کا سامنا تھا۔ عباسی خلفاء نے اہل بیت علیہم السلام کے خاندان پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان کے پیروکاروں کو بھی اذیت دی، جس کی وجہ سے سادات کو حجاز، عراق، اور ایران سے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔

("تاریخ یعقوبی"، ابن واضح یعقوبی، ج 2، ص 475، دار صادر، بیروت)("مقاتل الطالبیین"، ابوالفرج اصفهانی، ص 433، نجف اشاعت)

2. برصغیر کی طرف سادات کی ہجرت

ابتدائی ہجرتیں (9ویں صدی عیسوی)

برصغیر، خصوصاً سندھ، ملتان، اور گجرات کے علاقے، وہ ابتدائی مراکز تھے جہاں علوی سادات نے ہجرت کی۔ سندھ اور ملتان میں شیعہ حکمرانوں کی حمایت اور نسبتاً مذہبی آزادی کی وجہ سے سادات نے ان علاقوں کو ترجیح دی۔

("چچ نامہ"، محمد علی ابن حامد، ص 213، ترجمہ: داؤد پوتہ)("فتوح البلدان"، بلاذری، ص 441، دار النشر، قاہرہ)

وسطی ہجرتیں (11ویں اور 12ویں صدی)

غزنوی اور غوری سلطنتوں کے عہد میں، علوی سادات نے ایران، خراسان، اور وسطی ایشیا سے ہندوستان کی طرف ہجرت کی۔

اس دور میں لاہور، دہلی، اور اوچ شریف اہم مراکز بنے۔

اہم شخصیات:

1. سید جلال الدین بخاری (سرخ پوش):

یہ خاندان ایران سے ملتان اور اوچ شریف آیا اور یہاں تشیع کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی نسل کو "سادات بخاری" کہا جاتا ہے۔

2. سید علی مکی:

یہ خاندان مکہ سے براہ راست دہلی اور بعد میں بہار میں آباد ہوا۔

("تاریخ اوچ"، محمد حسین آزاد، ص 67، دہلی ایڈیشن)("سیر الاقطاب"، غلام یحییٰ قادری، ص 98، لاہور)

مغلیہ دور کی ہجرتیں (16ویں اور 17ویں صدی)

مغلیہ سلطنت نے اہل بیت کے پیروکاروں کو نسبتاً تحفظ فراہم کیا، خاص طور پر اکبر اعظم اور اس کے بعد شاہ جہاں کے عہد میں۔مغل دربار میں علوی سادات کی بڑی تعداد علمی اور مذہبی معاملات میں مشیر کے طور پر شامل ہوئی۔

اہم مراکز:

آگرہ، لکھنؤ، جونپور، اور حیدرآباد دکن۔

یہ علاقے شیعہ ثقافت اور عزاداری کے مراکز بنے، اور ان میں سادات کی اہم آبادی قائم ہوئی۔

("تاریخ فرشتہ"، محمد قاسم فرشتہ، ج 2، ص 533، دہلی ایڈیشن)("احسن التواریخ"، حسن بیگ نوشہروی، ص 214، لاہور)

3. سادات ابن الرضا اور برصغیر میں تشیع کا فروغ

سماجی کردار:

علوی سادات نے برصغیر میں شیعہ اسلام کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ عزاداری، محافل، اور دینی مدارس کے قیام میں ان کا نمایاں کردار رہا۔

مدارس:

مدرسہ الواعظین، لکھنؤ

شیعہ علما کو تربیت دینے کے لیے یہ مدرسہ سادات نے قائم کیا۔

ثقافتی اثرات:

اہل بیت کے ایام، خصوصاً محرم اور صفر کے اجتماعات کا فروغ۔ تعزیہ اور ذاکری جیسی رسومات کو عام کیا۔

("روضہ الصفاء"، میر خواند، ج 6، ص 437، تہران ایڈیشن)("واقعات کربلا"، سید علی نقی نقوی، ص 123، لکھنؤ)

4. اہم علوی سادات خاندان

1. سادات امروہہ:

یہ خاندان ایران سے ہجرت کر کے امروہہ (موجودہ اترپردیش) میں آباد ہوا۔

علمی، فقہی اور ادبی خدمات کے لیے مشہور۔

("تاریخ امروہہ"، سید غلام علی امروہی، ص 89، لکھنؤ ایڈیشن)

2. سادات لکھنؤ:

شیعہ تہذیب کا مرکز، جہاں عزاداری اور مذہبی رسومات کا ایک منفرد انداز پروان چڑھا۔

("لکھنؤ کا شیعی تمدن"، مولانا صفدر حسین، ص 77، لکھنؤ، 1950)

5. سیاسی کردار

سادات نے مختلف ادوار میں شیعہ حکمرانوں کے مشیر، قاضی، اور امام جمعہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ برصغیر میں مذہبی آزادی کے لیے علوی سادات کی تحریکات اور مغل دربار میں ان کی نمائندگی اہم ہیں۔

("مغل سلطنت میں شیعہ اثرات"، سید علی عباس، ص 142، دہلی)

6. برصغیر میں عزاداری کا فروغ

علوی سادات نے مجالسِ عزا، ماتمی جلوس، اور تعزیہ داری کے ذریعے محرم کو برصغیر کی ثقافت کا حصہ بنایا۔ ان رسومات نے شیعہ اسلام کو عوامی سطح پر مقبول بنایا۔

("عزاداری کی تاریخ"، سید عارف حسین، ص 56، لاہور)

کشمیر کی طرف سادات کی ہجرت اور وہاں تشیع کے فروغ میں ان کے کردار

کشمیر کی طرف سادات کی ہجرت اور وہاں تشیع کے فروغ میں ان کے کردار کے بارے میں متعدد تاریخی کتب اور روایات موجود ہیں۔ ان میں خاص طور پر وہ سادات شامل ہیں جنہوں نے تیموری، مغل، اور دیگر اسلامی ادوار میں مختلف وجوہات (سیاسی، سماجی یا مذہبی) کے تحت کشمیر کا رخ کیا۔ کشمیر میں تشیع کے فروغ میں ان سادات نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ذیل میں اس تاریخی واقعہ کی تفصیلات دی جا رہی ہیں:

1. کشمیر میں سادات کی آمد

سید علی ہمدانی (میر سید علی ہمدانی)

سید علی ہمدانی (1314-1384 عیسوی)، جو "شاہِ ہمدان" کے نام سے معروف ہیں، ایک عظیم صوفی، مبلغ، اور سید تھے، جنہوں نے اسلامی تعلیمات کے فروغ اور خاص طور پر اہل بیت علیہم السلام کی محبت کے پیغام کو کشمیر میں عام کیا۔ وہ 1372 عیسوی میں کشمیر پہنچے اور کئی بار یہاں قیام کیا۔ سید علی ہمدانی نے نہ صرف مذہبِ اسلام کو کشمیر میں متعارف کرایا بلکہ اپنی تعلیمات کے ذریعے لوگوں کو اہل بیت کے قریب کیا۔

("سفرنامہ میر سید علی ہمدانی"، "بحار الأنوار"، علامہ مجلسی، ج 52، ص 213، تاریخ کشمیر، جلال الدین مجید، ص 144، مؤسسہ الفکر، لاہور،

2. سادات کی دیگر ہجرتیں

سید محمد نور بخش: سید محمد نوربخش اور ان کے پیروکار بھی کشمیر میں تشیع کے فروغ میں اہم رہے۔ انہوں نے تیموری سلطنت کے زوال کے دوران کشمیر کا رخ کیا۔ نوربخشیہ سلسلے نے اہل بیت کے فضائل و تعلیمات کو کشمیر کے مختلف علاقوں میں عام کیا۔

("نوربخشیہ تحریک"، سید حسن جعفری، ص 132، ادارہ تحقیقات، اسلام آباد)

3. سادات کے اثر و رسوخ

سادات کشمیر میں نہ صرف دینی مبلغ تھے بلکہ معاشرتی اور سیاسی اثر و رسوخ بھی رکھتے تھے:

1. سید محمد بلبل شاہ:

سید بلبل شاہ نے ابتدائی طور پر کشمیر کے بادشاہ رنچن شاہ کو اسلام قبول کرنے پر مائل کیا۔ یہ واقعہ 14ویں صدی میں پیش آیا، اور اسی کے ذریعے اسلام کشمیر میں مضبوط ہوا۔ رنچن شاہ کے تشیع قبول کرنے سے کشمیر میں شیعہ اسلام کا آغاز ہوا۔

("تاریخ کشمیر"، محمد اعظم دیدہ مرہ، ص 57، سری نگر ایڈیشن)

2. سید شمس الدین عراقی:

سید شمس الدین عراقی (15ویں صدی) ایک عظیم مبلغ اور عالم تھے جنہوں نے کشمیر میں اثنا عشری تشیع کو منظم کیا۔ انہوں نے اہل بیت علیہم السلام کے فضائل اور تشیع کی تعلیمات کو عوام میں عام کیا۔ ان کے دور میں کئی مساجد اور مذہبی مراکز بنائے گئے۔

("شمس الدین عراقی اور کشمیر میں تشیع"، غلام نبی خواجہ، ص 89، دہلی ، "روضات الجنات"، محمد باقر مجلسی، ج 7، ص 54)

4. تشکیلات تشیع: سادات کا کردار

الف: مذہبی مدارس اور مراکز کا قیام

سادات نے مدارس، خانقاہوں، اور مساجد کے ذریعے تعلیم و تبلیغ کے مراکز بنائے:

خانقاہِ معلی: سید علی ہمدانی کی یادگار۔

مدرسہ شمس الدین: سید شمس الدین عراقی کے پیروکاروں کی تعلیمی کوشش۔

("خانقاہیں اور مدارس"، سید بشیر حسین زیدی، ص 78، کشمیر یونیورسٹی پبلشرز)

ب: اہل بیت کے ایام اور مجالس

کشمیر میں عزاداری اور محرم کی رسومات کو عام کرنے کا سہرا بھی سادات کو جاتا ہے۔ عزاداری کی ابتدا میں سید شمس الدین عراقی نے اہم کردار ادا کیا۔

("ماتمِ حسین اور کشمیر"، منظور الحسن، ص 45، سری نگر، 1998)

5. مذہبی تعلیمات کی ترویج

سادات نے قرآن و حدیث کے ذریعے اہل بیت کی محبت اور تشیع کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔

اہم کتابیں اور ترجمے:

سادات نے فارسی اور کشمیری زبان میں اسلامی تعلیمات کا ترجمہ کیا، جن میں اہل بیت کے فضائل نمایاں تھے۔

("تاریخِ کشمیر میں فارسی ادب"، ڈاکٹر زاہد حسین، ص 33، مؤسسہ مطبوعاتِ کشمیر)

6. سیاسی کردار

بادشاہوں کے ساتھ تعلقات

سادات نے کئی کشمیری حکمرانوں کو اہل بیت کی محبت اور تشیع کی تعلیمات کی طرف مائل کیا۔

ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے کشمیر میں شیعہ مسلک کے لیے بہتر حالات پیدا ہوئے۔

("کشمیر میں تشیع کی تاریخ"، سید فضل عباس، ص 98، لاہور، 2015)

7. عوامی مقبولیت

عوامی قبولیت کی وجوہات

1. سادات کے اخلاقی کردار اور روحانی تعلیمات۔

2. عوام کے ساتھ قریبی تعلقات اور مساوات پر زور۔

3. صوفیانہ طرزِ تبلیغ، جو کشمیری عوام کے مزاج سے مطابقت رکھتی تھی۔

("صوفی تحریک اور تشیع"، ڈاکٹر مظفر حسین، ص 123، دہلی، 2000)

سادات کی ہجرت نے کشمیر میں نہ صرف تشیع کے فروغ بلکہ اسلامی تعلیمات کے عام کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ سید علی ہمدانی، سید شمس الدین عراقی، اور سید بلبل شاہ جیسی شخصیات نے اہل بیت کی محبت اور تعلیمات کو کشمیر کے لوگوں میں عام کیا، جو آج بھی کشمیر کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کا حصہ ہیں۔

ایرانی سادات کی بلتستان کی طرف ہجرت

ایرانی سادات کی بلتستان کی طرف ہجرت ایک دینی، سماجی اور ثقافتی تحریک تھی جس نے اس خطے میں تشیع کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ سید محمد نوربخش، سید علی ہمدانی، سید حیدر علی (کواردو)، سید محمود اور ان کے فرزندان و برادران (سکردو)، سید حبیب رضوی او ر ان کے برادران (قمراه) اور دیگر سادات کی کاوشوں نے بلتستان کو اہل بیت علیہم السلام کے پیغام کا مرکز بنایا۔ یہ ہجرتیں نہ صرف مذہبی بلکہ علمی اور ثقافتی ترقی کا سبب بھی بنیں۔ذیل میں اس تاریخی ہجرت کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے:

1. ایرانی سادات کی ہجرت کے اسباب

ایرانی سادات کی ہجرت کا پس منظر عباسی خلفاء، سلجوقیوں اور تیموری دور میں اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں پر ہونے والے ظلم و ستم سے جڑا ہوا ہے۔ ان سادات نے ایران کے مختلف علاقوں، جیسے قم، مشہد، اصفہان، اور خراسان سے ہجرت کی۔

ایران میں شیعہ حکومتوں کے قیام اور سقوط کے دوران مختلف سادات خاندانوں نے نسبی امن کی تلاش میں بلتستان جیسے دور دراز علاقوں کا رخ کیا، جہاں ان کے لیے تشیع کے پیغام کو عام کرنے کے مواقع موجود تھے۔

("تاریخ تشیع در ایران و جهان"، رسول جعفریان، ص 342، قم)("بحار الأنوار"، علامہ مجلسی، ج 53، ص 213)

2. بلتستان کی طرف ہجرت کا آغاز

2-1 .تیموری دور کی ہجرت (14ویں اور 15ویں صدی)

تیموری دور کے اواخر میں ایران اور وسط ایشیا میں سیاسی افراتفری اور مذہبی عدم استحکام کی وجہ سے کئی سادات خاندان بلتستان پہنچے۔ بلتستان جغرافیائی طور پر ایک محفوظ خطہ تھا اور یہاں مقامی حکمرانوں کی مذہب دوستی بھی اہم تھی۔

("بلتستان کی تاریخ"، خان محمد نوربخشی، ص 129، اسکردو ایڈیشن)

2-2 .صفوی دور کی ہجرت (16ویں صدی)

صفوی سلطنت کے قیام کے دوران ایران میں شیعیت کو سرکاری مذہب کا درجہ ملا، لیکن اس کے بعد بھی مختلف علاقوں میں مخالفین سے تحفظ کی ضرورت تھی۔ صفوی علما اور سادات نے بلتستان کو دینی اور ثقافتی مرکز کے طور پر اپنایا۔

("تاریخ صفویان"، روبرت کینی، ص 294، تہران)

3. بلتستان میں تشیع کا فروغ

3-1 .سید محمد نوربخشی کا کردار

سید محمد نوربخشی (15ویں صدی) اور ان کے پیروکار بلتستان میں نوربخشیہ صوفی سلسلے کے ذریعے تشیع کے فروغ میں پیش پیش رہے۔ نوربخشی تعلیمات نے بلتستان کے باشندوں کو اہل بیت علیہم السلام کے پیغام سے روشناس کرایا۔

("نوربخشیہ تحریک"، سید حسن جعفری، ص 98، اسلام آباد)

3-2 .سید علی ہمدانی کی تبلیغ

سید علی ہمدانی (شاہ ہمدان) نے بلتستان اور کشمیر کے سفر کے دوران اسلام اور تشیع کی تعلیمات کو عام کیا۔ ان کے ساتھ آنے والے کئی سادات خاندان مستقل طور پر بلتستان میں آباد ہو گئے۔ ("سفرنامہ سید علی ہمدانی"، ص 77، تہران)

4. اہم ایرانی سادات خاندان اور ان کا اثر

4-1 .سید خاندان اسکردو

اسکردو میں آباد ہونے والے ایرانی سادات نے بلتستان کو تشیع کا ایک مضبوط گڑھ بنایا۔ عزاداری، عاشورا کے جلوس اور دیگر مذہبی رسومات کو منظم کیا۔

4-2 .سید خاندان خپلو

خپلو کے علاقے میں ایرانی سادات نے فقہی اور علمی مراکز قائم کیے۔ یہاں سے کئی علماء اور مبلغین نے تشیع کو مزید علاقوں میں پھیلایا۔

("بلتستان میں تشیع کی تاریخ"، غلام نبی خواجہ، ص 154، لاہور)

5. سادات کی خدمات

5-1 .مدارس اور خانقاہیں

ایرانی سادات نے بلتستان میں دینی مدارس اور خانقاہوں کی بنیاد رکھی، جو آج بھی دینی تعلیمات کا مرکز ہیں:

خانقاہ معلی، خپلو

مدرسہ نوربخشیہ، کھرمنگ

("خانقاہ اور مدارس"، ڈاکٹر ظفر علی، ص 67، اسلام آباد)

5-2 .عزاداری کا فروغ

ایرانی سادات نے محرم کی مجالس، تعزیہ داری، اور جلوس کو بلتستان کی ثقافت کا حصہ بنایا۔

("عزاداری اور بلتستان"، مولانا عباس زیدی، ص 88، اسکردو)

6. بلتستان میں ایرانی سادات کے اثرات

6-1 .مذہبی اثرات

اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور تشیع کی تعلیمات کو فروغ ملا۔ نوربخشیہ، اثنا عشریہ، اور صوفی روایات نے مشترکہ طور پر بلتستان کے مذہبی ماحول کو متاثر کیا۔

6-2 .ثقافتی اثرات

ایرانی سادات نے بلتستان کی ثقافت میں فارسی زبان، ادبیات، اور فن تعمیر کے ذریعے ایک نیا رنگ شامل کیا۔

("فارسی ادب اور بلتستان"، ڈاکٹر زاہد حسین، ص 99، لاہور)

سید حبیب رضوی اور ان کے برادران

سید حبیب رضوی اور ان کے برادران بلتستان میں تشریف لانے والے معروف روحانی سید تھے۔ سید حبیب رضوی اور ان کے برادران نے نہ صرف بلتستان بلکہ پورے گلگت بلتستان میں تشیع کے پیغام کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا خاندان ایرانی سادات سے تعلق رکھتا تھا اور ان کی آمد بلتستان میں مذہبی، علمی اور روحانی تبدیلیوں کا باعث بنی۔ آپ نے سکونت کے لئے علاقه قمراه کو انتخاب کیا.

1. سید حبیب رضوی کا تعارف:

سید حبیب رضوی کا تعلق ایران کے ایک معروف سادات خاندان سے تھا، جو اہل بیت علیہم السلام کے نسل سے تھے۔ آپ امام زاده سید موسی مبرقع(فرزند بلا فصل امام جواد محمد تقی علیه السلام) کی اولادوں میں سے تھے. آپ سید حسین نقیب قم کے نوادان گان میں سے هیں. سید حبیب رضوی نے بلتستان میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا، جہاں انہوں نے لوگوں کو دینی تعلیمات، اخلاقی تربیت، اور روحانی سکون دینے کے لیے کئی اقدامات کیے۔

سید حبیب رضوی نہ صرف ایک بزرگ عالم دین تھے بلکہ ایک روحانی رہنما بھی تھے، جن کی تعلیمات اور شخصیت نے پورے بلتستان میں ایک مثبت اثر چھوڑا۔ ان کے آستانہ آج بھی عقیدت مندوں کے لئے ایک پناه اه کی حیثیت رکھتے هیں،

2. سید حبیب رضوی کے برادران کا کردار:

سید حبیب رضوی کے برادران بھی بلتستان میں اہم مذہبی شخصیات تھے۔ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر بلتستان میں تشیع کی ترویج، دینی تعلیمات کا فروغ، اور اہل بیت علیہم السلام کی محبت کو لوگوں کے درمیان عام کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کردار بھی انتہائی اہم تھا اور مختلف علاقوں میں مذہبی محافل، مجالس عزاداری، اور دینی سرگرمیوں کا انعقاد کرنے میں ان کا حصہ تھا۔ سید میر عظیم، سید باقر رضوی: بھی معروف عالم دین اور روحانی رہنما تھے۔ ان کا دینی اثر بلتستان کے کئی علاقوں میں پھیل چکا تھا۔

3. مذہبی خدمات:

سید حبیب رضوی اور ان کے برادران نے بلتستان خاص کر قمراه میں تشیع کے پیغام کو نہ صرف پھیلایا بلکہ ان کی خدمات نے اس علاقے کی ثقافت اور مذہبی ماحول کو شکل دی۔ ان کی زیر قیادت میں عزاداری کے جلسےقائم کئے گئے. سید حبیب رضوی اور ان کے برادران نے محرم اور دیگر اہم ایام میں عزاداری کے جلوسوں اور محافل کا انعقاد کیا۔

4. سید حبیب رضوی کی تعلیمات اور اثرات:

سید حبیب رضوی کی تعلیمات اور ان کی روحانیت کا اثر بلتستان کی ثقافت اور مذہبی ماحول پر گہرا تھا۔ ان کے دور میں محافل ذکر، درود و سلام اور مجالس عزاداری کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ ان کی شخصیت نے اہل بیت علیہم السلام کی محبت کو بڑھاوا دیا اور لوگوں کو ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی۔

5. آستانہ سید حبیب رضوی:

آستانہ سید حبیب رضوی، جو کہ اس سید بزرگوار کا مرقد هے۔ یہاں پر عقیدت مند اور زائرین آ کر اپنی روحانی تسکین حاصل کرتے هیں۔ اس آستانے میں مختلف دینی، ثقافتی اور روحانی سرگرمیاں جاری رہتی هیں، جن میں محافل ذکر، عزاداری کی مجالس، اور قرآنی پروگرامز شامل تھے۔

6. آستانہ کے اثرات:

آستانہ سید حبیب رضوی بلتستان میں ایک اہم مذہبی مرکز ہے، جو سید حبیب رضوی کے نام سے مشہور ہے۔ سید حبیب رضوی ایک بلند مقام کے حامل بزرگ عالم اور مذہبی رہنما تھے جن کا تعلق ایرانی سادات سے تھا اور انہوں نے بلتستان میں تشیع کے پیغام کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا آستانہ آج بھی بلتستان اور دیگر علاقوں کے لوگوں کے لیے ایک روحانی مرکز کے طور پر اہمیت رکھتا ہے۔

سادات کے متعلق کچھ تلخ حقایق

ائمه معصومین (علیهم السلام) کا مقام اہل تشیع کے نزدیک بہت بلند ہے۔ آپ کی شان و اعتبار کے بارے میں کئی احادیث موجود ہیں جو آپ کی معصومیت اور علم و ہدایت کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ اسی طرح سادات کی پہچان اور ان کا مقام بھی اسلامی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے۔ سادات کی نسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے، جس کی وجہ سے انہیں بہت عزت و احترام دیا جاتا ہے۔

رسول اللہ کے اہل بیت (علیهم السلام) اور سادات کے بارے میں مختلف تاریخی اور فکری تنازعات پیش آ چکے ہیں۔ بعض لوگوں نے سادات کی اصالت پر سوالات اٹھائے ہیں یا ان کے معاملات میں شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان شبہوں کے جواب کے لیے موجودہ دور میں متعدد تحقیقی مضامین اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔ نسلوں پر شک کرنے کا سوال بھی ایک حساس موضوع ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے نسل اور نسبت ایک بہت اہم مسئلہ ہے، اور اس کے خلاف بات کرنا شریعت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

بہت سے علماء اور محققین نے سادات کی شان و عظمت کے بارے میں تحقیقی مضامین لکھے ہیں، اور ائمہ معصومین کے مقام کو بیان کیا ہے تاکہ لوگوں کو صحیح علم مہیا کیا جا سکے۔ سادات و ائمہ معصومین کی حیثیت اور مقام پر جھٹلانے کی کوششیں ہمیشہ موجود رہیں گی، مگر ان کی سچائی اور عظمت کے لئے شواہد اور دلائل کافی ہیں۔

بلتستان، جو اپنی قدیم ثقافت، روایات اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے مشہور ہے، وہاں سادات کے ساتھ پیش آنے والے مسائل ایک تلخ حقیقت ہیں۔ سادات وہ خاندان ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے خاندان سے نسبت رکھتے ہیں، اور اسلامی تاریخ میں انہیں خاص عزت و احترام حاصل رہا ہے۔ تاہم، بلتستان میں سادات کو مختلف اقسام کی سماجی، سیاسی اور معاشی ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سادات کے ساتھ بلتستان میں سماجی سطح پر تفریق ایک نمایاں مسئلہ رہا ہے۔ ان کے ساتھ متعصبانہ رویے روا رکھے جاتے تھے، اور کئی مواقع پر ان کے دینی اور خاندانی مقام کو جھٹلایا گیا ہے۔ کچھ عناصر ان کی تاریخی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، اور ان کے حقوق کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

سادات کو سیاسی اور معاشی شعبوں میں بھی پیچھے رکھا جاتا ہے۔ ان کے علاقوں میں ترقیاتی منصوبے کم دیکھنے کو ملتے ہیں، اور حکومتی سطح پر ان کے مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات اور تعلیمی اداروں کی کمی جیسے مسائل سادات کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

بعض اوقات سادات کو ان کی شناخت کی بنا پر اذیت دی جاتی ہے۔ جھوٹے الزامات لگا کر ان کی کردار کشی کی جاتی ہے اور ان کے خاندانوں کو سماجی دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ انهی میں سے ایک سید حبیب رضوی اور ان کے اولاد هیں جنهیں مختلف طریقوں سے اذیتیں دی گئی. جھٹلایا گیا جو ابھی بھی جاری هے.

ان کی اولادوں کو مختلف جگهوں پر آزمایشات میں ڈالا گیا اور الهی نصرت ان کی شامل حال رهی.اور کئی مقامات پر ان کے هاتھوں کرامات بھی ظاهر هوئی هیں.جن کی شواهد سینه به سینه نقل هوتے آرهے هیں.

نتیجه

بلتستان میں موجود سادات، اپنے مذہبی اور ثقافتی اثرات کے باعث، اس خطے کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے نہ صرف تشیع کے فروغ بلکہ دینی تعلیم، عزاداری، اور ثقافتی ہم آہنگی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ سید حبیب رضوی اور ان کے برادران بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی هیں جو که بلتستان میں ایک اہم دینی اور روحانی خاندان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں تشیع کے پیغام کو پھیلایا اور لوگوں کو اہل بیت علیہم السلام کی محبت میں منسلک کیا۔ سید حبیب رضوی اور ان کے برادران کی تعلیمات اور دینی خدمات آج بھی اس علاقے کے لوگوں کی زندگیوں میں موجود ہیں۔ کچھ دیگر خانوادے جیسے خانوادہ سید علی شاہ بخاری، خانوادہ سید علی ہمدانی، اور دیگر، آج بھی بلتستان میں تشیع کی پہچان اور استحکام کے مظہر ہیں۔

و بالله التوفیق

شاخص‌های نظام ولایی در اندیشه قرآنی آیت‌الله العظمی خامنه‌ای رهبر معظم انقلاب اسلامی زید عزه


باسمه تعالی

تحریر: سید احمد رضوی

چکیده

این مقاله به بررسی شاخص‌های نظام ولایی در اندیشه قرآنی آیت‌الله خامنه‌ای می‌پردازد. بر اساس بیانات ایشان، نظام ولایی الگویی جامع و الهی برای اداره جامعه اسلامی است که ریشه در آموزه‌های قرآنی و سیره پیامبر اسلام (ص) و اهل‌بیت (علیهم‌السلام) دارد.

از جمله شاخص‌های این نظام، توحیدمحوری به‌عنوان محور اساسی همه امور، عدالت اجتماعی، مبارزه با فساد، استقلال و مقاومت در برابر سلطه‌گران، و مشارکت مردم در حکمرانی است. در این نظام، وحدت امت اسلامی و کرامت انسانی به‌عنوان دو اصل قرآنی مورد تأکید ویژه قرار گرفته‌اند. همچنین، نظام ولایی بر اخلاق‌مداری در سیاست، ساده‌زیستی حاکمان، امر به معروف و نهی از منکر و گسترش فرهنگ قرآنی به‌عنوان راهبردهای کلیدی برای اصلاح جامعه تأکید می‌کند.

از منظر آیت‌الله خامنه‌ای، نظام ولایی نه تنها یک مدل ملی بلکه الگویی جهانی برای گسترش عدالت و توحید است که باید پیام خود را به همه ملت‌ها برساند. شجاعت در برابر دشمنان، توجه به جایگاه زن، و توسعه اقتصادی مبتنی بر عدالت از دیگر ویژگی‌های این نظام است.

این تحقیق با استناد به سخنان و خطبه‌های رهبر انقلاب، شاخص‌های قرآنی نظام ولایی را بررسی کرده و به این نتیجه می‌رسد که این نظام، مدلی کامل برای تحقق جامعه اسلامی مبتنی بر ارزش‌های قرآنی است.

کلیدواژه‌ها:

نظام ولایی، آیت‌الله خامنه‌ای، قرآن، عدالت، توحید، اخلاق، مقاومت، فرهنگ قرآنی.

مقدمه

اندیشه ولایی که در آموزه‌های قرآنی و سیره پیامبر اسلام (ص) و اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ریشه دارد، یکی از مهم‌ترین نظام‌های فکری برای تحقق جامعه‌ای الهی و عدالت‌محور است. این نظام بر پایه حاکمیت الهی و هدایت جامعه توسط ولی‌فقیه به‌عنوان جانشین پیامبر (ص) و امام معصوم (ع)، شکل می‌گیرد و اهدافی همچون اجرای عدالت، توسعه اخلاق، مبارزه با فساد، و ایجاد بستری برای تعالی انسان را دنبال می‌کند.

آیت‌الله سید علی خامنه‌ای، رهبر معظم انقلاب اسلامی، به‌عنوان یکی از برجسته‌ترین متفکران نظام ولایی، این اندیشه را در چارچوبی جامع و بر مبنای قرآن کریم تبیین کرده‌اند. ایشان نظام ولایی را نه تنها به‌عنوان یک مدل حکمرانی، بلکه به‌عنوان الگویی برای زندگی فردی، اجتماعی و جهانی معرفی می‌کنند. از منظر ایشان، نظام ولایی یک ساختار الهی است که هدف اصلی آن ایجاد جامعه‌ای توحیدمحور است؛ جامعه‌ای که در آن عدالت اجتماعی، استقلال ملی، کرامت انسانی، و تربیت معنوی انسان‌ها تحقق یابد.

در این نظام، قرآن به‌عنوان راهنمای اصلی، تمام ابعاد زندگی انسان را پوشش می‌دهد. بر اساس بیانات رهبر انقلاب، شاخص‌های کلیدی نظام ولایی مانند عدالت‌محوری، مبارزه با ظلم، وحدت امت اسلامی، گسترش فرهنگ قرآنی، اخلاق‌مداری در سیاست، و استقلال در برابر سلطه‌گران از مفاهیمی است که به‌طور مستقیم از قرآن استخراج شده‌اند. آیت‌الله خامنه‌ای تأکید دارند که نظام ولایی بر اساس سه اصل بنیادین ایمان، عدالت، و مقاومت شکل می‌گیرد و می‌تواند الگویی برای هدایت بشریت در عصر حاضر باشد.

این مقاله در تلاش است تا با بهره‌گیری از بیانات آیت‌الله خامنه‌ای و تحلیل شاخص‌های نظام ولایی در اندیشه قرآنی ایشان، تصویری جامع از این نظام الهی ارائه دهد. بررسی دقیق این شاخص‌ها نشان می‌دهد که نظام ولایی نه تنها پاسخی به نیازهای مادی و معنوی جامعه اسلامی است، بلکه با تکیه بر اصول قرآنی، ظرفیت گسترش در سطح جهانی را نیز دارد.

در ادامه، ابتدا به بررسی مبانی قرآنی نظام ولایی پرداخته و سپس شاخص‌های این نظام با استناد به سخنان آیت‌الله خامنه‌ای رهبر معظم انقلاب اسلامی تحلیل خواهد شد. این شاخص‌ها شامل توحیدمحوری، عدالت، مشارکت مردمی، اخلاق در حکمرانی، جایگاه زن، و گسترش فرهنگ قرآنی و.... است که هر یک به‌عنوان عناصر حیاتی برای تحقق جامعه‌ای قرآنی و الهی مورد بحث قرار خواهند گرفت.

تعریف نظام ولایی در اندیشه قرآنی

آیت‌الله خامنه‌ای، نظام ولایی را نظامی می‌دانند که بر پایه حاکمیت الهی و ولایت امام معصوم یا ولی فقیه استوار است. در این نظام، ولایت به‌عنوان امتداد نبوت، وظیفه هدایت جامعه اسلامی را بر عهده دارد.

تعریف قرآنی ولایت:

> «ولایت در قرآن به معنای سرپرستی، هدایت و رهبری است که در آیات متعددی به آن اشاره شده است، از جمله: «إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا...» (مائده: 55)»

شاخص‌های نظام ولایی در اندیشه قرآنی آیت‌الله خامنه‌ای

اصل توحید: محوریت حاکمیت الهی

توحید مهم‌ترین اصل نظام ولایی است. آیت‌الله خامنه‌ای معتقدند که توحید صرفاً یک باور فردی نیست، بلکه باید به‌صورت اجتماعی و حکومتی نیز نمود یابد. ایشان می‌فرمایند:

> «نظام ولایی، جلوه عینی حاکمیت خداوند در جامعه است که از طریق ولایت تحقق می‌یابد.»

دلایل قرآنی توحید در نظام ولایی:

تأکید قرآن بر حاکمیت مطلق خداوند: «لَهُ الْحُکْمُ وَإِلَیْهِ تُرْجَعُونَ» (قصص: 88).

نفی شرک در سیاست و اجتماع: «قُلْ یَا أَیُّهَا الْکَافِرُونَ... وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ» (کافرون: 1-5).

(خامنه‌ای، سید علی. توحید و جایگاه آن در نظام اسلامی، صص 10-25.)

آیت‌الله خامنه‌ای همواره بر محوریت توحید در نظام اسلامی تأکید داشته‌اند و توحید را نه تنها زیربنای عقیدتی، بلکه اساس ساختار اجتماعی و حکومتی جامعه اسلامی می‌دانند. ایشان در سخنرانی‌های مختلف به این موضوع پرداخته‌اند:

> «حکومت اسلامی با همه شئونش، متکی به توحید است. توحید در حکومت اسلامی، یعنی اینکه هیچ قدرتی جز قدرت خدا در اداره جامعه اصل نیست. مسئولان و مردم باید باور کنند که در همه عرصه‌ها تابع امر الهی و دستورات او هستند.»

(بیانات در دیدار با دانشجویان و اساتید دانشگاه تهران، 20 بهمن 1376).

> «توحید همان محور اصلی است که همه ابعاد زندگی انسان، چه فردی و چه اجتماعی، باید بر اساس آن سامان یابد. توحید سیاسی، یعنی خداوند، فرمانروا و حاکم مطلق است و هیچ قدرتی نمی‌تواند خود را مستقل از او بداند.»

(سخنرانی در جمع اعضای شورای نگهبان، 15 تیر 1382).

عدالت: بنیان جامعه اسلامی

عدالت در نگاه آیت‌الله خامنه‌ای، یکی از اهداف اصلی نظام ولایی است. ایشان عدالت را هم در سطح فردی و هم در سطح اجتماعی ضروری می‌دانند و معتقدند که بدون عدالت، جامعه اسلامی دچار انحطاط خواهد شد.

آیات مرتبط:

«إِنَّ اللَّهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ...» (نحل: 90).

«وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا...» (انعام: 152).

ایشان بیان می‌کنند:

> «عدالت اسلامی فراتر از تساوی است؛ عدالت، رعایت حق و دادن حق به صاحب حق است.»

(خامنه‌ای، سید علی. عدالت و معیارهای قرآنی آن، صص 30-50.)

عدالت، از مهم‌ترین دغدغه‌های آیت‌الله خامنه‌ای در طول دوران رهبری است. ایشان عدالت را شرط اساسی قوام جامعه اسلامی و شاخص اصلی حاکمیت ولایی می‌دانند:

> «عدالت، ستون فقرات نظام اسلامی است. اگر عدالت نباشد، نظام اسلامی معنا ندارد. عدالت در نظام ولایی، نه فقط یک شعار، بلکه یک وظیفه عملی است که حاکمیت و مردم باید در تحقق آن بکوشند.»

(خطبه‌های نماز جمعه تهران، 22 دی 1379).

> «قرآن کریم بر برپایی قسط و عدل تأکید دارد. این عدالت باید در اقتصاد، سیاست، قضاوت و تمامی شئون جامعه اسلامی پیاده شود. بدون عدالت، هیچ جامعه‌ای نمی‌تواند در مسیر اسلام حرکت کند.»

(سخنرانی در دیدار با قضات دادگستری، 7 خرداد 1390).

امامت: استمرار نبوت در نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای امامت را کلید نظام ولایی می‌دانند. امامت، نقشی محوری در هدایت جامعه اسلامی دارد و ضامن پیاده‌سازی عدالت و توحید است.

آیات مرتبط:

«وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً یَهْدُونَ بِأَمْرِنَا...» (انبیا: 73).

«یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ...» (نساء: 59).

(خامنه‌ای، سید علی. ولایت در قرآن، صص 15-30.)

آیت‌الله خامنه‌ای بر نقش کلیدی امامت و ولایت در نظام ولایی تأکید کرده و آن را عامل حفظ و هدایت جامعه در مسیر حق می‌دانند:

> «امامت در نظام اسلامی، همان چیزی است که قرآن آن را به‌عنوان محور هدایت معرفی کرده است. امام، چراغ راه مردم و رهبر جامعه به‌سوی عدالت و تقواست.»

(سخنرانی در حرم مطهر امام رضا (ع)، اول فروردین 1383).

> «ولایت در اسلام به معنای سرپرستی دلسوزانه و هدایت‌گرانه است. ولی‌فقیه، ادامه‌دهنده راه انبیا و ائمه معصومین است و نقش او در هدایت جامعه، همان نقشی است که قرآن برای پیامبران و ائمه ترسیم کرده است.»

(سخنرانی در دیدار با بسیجیان، 5 آذر 1392).

مردم‌سالاری دینی: مشارکت مردم در نظام ولایی

مردم‌سالاری دینی یکی از ویژگی‌های برجسته نظام ولایی در نگاه آیت‌الله خامنه‌ای است. ایشان معتقدند که نظام اسلامی بر پایه مشارکت آگاهانه مردم و تعهد دینی آن‌ها استوار است.

دلایل قرآنی مردم‌سالاری دینی:

«وَشَاوِرْهُمْ فِی الْأَمْرِ...» (آل عمران: 159).

«وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَیْنَهُمْ...» (شوری: 38).

(خامنه‌ای، سید علی. مردم‌سالاری دینی در قرآن، صص 50-70.)

آیت‌الله خامنه‌ای همواره بر اهمیت مردم‌سالاری دینی و نقش مردم در ساختار نظام ولایی تأکید داشته‌اند. ایشان مردم‌سالاری را برگرفته از اصول قرآنی و یکی از ویژگی‌های برجسته حکومت اسلامی می‌دانند:

> «در نظام ولایی، مردم اصل هستند؛ اما مردمی که به‌عنوان بندگان خدا در چارچوب دین و شریعت حرکت می‌کنند. این، همان چیزی است که قرآن کریم در آیات شورا و بیعت به آن اشاره کرده است.»

(بیانات در دیدار با ائمه جمعه سراسر کشور، 6 شهریور 1384)

> «مردم‌سالاری دینی به معنای تلفیق دو اصل قرآنی است: اول اینکه مردم صاحب سرنوشت خویش‌اند، و دوم اینکه این سرنوشت باید در چارچوب ارزش‌های الهی تعیین شود.»

(سخنرانی در مراسم تحلیف رئیس‌جمهور، 14 مرداد 1396).

مسئولیت اجتماعی: امر به معروف و نهی از منکر

آیت‌الله خامنه‌ای بر این باورند که مسئولیت اجتماعی و فرهنگی از وظایف اصلی افراد در نظام ولایی است. ایشان امر به معروف و نهی از منکر را یکی از راهکارهای تحقق این مسئولیت می‌دانند.

آیات مرتبط:

«وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ أُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَى الْخَیْرِ...» (آل عمران: 104).

«کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ...» (آل عمران: 110).

(خامنه‌ای، سید علی. امر به معروف و مسئولیت اجتماعی، صص 20-40.)

ایشان مسئولیت اجتماعی را یکی از شاخص‌های مهم نظام ولایی دانسته و بر وظیفه همگانی در امر به معروف و نهی از منکر تأکید دارند:

> «امر به معروف و نهی از منکر، یک اصل قرآنی است که باید در همه عرصه‌ها جاری باشد. این وظیفه فقط محدود به گناهان فردی نیست، بلکه در امور اجتماعی، اقتصادی و سیاسی نیز باید رعایت شود.»

(سخنرانی در جمع طلاب حوزه علمیه قم، 19 دی 1386).

> «هر مسلمان در نظام اسلامی، موظف به اصلاح جامعه است. این وظیفه از طریق امر به معروف و نهی از منکر محقق می‌شود. اگر این اصل فراموش شود، جامعه اسلامی به انحطاط کشیده می‌شود.»

(بیانات در دیدار با بسیجیان، 27 آبان 1390).

حاکمیت دینی: ریشه قرآنی نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای بر این باورند که حاکمیت دینی، یکی از اصولی است که قرآن بر آن تأکید دارد و این اصل در نظام ولایی به‌صورت عینی محقق می‌شود:

> «حاکمیت دینی در قرآن، همان ولایتی است که خداوند به پیامبر و اولیای دین سپرده است. این حاکمیت در زمان غیبت امام معصوم، به ولی‌فقیه سپرده می‌شود.»

(سخنرانی در جمع اعضای خبرگان رهبری، 25 شهریور 1388).

> «در قرآن کریم آمده است که حاکمیت باید بر اساس عدل، تقوا و هدایت الهی باشد. نظام ولایی، پاسخی عملی به این آیات است.»

(سخنرانی در دیدار با اعضای شورای عالی انقلاب فرهنگی، 12 بهمن 1393).

نفی طاغوت

> «نفی طاغوت، اساس حرکت انبیا بوده است و نظام ولایی، ادامه‌دهنده همان راه است. مردم در این نظام باید به جای پذیرش سلطه طاغوت، تنها خدا را عبادت کنند.»

آیات مرتبط:

«فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِنْ بِاللَّهِ...» (بقره: 256).

«وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ...» (نحل: 36).

(بیانات در مراسم سالگرد رحلت امام خمینی (ره)، 14 خرداد 1397).

اخلاق: اساس نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای بر اهمیت اخلاق در نظام ولایی تأکید ویژه‌ای دارند و آن را پایه‌ای برای پیوند میان مردم و حکومت می‌دانند. ایشان بیان می‌کنند:

> «اخلاق در نظام ولایی، نه فقط یک امر فردی، بلکه یک وظیفه اجتماعی است. قرآن کریم تأکید دارد که حاکم و مردم باید به ارزش‌های اخلاقی پایبند باشند.»

آیات مرتبط:

«إِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ» (بقره: 195).

«إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاکُمْ» (حجرات: 13).

(بیانات در دیدار با اعضای مجلس خبرگان، 19 اسفند 1392).

> «اگر حاکمیت به اخلاق پایبند نباشد، نظام ولایی از اهداف الهی فاصله خواهد گرفت. اخلاق، شرط اجرای عدالت و قوام توحید در جامعه است.»

(سخنرانی در اجلاس سراسری ائمه جمعه، 12 دی 1389).

مقاومت در برابر ظلم: اصل قرآنی در نظام ولایی

یکی از شاخص‌های برجسته نظام ولایی در نگاه آیت‌الله خامنه‌ای، مقاومت در برابر ظلم و استکبار است. ایشان این اصل را برگرفته از آیات قرآنی می‌دانند:

> «نظام ولایی، نظام مقاومت است؛ مقاومت در برابر هر قدرتی که بخواهد حق مردم را پایمال کند. قرآن به ما می‌آموزد که در برابر ظلم و طغیان نباید سکوت کرد.»

آیات مرتبط:

«وَلا تَرْکَنُوا إِلَى الَّذِینَ ظَلَمُوا...» (هود: 113).

«فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْکُفْرِ...» (توبه: 12).

(بیانات در مراسم بزرگداشت شهدای 7 تیر، 7 تیر 1391).

> «مبارزه با استکبار، یکی از اصول اساسی نظام ولایی است که در قرآن کریم به آن تصریح شده است. این مبارزه فقط نظامی نیست، بلکه فرهنگی و اقتصادی نیز هست.»

(سخنرانی در همایش مقاومت اسلامی، 14 مهر 1395).

علم و دانش: ابزار پیشرفت نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای، علم و دانش را یکی از مهم‌ترین ابزارهای پیشرفت نظام ولایی می‌دانند. ایشان تأکید دارند که حرکت به‌سوی علم، یک وظیفه قرآنی و اسلامی است:

> «قرآن کریم ما را به علم‌آموزی و تفکر دعوت کرده است. نظام ولایی بدون توجه به علم و دانش نمی‌تواند به پیشرفت و استقلال برسد.»

آیات مرتبط:

«قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِینَ یَعْلَمُونَ وَالَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَ...» (زمر: 9).

«وَفَوْقَ کُلِّ ذِی عِلْمٍ عَلِیمٌ» (یوسف: 76).

(سخنرانی در دیدار با نخبگان علمی، 15 آبان 1393).

> «نظام ولایی باید پرچم‌دار تولید علم و فناوری باشد. این همان چیزی است که قرآن از ما می‌خواهد: حرکت در مسیر آبادانی زمین با استفاده از علم.»

(بیانات در دیدار با اساتید دانشگاه، 21 اردیبهشت 1387)

تربیت انسان قرآنی: هدف اصلی نظام ولایی

تربیت انسان قرآنی یکی از اهداف اصلی نظام ولایی است که آیت‌الله خامنه‌ای بر آن تأکید دارند. ایشان بیان می‌کنند:

> «نظام ولایی باید انسان‌هایی مؤمن، شجاع و آگاه تربیت کند. این انسان‌ها، همان بندگان خداوند هستند که قرآن کریم آن‌ها را ستوده است.»

آیات مرتبط:

«وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِینَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ هَوْنًا...» (فرقان: 63).

«قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاهَا» (شمس: 9).

(بیانات در دیدار با طلاب حوزه علمیه قم، 25 آبان 1389).

> «هدف نظام ولایی، ساختن انسان‌هایی است که به قرآن عمل کنند و به‌عنوان الگو در جهان شناخته شوند. این انسان‌ها، سربازان عدالت و توحید هستند.»

(سخنرانی در جمع جوانان بسیجی، 30 مهر 1392).

استقلال و آزادی: آرمان نظام ولایی

استقلال و آزادی از جمله آرمان‌های اساسی نظام ولایی است که آیت‌الله خامنه‌ای آن را برگرفته از قرآن می‌دانند:

> «استقلال، نشانه عزت یک ملت است و آزادی، حق الهی مردم است. قرآن کریم تأکید دارد که مسلمانان نباید زیر بار سلطه بیگانگان بروند.»

آیات مرتبط:

«وَلَنْ یَجْعَلَ اللَّهُ لِلْکَافِرِینَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ سَبِیلًا» (نساء: 141).

«إِلَّا تَنْفِرُوا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا أَلِیمًا...» (توبه: 39).

(بیانات در مراسم 22 بهمن، 22 بهمن 1388).

> «نظام ولایی به ما می‌آموزد که استقلال و آزادی، تنها در سایه عمل به احکام الهی و قرآن ممکن است.»

(سخنرانی در دیدار با دانشجویان، 15 خرداد 1391).

نفی طاغوت: وظیفه قرآنی نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای بر نفی طاغوت و حاکمیت طاغوتی تأکید ویژه‌ای دارند و آن را یکی از شاخص‌های قرآنی نظام ولایی می‌دانند:

وحدت امت اسلامی: شاخص قرآنی نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای همواره بر وحدت امت اسلامی به‌عنوان یک اصل قرآنی و یکی از ویژگی‌های اساسی نظام ولایی تأکید کرده‌اند:

> «قرآن، مسلمانان را به وحدت فرا می‌خواند. در نظام ولایی، وحدت امت اسلامی یک وظیفه دینی و سیاسی است. این وحدت می‌تواند قدرت اسلام را در برابر دشمنان تقویت کند.»

آیات مرتبط:

«وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا...» (آل‌عمران: 103).

«إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ...» (حجرات: 10).

(سخنرانی در کنفرانس وحدت اسلامی، 17 دی 1392).

> «تفرقه، سلاح دشمنان اسلام است. نظام ولایی باید همه مسلمانان را زیر پرچم توحید و قرآن گرد هم آورد. این وظیفه‌ای است که خداوند در قرآن به ما امر کرده است.»

(بیانات در دیدار با علمای اهل سنت، 4 خرداد 1390).

ساده‌زیستی حاکمان: الگویی از نظام ولایی

ایشان ساده‌زیستی را یکی از ویژگی‌های ضروری حاکمان در نظام ولایی می‌دانند و این اصل را از سیره پیامبران و اهل‌بیت (علیهم‌السلام) می‌گیرند:

> «ساده‌زیستی حاکمان، شرط مقبولیت نظام ولایی است. قرآن کریم از پیامبرانی یاد می‌کند که در عین فقر مادی، غنی از فضیلت‌های اخلاقی بودند.»

آیات مرتبط:

«وَمَا أَرْسَلْنَا فِی قَرْیَةٍ مِنْ نَذِیرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا...» (سبأ: 34).

«تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لَا یُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْأَرْضِ...» (قصص: 83).

(سخنرانی در دیدار با مسئولان نظام، 27 اردیبهشت 1385).

> «حاکمان در نظام ولایی نباید به رفاه و تجملات دل ببندند. مردم وقتی عدالت و ساده‌زیستی را در رفتار مسئولان ببینند، به نظام اعتماد خواهند کرد.»

(بیانات در مراسم سالگرد ارتحال امام خمینی، 14 خرداد 1394).

شجاعت در برابر دشمنان: ویژگی حاکمیت ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای شجاعت را یکی از ویژگی‌های ضروری حاکمان در نظام ولایی می‌دانند و این اصل را برگرفته از آموزه‌های قرآنی معرفی می‌کنند:

> «حاکمان در نظام ولایی باید شجاعت داشته باشند و در برابر دشمنان اسلام ایستادگی کنند. قرآن کریم به ما می‌آموزد که نباید از تهدیدهای دشمن بترسیم.»

آیات مرتبط:

«الَّذِینَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ...» (آل‌عمران: 173).

«وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ...» (آل‌عمران: 139).

(سخنرانی در جمع فرماندهان سپاه، 24 شهریور 1391).

> «نظام ولایی، نظام شجاعت است. حاکمان و مردم باید از تهدیدهای دشمنان نهراسند و به خدا توکل کنند.»

(بیانات در دیدار با نیروهای مسلح، 3 مهر 1395).

کرامت انسانی: محور نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای بر کرامت انسانی به‌عنوان یکی از اصول قرآنی تأکید کرده و آن را محور نظام ولایی می‌دانند:

> «نظام ولایی باید کرامت انسان را حفظ کند. این کرامت، هدیه خداوند به انسان است و هیچ قدرتی نباید آن را پایمال کند.»

آیات مرتبط:

«وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ...» (اسراء: 70).

«قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاهَا» (شمس: 9).

(بیانات در دیدار با جوانان، 15 مرداد 1392).

> «حکومت ولایی باید در همه برنامه‌ها، کرامت انسانی را در اولویت قرار دهد. این کرامت، محور عدالت، اخلاق و توسعه است.»

(سخنرانی در دیدار با مسئولان فرهنگی، 8 خرداد 1388).

نصرت الهی: عامل پیروزی نظام ولایی

ایشان پیروزی نظام ولایی را وابسته به نصرت الهی می‌دانند و تأکید دارند که این نصرت با ایمان و عمل به قرآن محقق می‌شود:

> «نصرت الهی، وعده خداوند به مؤمنان است. نظام ولایی، نظامی است که به نصرت الهی متکی است و این اعتماد، رمز پیروزی آن است.»

آیات مرتبط:

«إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ یَنْصُرْکُمْ...» (محمد: 7).

«وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ» (روم: 47).

(بیانات در مراسم بزرگداشت شهدای دفاع مقدس، 31 شهریور 1390).

> «در نظام ولایی، ایمان به نصرت الهی، عامل ایستادگی در برابر مشکلات و تهدیدهاست. این همان چیزی است که قرآن به ما آموخته است.»

(سخنرانی در مراسم روز قدس، 12 تیر 1394).

رشد اقتصادی و عدالت اجتماعی: اهداف نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای بر توسعه اقتصادی در کنار عدالت اجتماعی به‌عنوان دو هدف قرآنی نظام ولایی تأکید کرده‌اند:

> «نظام ولایی باید اقتصادی عادلانه و مقاوم داشته باشد. قرآن کریم تأکید دارد که فقر نباید در جامعه اسلامی وجود داشته باشد.»

آیات مرتبط:

«کَیْ لَا یَکُونَ دُولَةً بَیْنَ الْأَغْنِیَاءِ...» (حشر: 7).

«إِنَّ اللَّهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ...» (نحل: 90).

(بیانات در دیدار با کارآفرینان، 7 اردیبهشت 1392).

> «اقتصاد مقاومتی، همان اقتصادی است که بر اساس قرآن و عدالت بنا شده باشد. مردم باید احساس کنند که نظام ولایی برای همه، فرصت برابر ایجاد می‌کند.»

(سخنرانی در جمع فعالان اقتصادی، 15 اسفند 1390).

عدالت‌محوری در قضاوت: سنگ‌بنای نظام ولایی

آیت‌الله خامنه‌ای بر عدالت در نظام قضاوت به‌عنوان یکی از ستون‌های نظام ولایی تأکید دارند و آن را برگرفته از قرآن معرفی می‌کنند:

> «قضاوت در نظام ولایی باید بر اساس عدالت و حق باشد. قرآن کریم ما را به رعایت انصاف حتی در برابر دشمنان توصیه می‌کند.»

آیات مرتبط:

«إِنَّ اللَّهَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَی أَهْلِهَا وَإِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْکُمُوا بِالْعَدْلِ...» (نساء: 58).

«یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ...» (نساء: 135).

(بیانات در دیدار با قضات و کارکنان دستگاه قضایی، 7 تیر 1387).

> «عدالت در قضاوت، پایه اعتماد مردم به نظام است. هر جا که مردم عدالت را ببینند، به نظام ولایی دلگرم می‌شوند.»

(سخنرانی در سالروز تأسیس دادگستری، 15 اسفند 1388).

جایگاه زن در نظام ولایی: الگویی قرآنی

آیت‌الله خامنه‌ای جایگاه زن را در نظام ولایی بسیار برجسته دانسته و آن را بر اساس آموزه‌های قرآنی تبیین کرده‌اند:

> «قرآن کریم، زن را به‌عنوان انسان کامل معرفی می‌کند. در نظام ولایی، زن‌ها باید نقش فعال در عرصه‌های تربیتی، اجتماعی و حتی سیاسی داشته باشند.»

آیات مرتبط:

«مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهُ حَیَاةً طَیِّبَةً...» (نحل: 97).

«وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِیَاءُ بَعْضٍ...» (توبه: 71).

(سخنرانی در دیدار با بانوان فرهیخته، 20 فروردین 1391).

> «نظام ولایی نگاه تحقیرآمیز به زن را مردود می‌داند. زن در این نظام، مربی انسان‌ها و ستون خانواده است.»

(بیانات در همایش زنان و انقلاب اسلامی، 12 بهمن 1384).

اخلاق‌محوری در سیاست: شاخص قرآنی

آیت‌الله خامنه‌ای تأکید دارند که سیاست در نظام ولایی باید مبتنی بر اخلاق باشد، برخلاف سیاست‌ورزی مادی که اغلب از اخلاق جداست:

> «در نظام ولایی، سیاست با اخلاق آمیخته است. قرآن ما را به صداقت، امانت‌داری و دوری از فریب در سیاست دعوت کرده است.»

آیات مرتبط:

«یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ» (صف: 2).

«إِنَّ اللَّهَ لَا یُحِبُّ الْخَائِنِینَ» (انفال: 58).

(سخنرانی در دیدار با مسئولان نظام، 24 اردیبهشت 1392).

> «اگر سیاستمداران در نظام ولایی به اخلاق پایبند باشند، مردم با اعتماد کامل از سیاست‌های نظام حمایت خواهند کرد.»

(بیانات در مراسم 22 بهمن، 22 بهمن 1393).

فرهنگ‌سازی قرآنی: ضرورت نظام ولایی

ایشان بر ترویج فرهنگ قرآنی به‌عنوان محور نظام ولایی تأکید ویژه دارند و معتقدند که این فرهنگ، ضامن بقاء و پیشرفت جامعه است:

> «فرهنگ قرآنی، روح نظام ولایی است. باید قرآن در زندگی مردم جاری شود، هم در سبک زندگی و هم در نظام‌های اجتماعی.»

آیات مرتبط:

«وَنَزَّلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ...» (نحل: 89).

«أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ...» (محمد: 24).

(سخنرانی در اختتامیه مسابقات بین‌المللی قرآن کریم، 15 فروردین 1390).

> «نظام ولایی، بدون فرهنگ قرآنی، از اهداف خود دور خواهد شد. فرهنگ‌سازی قرآنی باید اولویت همه نهادها باشد.»

(بیانات در دیدار با مدیران فرهنگی، 20 تیر 1392).

امر به معروف و نهی از منکر: وظیفه همگانی

آیت‌الله خامنه‌ای، امر به معروف و نهی از منکر را وظیفه‌ای قرآنی و یکی از ارکان نظام ولایی معرفی می‌کنند:

> «قرآن کریم، مسلمانان را به امر به معروف و نهی از منکر دعوت می‌کند. این وظیفه، همگانی است و اجرای آن باعث اصلاح جامعه می‌شود.»

آیات مرتبط:

«کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ...» (آل‌عمران: 110).

«وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِیَاءُ بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ...» (توبه: 71).

(سخنرانی در همایش بسیجیان، 5 آذر 1391).

> «امر به معروف و نهی از منکر، مسئولیت همه مردم است. در نظام ولایی، این دو اصل، پایه اصلاح و رشد جامعه هستند.»

(بیانات در دیدار با طلاب حوزه علمیه قم، 12 اردیبهشت 1389).

نگاه بین‌المللی در نظام ولایی: گسترش عدالت جهانی

آیت‌الله خامنه‌ای نظام ولایی را فراتر از مرزهای جغرافیایی دانسته و آن را یک الگو برای گسترش عدالت جهانی معرفی می‌کنند:

> «نظام ولایی تنها محدود به یک کشور نیست. این نظام باید پیام عدالت، توحید و آزادی را به جهان برساند. قرآن کریم، امت اسلامی را مسئول این مأموریت می‌داند.»

آیات مرتبط:

«وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ» (انبیاء: 107).

«لِیَکُونَ الدِّینُ کُلُّهُ لِلَّهِ...» (انفال: 39).

(سخنرانی در اجلاس جهانی مقاومت، 18 بهمن 1394).

> «اگر نظام ولایی بتواند عدالت و توحید را در جهان گسترش دهد، این بزرگ‌ترین موفقیت است.

(بیانات در مراسم روز قدس، 22 تیر 1397).

نتیجه‌

نظام ولایی به‌عنوان الگویی قرآنی و الهی، بر اساس اصولی استوار است که ریشه در آموزه‌های وحیانی و سیره پیامبر اکرم (ص) و اهل‌بیت (علیهم‌السلام) دارد. این نظام بر محوریت توحید، عدالت، اخلاق، و کرامت انسانی شکل می‌گیرد و هدف آن ایجاد جامعه‌ای است که در آن ارزش‌های الهی به‌طور کامل محقق شود.

بیانات آیت‌الله خامنه‌ای به‌عنوان یکی از اندیشمندان برجسته نظام ولایی، روشن‌کننده شاخص‌های کلیدی این نظام است. ایشان تأکید دارند که عدالت‌محوری، گسترش اخلاق در سیاست، استقلال و مقاومت در برابر سلطه‌گران، و مشارکت مردمی از اصول بنیادین نظام ولایی هستند. در این نظام، حاکمان موظف به رعایت ساده‌زیستی، مبارزه با فساد، و تأمین حقوق مردم هستند. همچنین گسترش فرهنگ قرآنی و توجه به جایگاه والای زن به‌عنوان مربی نسل‌ها، از دیگر ویژگی‌های این نظام است که آن را از دیگر نظام‌های حکومتی متمایز می‌کند.

از منظر رهبر انقلاب، نظام ولایی تنها یک مدل حکمرانی برای جامعه اسلامی نیست، بلکه الگویی جهانی برای هدایت بشریت به‌سوی عدالت و معنویت است. این نظام ظرفیت دارد که با تکیه بر ارزش‌های قرآنی، به نیازهای مادی و معنوی جوامع مختلف پاسخ دهد و الگوی تمدن‌سازی اسلامی-ایرانی را ارائه کند.

در پایان، می‌توان نتیجه گرفت که نظام ولایی با محوریت آموزه‌های قرآنی و در پرتو هدایت ولی‌فقیه، نه تنها الگویی برای حکومت‌داری اسلامی است، بلکه مسیری برای ایجاد تمدنی الهی و جهانی است که در آن عدالت، توحید، اخلاق و کرامت انسانی به‌طور کامل محقق شود.



منابع

قرآن کریم.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در دیدار با قضات و کارکنان دستگاه قضایی. 7 تیر 1387.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در دیدار با مسئولان نظام. 24 اردیبهشت 1392.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در مراسم 22 بهمن. 22 بهمن 1393.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در همایش بسیجیان. 5 آذر 1391.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در همایش زنان و انقلاب اسلامی. 12 بهمن 1384.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در سخنرانی در دیدار با طلاب حوزه علمیه قم. 12 اردیبهشت 1389.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در دیدار با مدیران فرهنگی. 20 تیر 1392.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در دیدار با بانوان فرهیخته. 20 فروردین 1391.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در سخنرانی در اختتامیه مسابقات بین‌المللی قرآن کریم. 15 فروردین 1390.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. بیانات در سخنرانی در اجلاس جهانی مقاومت. 18 بهمن 1394.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. سخنرانی در مراسم روز قدس. 22 تیر 1397.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. سخنرانی در مراسم 15 اسفند 1388 (سالروز تأسیس دادگستری).

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. سخنرانی در دیدار با طلاب حوزه علمیه قم. 12 اردیبهشت 1389.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. توحید و جایگاه آن در نظام اسلامی. قم: دفتر نشر معارف، 1396.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. عدالت و معیارهای قرآنی آن. تهران: بنیاد اندیشه اسلامی، 1387.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. ولایت در قرآن. مشهد: انتشارات بنیاد پژوهش‌های اسلامی، 1392.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. مردم‌سالاری دینی در قرآن. قم: نشر پژوهشکده قرآن و عترت، 1390.

آیت‌الله خامنه‌ای، سید علی. امر به معروف و مسئولیت اجتماعی. تهران: نشر انقلاب اسلامی، 1385.

مقاومت فاطمی: حضرت زہراؑ کا راہِ حق میں استقامت اور مزاحمت

باسمه تعالی

ترجمه[1]: سید احمد رضوی

حضرت زہراؑ کا راہِ حق میں ڈٹ جانا اور ولایت کے دفاع کی راہ میں مزاحمت تاریخ کے لیے ہمیشہ کے لیے ایک نمونہ ہے۔

مزاحمت کا مفہوم

مزاحمت کا مطلب اہداف کی راہ میں ثابت قدم رہنا، کمزوری نہ دکھانا، اور دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرنا ہے۔ یہ کئی پہلوؤں پر مشتمل ایک جامع تصور ہے، جن میں شامل ہیں:

سیاسی مزاحمت: حق و باطل کے معرکوں میں اصولوں پر ڈٹے رہنا۔

معاشی مزاحمت: معاشی دباؤ کے باوجود خودمختاری برقرار رکھنا۔

ثقافتی مزاحمت: تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے لیے استقامت۔

نظامی مزاحمت: دشمن کے حملوں کے خلاف دفاع۔

دینی و الٰہی مزاحمت: اللہ کی رضا کے لیے صبر و استقامت اور ایمانی شناخت کو محفوظ رکھنا۔

اہداف میں استقامت

مزاحمت اللہ کے مقاصد کے حصول میں صبر و استقامت کے ساتھ کھڑے رہنے اور ایمانی معاشرے کی حفاظت میں پائیداری کا نام ہے۔ یہ انفرادی و اجتماعی زندگی میں توحید، ولایت، اور ایمان کی توسیع کا تسلسل ہے۔

ایمان اور ولایت کے پہلو

1. ایمان اور ولایت کا مثبت پہلو

یہ اللہ کی ولایت کے تحت ایمانی معاشرے کا اتحاد اور مومنین کا ایک دوسرے کے دینی و دنیاوی امور کی فکر کرنا ہے۔

2. ایمان اور ولایت کا منفی پہلو

یہ غیراللہ کی حاکمیت کو مسترد کرنا اور غیر الٰہی قوانین کو قبول نہ کرنا ہے۔

یہ مزاحمت طاغوت کے خلاف ہے، جو اپنے قوانین کے ذریعے غیرالٰہی طرز زندگی کو نافذ کرنا چاہتا ہے یا ایمانی معاشروں اور مسلم ممالک پر غلبہ پانے کی کوشش کرتا ہے۔

خلاصہ

مزاحمت، ایمان، توحید، اور ولایت کا ایسا تسلسل ہے جو انفرادی و اجتماعی زندگی میں دشمنوں کے ہر قسم کے تسلط اور جارحیت کے خلاف ڈٹے رہنے کی طاقت فراہم کرتا ہے۔

مزاحمت اور جہاد فی سبیل اللہ کا تعلق

اسلامی احکام میں مزاحمت درحقیقت دفاعی جہاد کی شکل ہے، جو دشمنوں کی جارحیت کے مقابلے میں فرض ہے۔ یہ ہر مسلمان پر واجب ہے تاکہ دشمن اسلامی سرزمینوں اور مسلمانوں پر غلبہ حاصل نہ کرسکے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

"وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا"

(اللہ کافروں کو مومنوں پر غلبہ حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں دے گا۔)

مزاحمتی محاذ کی شناخت

1. اسرائیل کے خلاف مزاحمت

مزاحمتی محاذ کی شناخت اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت کے خلاف کھڑے ہونے میں ہے۔

2. اتحاد اور ہمبستگی

فلسطین اور خطے کے مسلمانوں کے دفاع کے لیے مزاحمتی گروہوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی۔

اسرائیلی تجاوزات اور اس کے حامیوں کے خلاف استقامت۔

مسلم ریاستوں اور عوام کی جانب سے ان مزاحمتی گروہوں کی ہمہ جہتی حمایت اور مدد۔

حضرت فاطمہ زہراؑ کی استقامت

حضرت زہراؑ کی راہِ حق میں استقامت اور ولایت کے دفاع میں مزاحمت اسلامی مزاحمت کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپؑ نے نہ صرف حق کے لیے قربانی دی بلکہ ولایت کی حمایت میں صبر، جدوجہد، اور مزاحمت کا ایک لازوال درس دیا۔

حضرت زہراؑ کی مزاحمت کے چند پہلو

عملی استقامت

1. ولیِ معاشرہ کا دفاع

حضرت زہراؑ نے ولیِ وقت (حضرت علیؑ) کے دفاع کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔ آپؑ دروازے کے پیچھے کھڑی رہیں اور حملہ آوروں کے تشدد کو برداشت کیا تاکہ وہ حضرت علیؑ تک نہ پہنچ سکیں۔

2. مسجد میں عزت کے ساتھ موجودگی

آپؑ نے مسجد میں وقار کے ساتھ خطبہ فدکیہ پیش کیا تاکہ حق و باطل کی تفریق واضح ہو، اور حضرت علیؑ کی عظمت و ولایت پر ہونے والے حملوں کو بے نقاب کیا۔

3. اصحاب کی یاد دہانی

آپؑ نے صحابہ کے گھروں پر جا کر واقعہ غدیر اور خلافت پر غاصبانہ قبضے کی یاد دہانی کرائی تاکہ انحرافات کو واضح کیا جا سکے اور حق کی حمایت کی جا سکے۔

استقامتِ رسانه ای

1. حضرت زہراؑ کے مسلسل آنسو

آپؑ نے اپنے گریہ کو ایک مزاحمتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ یہ گریہ انحرافات اور ولایت کے خلاف ہونے والے مظالم کو ظاہر کرنے کے لیے تھا تاکہ معاشرے کے ضمیر کو بیدار کیا جا سکے۔

2. گریہ کے مقام کی تبدیلی

جب دشمنوں نے اس گریہ سے خوف محسوس کیا، تو آپؑ نے اپنے گریہ کے مقام کو شہر سے باہر منتقل کیا، جس سے آپؑ کی تحریک کی تاریخ میں گہری تاثیر اور استحکام پیدا ہوا۔

ثقافتی استقامت

1. انحرافات کے خلاف مزاحمت

حضرت زہراؑ نے معاشرے میں ہونے والے انحرافات کو نمایاں کیا، حق و باطل کے درمیان فرق واضح کیا اور منافقین کے چہرے بے نقاب کیے۔

2. خطبہ فدکیہ میں منافقین کی رسوائی

آپؑ نے خطبہ فدکیہ کے ذریعے خلافت پر قبضہ کرنے والے سقیفہ سازوں کی نااہلی، دین سے انحراف، اور امت مسلمہ کے لیے ان کی عدم لیاقت کو ثابت کیا۔

3. فدک کا غصب اور دین کا انحراف

آپؑ نے فدک کے غصب کو سامنے لا کر ان کی ظالمانہ سیاست کو بے نقاب کیا اور امت کے سامنے واضح کیا کہ دین کو کس طرح انحراف کی راہ پر ڈالا جا رہا ہے۔

تمدنی اور تاریخی استقامت

1. منافقت کا پردہ فاش

آپؑ نے اپنے خطبات اور گفتگو کے ذریعے منافقین کو بے نقاب کیا اور ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کی جو سقیفہ کے دباؤ اور خوف کے ماحول میں حق کا ساتھ دینے سے قاصر تھے۔

2. خفیہ تدفین اور قبر کی گمنامی

حضرت زہراؑ کی تدفین اور قبر کو مخفی رکھنا ایک واضح پیغام تھا، جس نے امت کے لیے سوالیہ نشان پیدا کیا کہ نبیؐ کی بیٹی کو کیوں گمنامی میں دفن کیا گیا؟ یہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک استعارہ بن گیا کہ حق کے ساتھ کیسا ظلم ہوا۔

قیامت تک مزاحمت کا تسلسل

حضرت زہراؑ کی استقامت نے مزاحمت کے ایک دائمی اصول کو جنم دیا، جو قیامت تک بیدار ضمیروں کے لیے رہنمائی کرتا رہے گا اور ہر دور میں حق و باطل کی تفریق کو نمایاں کرتا رہے گا۔


[1] روزنامه همشری،شماره 66 جمعه 25 آبان 1403، 13 جمادی الاول 1446