سعید اور پروفائل

🔰 *سعید اور پروفائل*

میں ایک نوجوان تھا جو برسوں اپنی بد اعمالیوں سے امام زمانہ (عج) کے دل کو دکھ پہنچاتا رہا۔ میں اپنی فیملی کے لیے بھی کوئی خیر نہ تھا۔ سارا وقت غلط دوستوں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں ضائع کرتا۔ رات بھر جاگتا اور دن چڑھے سوتا۔ جب سوشل میڈیا اور موبائل کا دور آیا تو میں بھی اس گناہ اور بربادی کے دلدل میں ڈوب گیا۔

اگر قیامت کے دن میرا موبائل میرے اعمال کی گواہی دے، تو مجھے تو جہنم میں بھی جگہ نہ ملے۔

پھر ایک دن ایک چیٹ گروپ میں ایک صاحب دینی پوسٹس شیئر کر رہے تھے، ان کی باتیں میرے لیے دلچسپ تھیں۔ میں ان کے پرائیویٹ چیٹ میں گیا، اور حسبِ عادت ان کی پروفائل تصویر کو غور سے دیکھا۔ وہ ایک شہید کی تصویر تھی، جو خون میں لت پت تھا، ہاتھ اور پاؤں نہیں تھے، سر پر ترکش لگا ہوا تھا اور گرم ریت پر گرا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ دو بچوں کی تصویر تھی، غالباً اس کے بچے تھے۔ نیچے لکھا تھا:

"میں جا رہا ہوں تاکہ ہمارے جوانوں کی غیرت اور حیاء باقی رہے۔"

میرے آنسو بہنے لگے۔ دل ٹوٹ گیا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں رو رہا ہوں، میں جو گناہوں اور خواہشات میں ڈوبا ہوا تھا، بے غیرت، بے حیا، آنکھوں سے فحش دیکھنے والا...

اسی دن سے مجھے گناہ، بدحجابی، سوشل میڈیا اور برے دوستوں سے نفرت ہو گئی۔ دل کسی کام کو نہیں چاہتا تھا۔ موبائل تک اٹھانا چھوڑ دیا۔ میں نے پہلی بار مسجد جانے کا فیصلہ کیا۔

پہلی نماز پڑھی، غلط پڑھی مگر ایک عجیب روحانی سکون ملا، جو برسوں سوشل میڈیا پر تلاش کیا مگر نہیں ملا۔

امام جماعت سے مدد مانگی، انہوں نے باپ کی طرح سب کچھ سکھایا۔ نماز، قرآن، احکام، سیرتِ ائمہ... کتابیں لے کر دیتے، مجھے مسجد کی سرگرمیوں میں شامل کرتے۔ محلے میں عزت ملنے لگی۔ ایک دن ایک دوست کے ذریعے حضرت معصومہ (س) کے حرم میں خادم کے طور پر بھیجا گیا۔

اربعین کے قریب ایک بزرگ خادم نے کہا: "دل چاہتا ہے کربلا جاؤں، مگر نہیں جا سکتا، کیا تم میری طرف سے جا سکتے ہو؟" انہوں نے خرچہ اور معاوضہ بھی دینے کا کہا۔ میری زبان بند ہو گئی، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ میں اور کربلا؟ زیارت امام حسین؟ قبول کر لیا اور عجیب کیفیت میں کربلا روانہ ہوا۔

واپسی پر فیصلہ کیا کہ حوزہ علمیہ جاؤں، مگر خاندان اور دوستوں نے مخالفت کی۔ لیکن میرے باپ، جو دین سے دور تھے، انہوں نے اجازت دی۔ حوزہ میں داخلہ ملا، دینی کتابوں سے انس پیدا ہوا۔ تبلیغ دین بھی کرتا، اور اپنے پرانے برے دوستوں کو بھی اللہ کی طرف لے آیا۔

ایک دن گھر آیا، والدین رو رہے تھے۔ میں بھی رو پڑا، کبھی باپ کو روتے نہ دیکھا تھا۔ پوچھا: "بابا کیا ہوا؟" بولے:

"بیٹا ہم نے ایک ہی خواب دیکھا: تمہیں نورانی سواری پر جنت کی طرف لے جایا جا رہا تھا، اور ہمیں جہنم۔ ہم نے تم سے کہا تم جاؤ، تم نے کہا: پہلے میرے والدین جنت میں جائیں گے، پھر میں۔ ایک نورانی شخصیت آئی اور کہا: 'سعید! یہاں انہیں نماز سکھاؤ، پھر سب ساتھ جنت جائیں گے۔' تم وہیں ہمیں نماز سکھا رہے تھے۔"

پھر کہا: "بیٹا، تم بہت بدل گئے ہو، تم ہماری عزت ہو، ہم تمہارے لیے شرمندہ ہیں۔ کیا تم ہمیں بھی دین سکھا سکتے ہو؟" میں نے انہیں نماز، قرآن سکھایا۔ اور وہ دین دار ہو گئے۔

چند ماہ بعد میری منگنی ایک ۱۵ سالہ لڑکی سے ہو گئی۔ ایک دن ان کے گھر میں وہی شہید کی تصویر دیکھی، جو پروفائل پر تھی۔ رونا شروع کر دیا۔ بیوی نے پوچھا: "سعید، کیا ہوا؟ کیا آپ اس تصویر والے کو جانتے ہیں؟" میں نے سارا واقعہ بتایا۔ وہ اور اس کی ماں بھی رو پڑیں۔

ساس بولیں: "پتا ہے یہ شہید کون ہے؟ یہ میرے والد ہیں۔" میں دنگ رہ گیا، روتا ہی رہا۔ وہی شہید جس نے میری ہدایت کی، آخرکار اپنی بیٹی میری بیوی بنا دی۔

چند ماہ بعد دوستوں کے ساتھ مدافعینِ حرم میں نام لکھوایا۔ گرمیوں میں جب حوزہ بند ہوا، ہم روانہ ہوئے۔ میری بیوی حاملہ تھی، روتے ہوئے بولی: "نہ تنخواہ ہے، نہ فائدہ، کیوں جا رہے ہو؟" میں نے وہی جملہ دہرایا:

"میں جا رہا ہوں تاکہ ایران کے جوانوں کی غیرت اور حیاء باقی رہے..."

ہم جو کچھ بھی ہیں شہداء کی بدولت ہیں، شک نہ کریں۔ شہداء دعائیں قبول کرواتے ہیں، ہمیں دیکھ رہے ہیں اور ہماری حالت سے واقف ہیں۔ ہدایت مانگیں، ان سے کہیں کہ ہمیں تھام لیں۔

خدا کو ہماری دعوت میں بلاؤ

🙏 *خدا کو ہماری دعوت میں بلاؤ*

ایک دن کچھ بچے کھیل رہے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ‌السلام وہاں سے گزرے۔ ایک بچے نے کہا: "موسیٰ! ہم دعوت کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کو بھی بلانا چاہتے ہیں۔ اللہ سے کہو کہ وہ ہماری دعوت میں شریک ہو۔"

موسیٰ علیہ‌السلام نے فرمایا: "میں کہہ دوں گا، مگر نہیں جانتا کہ اللہ قبول کرے گا یا نہیں۔"

جب موسیٰ علیہ‌السلام کوہِ طور پر گئے تو انہوں نے بچوں کی درخواست کا ذکر نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "موسیٰ! کیا تم کوئی بات بھول نہیں گئے؟"

تب موسیٰ علیہ‌السلام کو بچوں سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا اور انہوں نے ان کی خواہش بیان کی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "کل اپنی قوم کو جمع کرو اور کہو کہ دعوت کا انتظام کریں، میں ضرور آؤں گا۔"

لوگوں نے دعوت کا انتظام کیا، کھانے تیار کیے اور اللہ کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔

دوپہر کے وقت ایک فقیر دروازے پر آیا اور کھانے کا سوال کیا، مگر اسے جھڑک کر بھگا دیا گیا۔ لوگ انتظار کرتے رہے کہ اللہ کب آئے گا، مگر کوئی نہ آیا۔

جب اللہ کا انتظار کرتے کرتے وقت گزر گیا تو لوگوں نے موسیٰ علیہ‌السلام سے شکوہ کیا کہ اللہ نے وعدہ پورا نہیں کیا۔

موسیٰ علیہ‌السلام اللہ سے پوچھنے گئے کہ وہ کیوں نہ آیا؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میں آیا تھا، مگر کسی نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں اسی فقیر کے روپ میں تمہارے پاس آیا تھا، لیکن تم نے مجھے ٹھکرا دیا۔"

(مأخذ: کتابِ مقدس تورات)

اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ‌السلام سے فرمایا:

"اے داؤد! اگر تم کسی بکھرے حال فقیر کو دیکھو، تو اس کی صحبت کو غنیمت جانو اور اسے عزت دو، کیونکہ وہ ہماری طرف سے تم سے ہم کلام ہوتا ہے۔"

بہلول کا حمام جانا

✅ *بہلول کا حمام جانا*

✍ ایک دن بہلول حمام گیا، لیکن حمام کے خادموں نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی اور جس طرح بہلول چاہتا تھا، ویسے اسے نہیں نہلایا۔ بہلول نے اس کے باوجود جب حمام سے نکلنے لگا تو حمام کے مالک کو دس دینار دے دیے۔ کام کرنے والوں نے جب یہ سخاوت دیکھی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے بہلول کے ساتھ بے توجہی کیوں برتی۔

اگلے ہفتے جب بہلول دوبارہ حمام آیا تو سب کارندے بہت عزت و احترام کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرنے لگے، خوب اہتمام سے نہلایا اور پوری توجہ دی۔ مگر جب بہلول حمام سے باہر آیا، تو اس نے صرف ایک دینار دیا۔

حمامی حیران ہو کر بولے: "یہ کیا ماجرا ہے؟ پچھلے ہفتے بلا وجہ اتنی بخشش کی، اور آج جب ہم نے پوری خدمت کی تو اتنا کم انعام دیا؟"

بہلول نے مسکراتے ہوئے کہا: "پچھلے ہفتے کی خدمت کا معاوضہ آج ادا کر رہا ہوں، اور آج کی خدمت کا معاوضہ پچھلے ہفتے دیا تھا۔ تاکہ تم سب سبق سیکھو اور اپنے گاہکوں کی ہمیشہ عزت کیا کرو۔"

گھر میں میاں بیوی کی ظاہری آراستگی اور مناسب لباس

✨بسم اللہ الرحمن الرحیم✨

*گھر میں میاں بیوی کی ظاہری آراستگی اور مناسب لباس*

ابوخالد کابلی، جو امام سجاد علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے، روایت کرتے ہیں کہ:

یحیی ابن ام طویل نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں لے گیا۔ میں نے دیکھا کہ امام علیہ السلام ایک شاندار فرش پر بیٹھے ہیں اور قیمتی لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ کچھ دیر بعد جب ہم وہاں سے اٹھے تو امام علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:

"کل دوبارہ میرے پاس آنا!"

جب ہم باہر نکلے تو میں نے یحیی کو ملامت کرتے ہوئے کہا:

"تم مجھے ایسے شخص کے پاس لے گئے جو پرزرق و برق لباس پہنتا ہے!"

یہ سوچ کر میں نے فیصلہ کر لیا کہ دوبارہ امام کے پاس نہیں جاؤں گا۔

لیکن اگلے دن میں نے خود سے کہا کہ جانے میں کوئی نقصان نہیں، اس لیے میں دوبارہ ان کے گھر گیا۔ میں نے دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا تھا، لیکن وہاں کوئی نظر نہیں آ رہا تھا، تو میں واپس جانے لگا۔

اسی لمحے امام علیہ السلام نے گھر کے اندر سے میرا نام لے کر آواز دی:

"اے کنکر، اندر آ جاؤ!"

یہ وہ نام تھا جس سے میری ماں مجھے بلاتی تھی اور اس نام کا علم میرے سوا کسی کو نہیں تھا!

جب میں اندر گیا تو دیکھا کہ گھر کی دیواریں کچی مٹی کی بنی ہوئی ہیں، امام علیہ السلام کھجور کے پتوں کی چٹائی پر بیٹھے ہیں اور سادہ کپڑے (کرباس) پہنے ہوئے ہیں۔ یحیی بھی وہیں موجود تھا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

"اے ابوخالد! میں شادی کے قریب ہوں، اور جو کچھ تم نے کل دیکھا وہ عورتوں کی خواہش تھی، اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کی مرضی کے خلاف جاؤں۔"

(بحار الانوار، ج 46، ص 105-106)

پہلا دن دیکھنے کا

😎 *پہلا دن دیکھنے کا*

ایک بزرگ شخص اپنے 25 سالہ بیٹے کے ساتھ ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ جیسے ہی ٹرین نے حرکت شروع کی، نوجوان بیٹا جو کھڑکی کے قریب بیٹھا تھا، جوش و خروش سے بھر گیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا اور ہوا کو محسوس کرتے ہوئے خوشی سے چلایا:

"ابو دیکھیں! درخت حرکت کر رہے ہیں!"

بوڑھے والد نے مسکراتے ہوئے بیٹے کے جوش کو سراہا۔

وہاں قریب ہی ایک نوجوان جوڑا بیٹھا تھا، جو ان کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ حیران تھے کہ 25 سالہ نوجوان ایک 5 سالہ بچے کی طرح برتاؤ کر رہا ہے۔

اچانک وہ نوجوان دوبارہ پرجوش ہو کر بولا:

"ابو دیکھیں! جھیل، جانور اور بادل ٹرین کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں!"

وہ جوڑا حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد بارش ہونے لگی۔ چند قطرے اس نوجوان کے ہاتھ پر گرے، اس نے خوشی سے انہیں محسوس کیا، آنکھیں بند کیں اور خوشی سے چلایا:

"ابو دیکھیں! بارش ہو رہی ہے، پانی مجھ پر گر رہا ہے!"

نوجوان جوڑے سے مزید برداشت نہ ہوا، وہ بزرگ شخص سے مخاطب ہو کر بولے:

"آپ اپنے بیٹے کا علاج کسی ڈاکٹر سے کیوں نہیں کرواتے؟"

بزرگ شخص نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:

"ہم ابھی اسپتال سے واپس آ رہے ہیں۔ آج میری بیٹے کی زندگی کا پہلا دن ہے جب وہ دیکھ سکتا ہے!"