گھر میں میاں بیوی کی ظاہری آراستگی اور مناسب لباس
✨بسم اللہ الرحمن الرحیم✨
*گھر میں میاں بیوی کی ظاہری آراستگی اور مناسب لباس*
ابوخالد کابلی، جو امام سجاد علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے، روایت کرتے ہیں کہ:
یحیی ابن ام طویل نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں لے گیا۔ میں نے دیکھا کہ امام علیہ السلام ایک شاندار فرش پر بیٹھے ہیں اور قیمتی لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ کچھ دیر بعد جب ہم وہاں سے اٹھے تو امام علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:
"کل دوبارہ میرے پاس آنا!"
جب ہم باہر نکلے تو میں نے یحیی کو ملامت کرتے ہوئے کہا:
"تم مجھے ایسے شخص کے پاس لے گئے جو پرزرق و برق لباس پہنتا ہے!"
یہ سوچ کر میں نے فیصلہ کر لیا کہ دوبارہ امام کے پاس نہیں جاؤں گا۔
لیکن اگلے دن میں نے خود سے کہا کہ جانے میں کوئی نقصان نہیں، اس لیے میں دوبارہ ان کے گھر گیا۔ میں نے دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا تھا، لیکن وہاں کوئی نظر نہیں آ رہا تھا، تو میں واپس جانے لگا۔
اسی لمحے امام علیہ السلام نے گھر کے اندر سے میرا نام لے کر آواز دی:
"اے کنکر، اندر آ جاؤ!"
یہ وہ نام تھا جس سے میری ماں مجھے بلاتی تھی اور اس نام کا علم میرے سوا کسی کو نہیں تھا!
جب میں اندر گیا تو دیکھا کہ گھر کی دیواریں کچی مٹی کی بنی ہوئی ہیں، امام علیہ السلام کھجور کے پتوں کی چٹائی پر بیٹھے ہیں اور سادہ کپڑے (کرباس) پہنے ہوئے ہیں۔ یحیی بھی وہیں موجود تھا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
"اے ابوخالد! میں شادی کے قریب ہوں، اور جو کچھ تم نے کل دیکھا وہ عورتوں کی خواہش تھی، اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کی مرضی کے خلاف جاؤں۔"
(بحار الانوار، ج 46، ص 105-106)
حجت الاسلام والمسلمین سید احمد رضوی