🙏 *خدا کو ہماری دعوت میں بلاؤ*

ایک دن کچھ بچے کھیل رہے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ‌السلام وہاں سے گزرے۔ ایک بچے نے کہا: "موسیٰ! ہم دعوت کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کو بھی بلانا چاہتے ہیں۔ اللہ سے کہو کہ وہ ہماری دعوت میں شریک ہو۔"

موسیٰ علیہ‌السلام نے فرمایا: "میں کہہ دوں گا، مگر نہیں جانتا کہ اللہ قبول کرے گا یا نہیں۔"

جب موسیٰ علیہ‌السلام کوہِ طور پر گئے تو انہوں نے بچوں کی درخواست کا ذکر نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "موسیٰ! کیا تم کوئی بات بھول نہیں گئے؟"

تب موسیٰ علیہ‌السلام کو بچوں سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا اور انہوں نے ان کی خواہش بیان کی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "کل اپنی قوم کو جمع کرو اور کہو کہ دعوت کا انتظام کریں، میں ضرور آؤں گا۔"

لوگوں نے دعوت کا انتظام کیا، کھانے تیار کیے اور اللہ کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔

دوپہر کے وقت ایک فقیر دروازے پر آیا اور کھانے کا سوال کیا، مگر اسے جھڑک کر بھگا دیا گیا۔ لوگ انتظار کرتے رہے کہ اللہ کب آئے گا، مگر کوئی نہ آیا۔

جب اللہ کا انتظار کرتے کرتے وقت گزر گیا تو لوگوں نے موسیٰ علیہ‌السلام سے شکوہ کیا کہ اللہ نے وعدہ پورا نہیں کیا۔

موسیٰ علیہ‌السلام اللہ سے پوچھنے گئے کہ وہ کیوں نہ آیا؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میں آیا تھا، مگر کسی نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں اسی فقیر کے روپ میں تمہارے پاس آیا تھا، لیکن تم نے مجھے ٹھکرا دیا۔"

(مأخذ: کتابِ مقدس تورات)

اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ‌السلام سے فرمایا:

"اے داؤد! اگر تم کسی بکھرے حال فقیر کو دیکھو، تو اس کی صحبت کو غنیمت جانو اور اسے عزت دو، کیونکہ وہ ہماری طرف سے تم سے ہم کلام ہوتا ہے۔"